Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ
    تما م آرٹیکلز

    آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ

    میگزین رپورٹBy میگزین رپورٹاکتوبر 1, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ عدالتِ عظمیٰ نے جب سنایا تو ایک بھونچال کی سی فضا پیدا ہو گئی ۔56صفحات کا یہ تفصیلی فیصلہ تو شاید چند ایک نے پڑھا مگر اس فیصلہ سے جو تعبیریں سڑکوں پر براجمان مذہبی قیادت نے نکالیں ان کی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں نے ہر منظر دھندلا کر رکھ دیا ۔ملک کے اعلیٰ ترین قاضیوں اور سپہ سالار کے خلاف جو منہ میں آیا کہہ دیا گیا ۔ تحمل اور بردباری کا درس دینے والوں نے ملک کو انارکی کے دروازے پر لا کھڑا کیا ۔ اس ساری صورتحال سے ایک بار پھر یہ واضح ہو گیا کہ متشدد رویئے ہمارے اندر کس قدر سرایت کئے ہوئے ہیں ۔آسیہ بی بی کیس خالصتاً ایک قانونی مسئلہ تھا ۔عدالت اگر دستیاب شواہد سے مطمئن نہ ہو تو محض خواہش کی بنا پر کسی ملزم کو لٹکا سکتی ہے ؟اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے بہت سے لوگ ذاتی دشمنی کی خاطر مخالفین پر شعارِ اسلام کی توہین کا کیس دائر کر دیتے ہیں ۔پچھلے تیس سالوں کے دوران اس قانون کے تحت 1549کیس رجسٹر کئے گئے جن میں سے 720کیس مسلمانوں کے خلاف ، 516احمدیوں ،238مسیحوں اور31ہندؤں کے خلاف درج ہوئے جبکہ 75افراد کو عدالتی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا ۔جن میں سے 39مسلمان، 23مسیحی ،9احمدی اور دو ہندو شامل تھے ۔سب سے زیادہ کیس پنجاب میں 1138،سندھ میں330، خیبرپختونخواہ میں38،وفاقی دارلحکومت میں21،بلوچستان میں9اورآزاد جموں و کشمیرمیں6کیس درج ہوئے ۔ ان اعدادو شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست اور مذہبی طبقے کے درمیان اس مسئلے پر مسلسل ایک مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ا س قانون کے حوالے سے پایا جانے والا ابہام ختم ہو جائے اور ہر صورت اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ کوئی بے گناہ اس قانون کی بھینٹ نہ چڑھے اور نہ ہی اس حوالے سے فیصلے سڑکوں پر ہوں ۔اگرچہ اس حوالے سے مشرف دور میں بھی کوششیں کی گئیں کہ شعارِ اسلام کی توہین کے حوالے سے کیسوں کی حساسیت کے پیشِ نظر اس کے اندراج کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے ۔اس قانون کے حوالے سے انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا بھی پاکستان پر دباؤ رہا ہے اور پاکستان کو مذہبی آزادیوں کے حوالے سے انڈیکس میں دنیا کے ان دس ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں اقلیتوں کو شدید خطرات ہیں ۔پاکستان کی 3.79فیصد آبادی غیر مسلم ہے جن میں ہندو اور مسیحی بڑی اقلیتیں ہیں ۔اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے کئی چیلنجز درپیش ہیں لیکن یہ ساری بحث اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر جاتی ہے جب آسیہ بی بی جیسے کیس سامنے آتے ہیں ۔اس صورتحال کا سامنا ریاست کو پہلی بار نہیں کرنا پڑا مگر ریاست نے مستقبل کے حوالے سے کوئی پیش بندی نہیں کی ۔اب بھی ضرورت ا س امر کی ہے کہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی جامع حکمتِ عملی سامنے آئے جن میں ایک طرف قوانین کے سقم کو دور کیا جائے تاکہ کسی کے خلاف 295سی کا مقدمہ اسی وقت درج ہو جب اس کے خلاف تمام تر ثبوت موجود ہوں اور اس بات کا یقین بھی کر لیا جائے کہ مدعی کسی ذاتی مخاصمت کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہا ۔ریاست اس حوالے سے مذہبی قوتوں کے ساتھ روابط بڑھائے ان کے ساتھ مکالمے کو وسیع کیا جائے ۔اس مقصد کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل یا پارلیمنٹ کی’’ کمیٹی آن دی ہول ‘‘جیسے آئینی آپشن بھی موجود ہیں جن کے تحت ریاست ان قوتوں کے ساتھ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی مکالمہ کر سکتی ہے جن کی نمائندگی پارلیمنٹ میں نہیں ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجدید معاشرہ اور ہمارا دینی تعلیم کا نظام
    Next Article مہاجرت اور تبدیلی
    میگزین رپورٹ

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by