Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»آسیہ بی بی کی بریت: احتجاج اورتحریک لبیک پاکستان کے ساتھ معاہدے کے مضمرات
    تما م آرٹیکلز

    آسیہ بی بی کی بریت: احتجاج اورتحریک لبیک پاکستان کے ساتھ معاہدے کے مضمرات

    سرتاج خانBy سرتاج خاننومبر 6, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سپریم کورٹ کی طرف سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی توہین رسالت کے الزام سے بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں نے احتجاج کیا۔ احتجاج تین دن جاری رہا۔ عدالت کاموقف تھاکہ آسیہ بی بی کے خلاف  گستاخی کا الزام ثابت نہیں ہوا۔ اس لئے چیف جسٹس کے مطابق انہوں نے قانون کوسامنے رکھ کرعدل کے مطابق فیصلہ کیاہے جس کے مطابق خاتون آسیہ بی بی کے خلاف پیغمبراسلام ؐکی نعوذ باللہ  توہین کاالزام ثابت نہیں ہوسکا۔چونکہ اس نے توہین نہیں کی سو وہ کسی قسم کی قانون شکنی کی مرتکب نہیں ہوئی لہذا عدالت نے اس کو بری کردیا ہے ۔

    اس عدالتی فیصلہ کے خلاف خاص طور پر ابھرتی ہوئی  سیاسی و مذہبی  تحریک لبیک یارسول اللہ نے احتجاج کیا اوردھرنا دے کراس عدالتی فیصلے کوماننے سے انکارکیااوراس اقلیتی خاتون کوسزادینے کامطالبہ کیا۔ اس احتجاج کا سب سے اہم موڑ تحریک لبیک کے پیرافضل قادری کی ایک مختصرویڈیوتقریرہے جواس نے تحریک کے روح رواں اوراہم ترین رہنماخادم رضوی کی موجودگی میں کی۔ پیرافضل قادری نے پہلےاعلان کیاتھاکہ ان کو دھمکی دی جارہی ہے کہ ہم تمہیں  بھون ڈالیں گے۔ جس کے جواب میں پیرافضل نے کہاکہ ہم احتجاج کریں  گےاورناموس رسالت کے لئے جان کی بھی قربانی دیں گے۔ لیکن سب سے مشہورویڈیو کلپ جوسوشل میڈیاپرچلاوہ انتہائی باغیانہ تصورکیاجارہا ہے۔

    سوشل میڈیا پرشئیرکئے گئے اوریوٹیوب پرموجود اس ویڈیوکلپ میں پیرافضل قادری کہتاہے کہ یہ ناسمجھیں کہ یہ سب کچھ علماء نے کرناہے۔ بلکہ یہ عام مسلمانوں اورفوج کی بھی ذمہ  داری بنتی ہے کہ وہ بغاوت کردیں۔ اس نے فوجیوں کواپنےآرمی چیف کے خلاف بغاوت پراکسایا۔ پیرافضل قادری نے اپنے ساتھ بیٹھے  ہوئے خادم رضوی کی موجودگی میں کہاکہ اسے اس کااحساس ہے کہ اس کے خلاف بغاوت کامقدمہ بھی بن سکتاہے۔اس نے وزیراعظم عمران خان کویہودی بچہ قراردیااورتحریک انصاف کے کارکنوں پرزوردیاکہ وہ پارٹی سے علیحدگی اختیارکرلیں۔ یہی نہیں بلکہ اس نے آسیہ بی  بی کے مقدمہ کافیصلہ سنانے والے ججوں کوقتل کرنے پراس کے ملازمین اورعوام کوابھارا۔  بی بی سی پرمشہورلکھاری محمدحنیف نے پیرافضل قادری کے بیان کاخلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا:’تحریکِ لبیک کے دوسرے بڑے رہنما نے سپریم کورٹ کے تین ججوں کو ’واجب القتل‘ قرار دیا، جنرل باجوہ کو ’کافر‘ کہا اور فوج کے جنرلوں کو ’بغاوت‘ پر اکسایا۔’

