Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»اپوزیشن کے مابین باہمی اعتماد کا فقدان ہے؟
    رواں تبصرے

    اپوزیشن کے مابین باہمی اعتماد کا فقدان ہے؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 11, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سوموار کی شام نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ عدالت کے فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی کے راہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار کرلیا۔ جبکہ آج دوپہر لاہور ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت کی درخواست واپس لیے جانے کے بعد پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بھی احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جواب میں بلاول بھٹو نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے اور مریم نواز نے ان گرفتاریوں کو معاشی سروے اور بجٹ جیسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا۔

    حزب اختلاف کی جماعتوں نے رمضان میں اعلان کیا تھا کہ وہ عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا آغاز کریں گی، لیکن اس سے قبل ہی نیب نے آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا، اور آج حمزہ شہباز کو بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ اب جبکہ ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو سزا ہوگئی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ حکمران جماعت پر اس لیے بھی دباؤ زیادہ بڑھے گا کہ آج نئے سال کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے جوحکومت کی اپنی معاشی سروے رپورٹ کے مطابق یقینا حوصلہ افزا نہیں ہوگا۔ بیک وقت کئی مسائل کا انبار لگانا حکومت کی ساکھ کو مزید کمزور کرتا جائے گا۔

    حکومتی اقدامات منصوبہ بند اور منظم نہیں ہیں اور اپوزیشن بھی کوئی ٹھوس موقف یا قابل عمل پالیسی نہیں رکھتی، اس کے مابین اب تک  اتفاقِ رائے کا مظاہرہ  کہیں نظر نہیں آیا۔ اپوزیشن بظاہر انتہائی مضبوط حیثیت رکھتی ہے اور تجربہ کار بھی ہے لیکن اس کے باوجود پچھلے سارے عرصہ میں جس طرح کی کارکردگی دکھائی گئی اور جیسا ردعمل دیا گیا اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ شدید کنفیوژن کا شکار ہے اور وجہ اس کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتی کہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ جبکہ حکومت کی متضاد و متزلزل پالیسیوں کا سبب یہ ہے کہ وہ فیصلہ کن اختیارات نہیں رکھتی۔ اس طرح یہ منظرنامہ زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوجاتا ہے کہ دونوں دھڑے ایک دوسرے کو زیر کرنا چاہتے ہیں اور دونوں کمزور بھی ہیں۔ دونوں ایک ایسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جو خود ہی ایک دوسرے پر مسلط کر رکھی ہے۔ پورے سیاسی نظم پر چھائی ہوئی اس دھندلاہٹ اور غیریقینی کی ملکی معیشت اور عوام کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاستدانوں کے درمیان بات چیت کا کوئی ذریعہ اور چینل بھی موجود نہیں۔ نوازشریف کے بعد آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری پر اپوزیشن کا ممکنہ سخت و جذباتی ردعمل اور حکمران جماعت کی کوئی بھی بے احتیاطی ملکی وعوامی مفادات پر ضرب ثابت ہوگی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایران: صبح انقلاب سےشامِ امروز تک
    Next Article پاک افغان تعلقات، سُلگتا ہوا ماضی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by