Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»سوشل میڈیا کو محفوظ و پر امن بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں
    رواں تبصرے

    سوشل میڈیا کو محفوظ و پر امن بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 18, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اتوار کی رات دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نوجوان بلاگر کو قتل کردیا گیا۔ ان کے قتل کی خبر پاکستان میں پچھلے چوبیس گھنٹے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ رہی، اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ ان کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔

    ان کے قتل کی وجوہات کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ سبب جو بھی ہو اس واقعہ میں سوشل میڈیا کا کردار واضح ہے۔ لہذا  اس نکتے پر غور ضروری ہے کہ پاکستان میں سماجی روابط کے ذرائع ایسا میدان کیوں بنتے جا رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو قتل تک کرنے کے لیے آمادہ بیٹھے ہیں۔ ملک میں پچھلے چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا پوسٹوں کی وجہ سے قتل کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ یہاں ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو لوگوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کا سبب بنتی ہے اور تصادم کو فروغ دیتی ہے۔

    سوشل میڈیا کا غلط وغیرمجاز استعمال پوری دنیا میں ہوتا ہے لیکن اس کے سدباب کے لیے کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں سائبر کرائم قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدآمد نہیں ہے۔ پچھلی حکومت میں فیس بک کمپنی کے نائب سربراہ نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی تھی اور اس پر اتفاق کیا گیا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے نفرت انگیز مواد کو زائل کیا جائے گا۔ اسی طرح موجودہ حکومت نے  بھی فروری میں اصلاحات متعارف کرائی تھیں، لیکن ابھی تک عمل نہ ہوسکا۔

    پاکستان میں مین اسٹریم  میڈیا بھی کچھ آئیڈیل نہیں لیکن سوشل میڈیا انتہائی غیرمحتاط ہے۔ یہاں پارلیمنٹ کے اراکین سیاستدان بھی بسااوقات نازیبا زبان استعمال کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ بن گئی ہے جہاں کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ حتی کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسی 64 تنظیمیں ہیں جنہیں حکومت نے کالعدم قرار دے رکھا رہے، ان میں سے 41  جماعتیں سوشل میڈیا پر سینکڑوں پیجز رکھتی ہیں اور بہت زیادہ فعال ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تمام ممالک میں ان ذرائع کو پرامن بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور تعاون کرتی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدہ لے اور ان کے اشتراک کے ساتھ سوشل میڈیا کو محفوظ و پرامن بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleخواتین کے لئے آسان سفری سہولیات کیوں ضروری ہیں؟
    Next Article ’’یہ دنیا میں جہنم ہے‘‘ وہ جیل جہاں محمد مرسی کو رکھا گیا تھا
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by