Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»کیا پی ٹی ایم اور مدارس کا مسئلہ حل ہونے کو ہے؟
    رواں تبصرے

    کیا پی ٹی ایم اور مدارس کا مسئلہ حل ہونے کو ہے؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 29, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے آج ریس ریلیز کے دوران کہا ہے کہ حکومت نے مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے پختون تحفظ تحریک کے بارے بات کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پی ٹی ایم کو جتنی چھوٹ لینی تھی لے لی۔ اس کا وقت ختم ہوگیا۔ انہوں نے تحریک کے راہنماؤں پر افغانستان اور بھارت کے ساتھ خفیہ رابطوں کا الزام بھی عائد کیا۔

    مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے اور اس کے نصاب پر نظرثانی کا فیصلہ اچھا اقدام ہے۔ اگرچہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہی ایسا کوئی پالیسی بیان جاری کرے۔ لیکن فوج کی طرف سے یہ بیان آنے کی بظاہر یہ وجہ ہوسکتی ہے تاکہ مذہبی طبقے کی طرف سے سخت ردعمل سامنے نہ آسکے۔ اس بات کا امکان البتہ موجود ہے کہ تمام مدارس، خصوصا دیوبندی مسلک اس فیصلہ کو تسلیم نہ کرے، جیساکہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اسے مسترد کرتے ہیں۔ لیکن دیگر مسالک کی جانب سے اس فیصلہ کو تسلیم کیے جانے کے بعد کوئی اختلاف خاص وزن نہیں رکھے گا۔ یہ فیصلہ بہرحال اہم ہے لیکن اس بات کا طے ہونا ابھی باقی ہے کہ اصلاحات کی نوعیت کیا ہوگی اور وہ کتنی سُودمند ثابت ہوں گی۔

    پریس ریلیز کا دوسرا اہم موضوع پی ٹی ایم تھا۔ اس پس منظر میں کہ جب چند دن قبل ملک کے وزیراعظم نے وزیرستان میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم جو باتیں کرتی ہے میں بھی ہمیشہ سے وہی کرتا آیا ہوں۔ آج اسی تحریک کو ریاست مخالف کہہ دینے سے یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا وزیراعظم نے درست بات کی تھی یا نہیں؟  ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو الزامات عائد کیے ہیں اگر وہ ثابت ہوسکتے ہیں تو اس پر قانون کے مطابق کاروائی کرنی ضروری ہے۔ لیکن اس کی بنیاد پر قبائلی پختونوں کے حقیقی مسائل کو  نظرانداز کر دینے اور ساری تحریک کو مشکوک بنا کر اس کے خلاف سخت لہجہ استعمال کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح کے لہجہ کا استعمال پہلے کئی بار کیا جاچکا ہے جس کے نقصانات برآمد ہوئے۔ ریاست اگر فریق نہیں ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور مسائل کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں شناخت پسند سیاست کے رجحانات
    Next Article قطر خلیج بحران کے اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by