Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پلوامہ حملہ اور بھارت  کا ردِ عمل ۔۔۔ اسباب کیا ہیں؟
    رواں تبصرے

    پلوامہ حملہ اور بھارت  کا ردِ عمل ۔۔۔ اسباب کیا ہیں؟

    حذیفہ مسعودBy حذیفہ مسعودفروری 19, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    15 فروری 2019 ، جمعرات کی سہ پہر مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں نیم فوجی دستوں پر  ہونے والے حملے میں 40  فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔  اس حملے کو گذشتہ تین دہائیوں میں کشمیر میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس حملے کی ذمہ داری پاکستان میں قائم جہادی تنظیم جیشِ محمد نے قبول کی ہے جبکہ بھارت سرکار نے پاکستان پر جیشِ محمد کی پشت پناہی  کا الزام لگاتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف براہِ راست کارروائی کرنے  کا اعلان کیا ہے۔تاہم پاکستان کی جانب سے اس حملے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر الزامات  کی بھی  مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ کشمیر میں امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔پیر کے روز پلوامہ میں ہی  بھارتی فوج کے ساتھ عسکریت پسندوں کی ایک اور جھڑپ میں ایک میجر سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اوراسی روز  بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک بیان میں کہا  کہ اب بات چیت نہیں، کارروائی ہوگی۔

    امن دشمن قوتوں کی کارروائیاں ایک طرف لیکن ہر ایسے واقعے کے بعد جنگی جنون اور باہمی نفرت کےان مظاہر  سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟حملے کے بعد نفرت کی ایک منظم مہم کشمیر سمیت پاک بھارت سماج پر کیا اثرات مرتب کرے گی؟ کیا ہم نفرتوں کے اس ماحول میں ایک پرامن مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟کیاالزام تراشی کا یہ بھارتی رویہ روا اور مناسب ہے ؟ اور کیا ایسی الزام تراشی کا موقع ہماری ریاست خود فراہم کرتی ہے؟بھارت کے ساتھ تعلقات  کی بہتری اور باہمی نفرت کے خاتمے میں ہمیشہ کیا چیز آڑے آتی ہے؟ ایسی صورتِ حال  کی  ذمہ داری  پاکستان یا بھارت میں سے کس پر عائد ہوتی ہے؟

    قارئینِ تجزیات اس بارے اپنی آرا کا اظہار اسی صفحے پر نیچے جا کر کرسکتے ہیں؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleطلاق کی شرح میں اضافہ کیوں؟
    Next Article حالیہ ادوار میں میڈیا کے بحران کی کہانی
    حذیفہ مسعود

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by