Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»سانحہ ساہیوال: کیا با اختیار اداروں کا احتساب ممکن ہے؟
    رواں تبصرے

    سانحہ ساہیوال: کیا با اختیار اداروں کا احتساب ممکن ہے؟

    حذیفہ مسعودBy حذیفہ مسعودجنوری 25, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    19 جنوری 2019 کی سہ پہر جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی میں موجود افراد پرسی ٹی ڈی اہلکاروں کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ کردی  گئی جس کے نتیجے میں میاں، بیوی، ان کی ایک بیٹی اور  دوست جو کہ گاڑی چلارہا تھا،جاں بحق ہوگئے جبکہ  بچ جانے والے تین بچے  شدید زخمی بھی ہوئے۔ واقعے کے بعد حکومتی نمائندگان اور پولیس افسران کی جانب سے متضاد اور مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آئے جس میں گاڑی کے ڈرائیور ذیشان کو دہشت گرد قرار دیا گیا  جو اطلاعات کے مطابق ڈولفن فورس کے اہلکار احتشام جاوید  کا بڑا بھائی تھا۔ انٹیلی جنس ذرائع نے بھی اعلیٰ پولیس افسر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے بیان دیا کہ ذیشان کے دہشت گردوں سے تعلقات کے شواہد ملے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اس افسوسناک واقعے میں  جاں بحق ہونے والے خاندان سے متعلق صدر، وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے افسوس کا اظہار کیا اور اس واقعے کو کھلا ظلم قرار دیا جبکہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس واقعے کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو قرار دیا۔

    خبر کے مطابق اس واقعے کی تفتیش کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیرِ اعلیٰ کو ابتدائی تفتیشی رپورٹ پیش کردی ہے جس میں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے جس کی بنا پر پانچ اعلیٰ پولیس افسران کو معطل کیا گیا ہے جبکہ  پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے ۔مزید وزیرِ قانون راجہ بشارت  نے مقتول ڈرائیور ذیشان کے حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے وقت بھی مانگا ہے۔اس افسوسنا ک واقعے پر جہاں عوام میں حکومتی  و انتظامی اداروں کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے وہاں اس واقعے نے انسداد دہشت گردی فورس  اور دیگر حساس اور سکیورٹی اداروں کی بد انتظامی سے متعلق  کئی ایک سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔

    اول تو یہ کہ اگر ذیشان اس طرح کی کسی سرگرمی میں ملوث تھا تو اس سے پہلے اس کے اہلِ خانہ یا خود اسے کسی طرح کا  کوئی قانونی نوٹس بھیجا گیا؟کیا اس کے خلاف کسی مقدمے کا اندراج  عمل میں آیا  یا اس کے خلاف ضابطے کی کسی کارروائی کا آغاز کیا گیا؟ ایک ایسا شخص جو غیر قانونی، بلکہ دہشت گردی جیسی کارروائیوں سے کسی طور منسلک رہا ہو، جیسا کہ پولیس افسران اور وزیرِ قانون کا کہنا ہے ، اس کے اہلِ خانہ میں سے کسی فرد کا کسی سکیورٹی ادارے کا ملازم ہونا  عوام میں عدمِ تحفظ کا باعث نہیں بنتا؟ اور کیا اس واقعے میں معصوم افراد کا بچوں سمیت نشا نہ بننا سی ٹی ڈی جیسے انتہائی معتبر ادارے کی اہلیت پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟اور کیا ایسے واقعات غیر ریاستی عناصر کو بدامنی کا موقع فراہم کرنے کا موجب نہیں بنتے؟

    23جنوری کوسپریم کورٹ میں خدیجہ صدیقی کیس کی سماعت کے دوارن سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’’ جرم جرم ہوتا ہے، ہائی پروفائل یا لو پروفائل نہیں‘‘ تو کیا اس ضابطے کا اطلاق با اختیار اور مقتدر اداروں پر بھی ہوگا؟ اور اس سے بھی اہم سوال جو پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامررانا نے اٹھایا ہے کہ ان اداروں کو دیے گئے لا محدود اختیارات کے بعد کیا ان کے لیے احتساب کا کوئی  موثر نظام دستیاب ہے؟

    قارئین تجزیات اس بارے اپنی آرا کا اظہار اسی صفحے پر نیچے جا کر کر سکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹدیز کے زیرِ اہتمام ”مکالمہ پاکستان“ کا انعقاد 26جنوری کو ہوگا
    Next Article اٹھتا،سنبھلتاشمالی وزیرستان
    حذیفہ مسعود

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by