    حکومت اورریاست کے مختلف اداروں کی طرف سے اس کا دوطرح سے ردعمل آیا۔ ایک توتحریک لبیک سمیت دیگرمذہبی جماعتوں کی طرف سے متوقع ردعمل کے پیش نظروزیراعظم عمران خان نے تقریرکی اوردھمکی آمیزدیتے ہوئے خبردارکیاکہ کوئی بھی عدالتی فیصلہ کے خلاف قدم اٹھانے سے پہلے سوچے کیونکہ ریاست ان کے ساتھ سختی نمٹے گی: ’جو کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا یا عوامی یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی ہمت کرے گا، اس سے ریاست اپنی پوری طاقت اور سختی سے نمٹے گی اور اس بارے میں کسی کو بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے اسلام سے وابستگی کوواضح کیا اورملک اورریاستی اداروں اوران کے سربراہوں کے خلاف اشتعال پھیلانے والوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ’پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اس ملک میں کوئی بھی قانون اسلام کے منافی نہیں ہو سکتا۔ لیکن ایسے اشتعال انگیز بیانات دینا کہ کسی جج پر حملہ کیا جائے یا فوج میں عام افسروں اور سپاہیوں کو فوجی سربراہ کے خلاف بغاوت شروع کر دینا چاہیے، ایسے بیانات کسی بھی طرح وطن دوستی کے مظہر قرار نہیں دیے جا سکتے۔‘ وزیراعظم کی تقریرکی حمایت پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹونے بھی کی۔

    پیرمحمدافضل قادری کے بیان کے دباؤمیں آکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نثارثاقب اورفوجی ترجمان نے ضاحتیں پیش کیں۔ نثارثاقب کاکہناتھاکہ فیصلہ دینے والے جج نظریہ ختم نبوت پرمکمل اعتقاد رکھتے ہیں اورپکے مسلمان ہیں۔ انہوں نے مسیحی  خاتون آسیہ بی بی سے ملکی قانون کے مطابق سلوک کرتے ہوئے بری کیاہے کیونکہ اس کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔ کچھ اسی طرح کا طرزعمل فوجی ترجمان کاتھا۔ فوجی ترجمان کاکہناتھاکہ فوج کواس قضیہ میں گھسیٹنے  کوشش نہ کی جائے۔ یہ ایک عدالتی فیصلہ ہے اورفوج کابطورادارہ اوراس کے سربراہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں: ‘بدقسمتی سے فوج کوہرمعاملہ میں گھسیٹا جاتاہے۔ یہ ایک قانونی معاملہ ہے اورفوج کے خلاف بلاوجہ منفی بیانات جاری کئے جارہےہیں’ فوجی ترجمان نے مظاہرین سے قانونی راستہ اختیارکرنے کوکہا۔ اگرچہ حکومت نے لبیک کے رہنماؤں سمیت کئی سومظاہرین کے خلاف ایف آردرج کی، مگراس کااثرنہیں پڑا۔

    تین دن سے دھرنوں اورحکومت سمیت ریاستی اداروں کی وضاحتی بیانات نے مظاہرین کے حوصولوں کوواضح طورپرتقویت بخشی۔ اوربالاآخرحکومت نے مظاہرین کے آگے ہتھیارڈالتے ہوئےمعاہدے کیا۔ سب سے اہم امریہ ہے کہ میڈیا پرظاہرکیاگیاکہ حکومت کے ساتھ معاہدے پرپیرافضل قادری کے دستخط ہیں۔ اس نے سب کوحیران کردیا۔ سوشل میڈیا پراس تضاد کوسب سے زیادہ پی ٹی ایم کی پرامن تحریک سے سلوک سےامتیازی سلوک کے موازنہ کے طورپرسامنے لانے کی کوشش کی گئی۔ امریکی ماہرجنوبی ایشیاء مائیکل کیگلمین نے کہا یہ بہت حیران کن ہے کہ ایک غیرپرامن ٹی ایل پی کے احتجاج کوکچھ نہیں کہاجارہا۔ جبکہ پی ٹی ایم کی پرامن تحریک کومہارڈالی جاتی ہے۔ پی ٹی ایم کوریاست مخالف قوت کے طورپردیکھاجاتاہے۔ پی ٹی ایم اورٹی ایل پی کے بارے میں مختلف قسم کی پوزیشن اختیارکرنے سے حکومت نے اپنے ترجیحات کے درمیان واضح فرق کرنے کاپیغام دیاہے۔ بہت سے لکھاریوں کیلئے یہ باعث حیرت تھاکہ کھلم کھلابغاوت کاپیغام دینے، اعلی عدلیہ کے ججوں اورفوجی سربراہ سمیت فوجیوں کے قتل اورسپاہیوں کوبغاوت پراکسانے والوں سے نمٹنے میں سستی دکھائی جارہی ہے۔ گوہرننگیال نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہاکہ ‘جوریاست کوللکارتے رہے ان سے معاہدے ہوتے ہیں اورجوریاست کوسدھارنے کی بات کرتے ہیں انہیں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے ہیں، اٹھالئے جاتے ہیں۔ خدا را ملک کامذاق مت بنائیں’۔

