Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ایک وعدہ خلافی اور سہی
    رواں تبصرے

    ایک وعدہ خلافی اور سہی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 11, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علمائے اسلام نے اس ہفتے یکے یعد دیگرے یہ اعلان کیا کہ حکومت ملک میں بہتری لانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ہماری جماعتوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اس لیے اب اسے گھر جانا ہوگا۔ وزیراعظم اور حکومتی وزراء اس پر یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن احتساب سے بھاگنا چاہتی ہے، اس کے قائدین این آر او چاہتے  ہیں۔ وہ کامیاب نہیں ہونگے۔

    اپوزیشن سے مولانا فضل الرحمان الیکشن کے بعد سے حکومت کے خلاف تحریک چلائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شروع سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو بھی ساتھ شامل کرنے اور سڑکوں پر لانے کی کوشش کی لیکن ان دونوں جماعتوں نے پس وپیش کا اظہار کیا اور تحریک کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہوئیں۔ لیکن اب یہ مولانا فضل الرحمان کے موقف کی حمایتی نظر آتی ہیں۔ حکومتی احتساب کی شفافیت پر تحفظات کے باوجود اپوزیشن کا حکومت گرانے یا وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی بات کرنا کسی طور درست نہیں ہوسکتا۔ حکومت گرانے کی کوئی بھی تحریک پارلیمانی سیاسی نظم کوعوام کی نظر میں مزید غیر محترم بنادے گی اور متبادل صدارتی نظام کے لیے راستہ زیادہ آسان ہوجائے گا۔ یہ درست ہے کہ اپوزیشن کا یہ اقدام مہنگائی اور معاشی ابتری کے سبب نہیں ہے بلکہ نیب کے احتساب کی وجہ سے ہے جس پر اسے اعتماد نہیں۔ وہ اس حوالے سے پہلے پارلیمنٹ میں قوانین وضع کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے بات چیت کی دعوت ملے تو اس کا رویہ تبدیل ہوجائے گا۔ لیکن دوسری طرف وزیراعظم اپوزیشن کے ساتھ معاملات حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے ابھی تک بات چیت کے امکان کا کوئی عندیہ نہیں دیاہے۔ ہوسکتا ہے کہ عمران خان ایسا کرنے کو عوام کے ساتھ وعدہ خلافی سمجھتے ہوں۔ چونکہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے باربار دہرا چکے ہیں کہ سیاستدانوں نے کرپشن کرکے ملک کا جو پیسہ لوٹا ہے وہ اقتدار میں آنے کے بعد اسے واپس قومی خزانے میں لائیں گے۔ اس لیے انہوں نے عہد نبھانے کے لیے احتساب کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ابھی تک مسروقہ دولت واپس ملنے کی امید  بنتی نظر نہیں آتی بلکہ الٹا پارلیمانی جماعتوں کے باہم متصادم ہونے کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام دن بدن شدید ہوتا چلا جا رہا ہے جو معیشت سمیت دیگرشعبوں پر بری طرح اثرانداز ہو رہا ہے۔ خطرے کی بات یہ ہے کہ حکومتی وزراء کسی بحران کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ وزیراعظم کے رومانوی نیشنل ازم کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں ہم ایک عظیم ملک بننے جا رہے ہیں۔

    ملک میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ احتساب ضروری ہے لیکن اس ضمانت کے ساتھ کہ نتائج ثمرآور ہوں گے، ریاست کی تمام صلاحیتیں اس میں ضائع نہیں ہوجائیں گی اور کوئی عدم استحکام پیدا نہیں ہوگا۔ اس کے طریق کار اور شفافیت بارے پارلیمنٹ میں پہلے کچھ اصول و ضوابط بھی وضع کر لینے چاہییں تاکہ انصاف کا پراسس ایک منظم اور مرتب طریقے سے آگے بڑھے، چاہے اس کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ اگر وزیراعظم یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے فوری، غير منضبط اور غیر لچکدار احتساب کا وعدہ کیا تھا، تو جہاں اور کئی وعدے وفا نہیں ہوئے ملک کے داخلی سیاسی استحکام کی خاطر ایک وعدہ خلافی اور سہی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپانی کی قلت کا شکار سرائیکی خطہ
    Next Article باغِ نیلاب کی کتابی چٹانیں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by