Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»بیلٹ اینڈ روڈ فورم : ’’چین استعماری عزائم نہیں رکھتا‘‘
    رواں تبصرے

    بیلٹ اینڈ روڈ فورم : ’’چین استعماری عزائم نہیں رکھتا‘‘

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 28, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے زیراہتمام بیجنگ میں منعقد ہونے والے تین روزہ اجلاس میں چالیس کے قریب ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس کا مقصد چین کی طرف سے منصوبے پر بات چیت، اس کی تشہیر اور اس کے متعلق پائے جانے والے شکوک وشبہات کو دُور کرنا تھا۔ 2017 میں اِس فورم کے تحت ہونے ہولے پہلے اجلاس میں 29 ممالک نے شرکت کی تھی، جبکہ اِس سال یہ تعداد بڑھ کر 37 تک ہوچکی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تحت چین 2013 سے اب تک 80 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ اور منصوبے کا حصہ بننے والے ترقی پذیر ممالک کو 175 سے 265 بلین یورو کے قرضے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

    اس منصوبے میں شامل اکثریت ترقی پذیر ممالک کی ہے لیکن آہستہ آہستہ مضبوط ملک بھی اس کا حصہ بن رہے ہیں۔ یورپ وامریکا کو  اس پر تحفظات ہیں اس لیے وہ ابھی تک اس کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ البتہ اٹلی جو ترقی یافتہ یورپی ملک اور گروپ آف سیون کا رکن بھی ہے وہ اس منصوبہ میں شامل ہوگیا ہے۔ اٹلی کے صدر نے گزشتہ ماہ چینی صدر کے اٹلی دورہ کے موقع پر اس کا اعلان کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان 2.8 بلین کے تجارتی معاہدے بھی ہوئے۔ سوئٹزرلینڈ نے اگرچہ اس کا حصہ بننے کی آمادگی ظاہر نہیں کی ہے لیکن اس کے سربراہ نے فورم میں شرکت کی ہے۔ جبکہ یورپ کے بعض دیگر ممالک کی جانب سے وزراء کی نمائندگی موجود تھی جس میں فرانس  کے وزیرخارجہ بھی شامل ہیں۔ اہم عرب شخصیات میں امارات کے محمد بن راشد اور مصر کے عبدالفتاح سیسی نمایاں تھے۔ 15 اور 16 اپریل کو چائنا عرب فورم آن ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیراہتمام  بیجنگ میں منعقد ہونے والی  کانفرنس میں 17 عرب ممالک بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ بننے پر آمادگی کا اظہارکرچکے ہیں۔

    فورم میں چینی صدر نے اپنے خطاب میں ان تمام اعتراضات کے جواب دیے جو اس منصوبے پر اٹھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہم شفافیت کے ساتھ کام کریں گے۔ اس منصوبہ میں یہ صلاحیت ہے کہ آگے چل سکے۔ انہوں نے اس تأثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ چین کے کوئی استعماری عزائم ہیں یا وہ کمزور ممالک کو مقروض کرکے ان کے وسائل پر اجارہ داری چاہتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اجلاس میں تقریر کی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں اورغربت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بڑے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ تعلق کے نئے مرحلہ میں داخل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر چین کے ساتھ زراعت اور تعلیم کے شعبہ میں باہمی تعاون کی خواہش بھی اظہارکیا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleگلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ متأثر ہو رہا ہے
    Next Article پاکستان میں شناخت پسند سیاست کے رجحانات
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by