    روزنامہ ڈان نے اس صورتحال کواپنے اداریہ ‘ایک دفعہ پھرہتھیارڈالنے’ کے مترادف قراردیا۔ اخبارکے مطابق تین دن کے احتجاج کے دوران املاک کونقصان پہنچانے، سڑکوں اورہائی ویز کو بندکرکے شہری زندگی کو بڑے پیمانے پرمفلوج کرنے کے بعدحکومت نے جوحل نکالاوہ مظاہرین کے مطالبات کے آگے سرتسلیم کرنا ٹہرا۔ سینٹ کے سابق چیرمین رضاربانی نے مظاہرین کے رہنماؤں کے ساتھ معاہدے کرنے کو ریاست کے طرف سے سرنگوں ہونے کے مساوی خیال کرتے ہوئے اس فیصلے کومعذرت خواہانہ قراردیا۔

    ایک عام خیال یہ ہے کہ حکومت نے بعض ریاستی اداروں کی طرف سے تحریک لبیک کی طرف نرم رویہ اپنانے کی وجہ سے احتجاج کوڈھیل دی اوران کے ساتھ معاہدے کیا۔ حکومتی ذرائع کے نزدیک یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ کیونکہ اس طرح مظاہروں کومزیدپرتشدد صورت اختیارکرنے سے دوررکھاگیا۔ لیکن اس نرمی کافائدہ اس تحریک کوآگے بڑھانے کاموقع بھی دے رہی ہے۔ تحریک مسلسل احتجاج اوردھرنوں سے آگے بڑھ رہی ہے اوراس کے رہنماوں کے لہجے میں سختی بھی آرہی ہے۔ اس تحریک کی جڑیں ایک پولیس سپاہی ممتاز قادری کی پھانسی میں ہیں جس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیرکوگولی ماری تھی۔ ۔ اس کے بعد سے بریلوی مکتبہ فکرکی تحریک آگے بڑھ رہی ہے۔اورخادم رضوری کی قیادت میں اس نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ماہرین اس کوایک خطرناک رخ کی طرف گامزن ہوتادیکھ رہے ہیں۔ ابتداء میں دہشت کے خلاف جنگ میں دیوبندی اوروہابی فرقہ کی بڑھتی ہوئی شدت پسندانہ سوچ اورمزاحمت کوخطرناک تصورکرتے ہوئے اس کے مقابلے میں بریلوی مکتبہ فکراورخاص کرطریقت سے منسلک عقائد کی ترویج کی گئی۔ دوسری طرف بعض ریاستی اداروں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کودیوبندی مکتبہ فکرکی تحریک اورسیاست سے لے کرنوازشریف کی حکومت اورپارٹی کوکمزورکرنے کیلئے بھی استعمال کیا۔ اس حوصلہ افزائی کے نتائج سامنے آرہے ہیں اوراب یہ تحریک روزبروز مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنوجوان نسل : ہمارا سرمایہ
    Next Article قبائلی عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی
    سرتاج خان

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by