Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»کے پی حکومت کی مولانا سمیع الحق کو سرکاری امداد کی فراہمی
    رواں تبصرے

    کے پی حکومت کی مولانا سمیع الحق کو سرکاری امداد کی فراہمی

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےفروری 23, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایک خبر کے مطابق مولانا سمیع الحق کے مدرسہ کیلئے مزید 27کروڑ 70لاکھ روپے جاری کرنیکی سمری پرویز خٹک کوارسال کردی گئی ہے۔جس کے بعد اس مدرسے کو سرکاری طورپردی جانے والی یہ امداد 300 ملین سے بڑھ کر 577 ملین روپے ہوجائے گی۔

    خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے 2016-17 کے بجٹ میں مولانا سمیع الحق کے مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کیلئے 300 ملین روپے مختص کیے گئے تھے جس کی وجہ سے تحریک انصاف پرسخت تنقید بھی کی گئی تھی تاہم تحریک انصاف نے اس اقدام کو مدرسوں کے طلبہ کو عام دھارے میں لانے کی کوشش قراردیا تھا۔ بعد ازاں اپنے اس اقدام کے دفاع کے طورپرعمران خان نے کہا تھا کہ اس امداد کے بدلے میں مولانا سمیع الحق نے انہیں مدرسہ کے نصاب اورنظام میں اصلاحات لانے کی یقین دہانی کرائی ہے، عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مدرسے میں پڑھنے والے طلبہ دہشتگرد نہیں ہوتے اورانہیں بھی دنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جتنی اہمیت اورسہولیات دینا ان کی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔  اب277 ملین روپے کے مزید اجرا کے اس عمل کو سینٹ انتخابات کے موقع پر سیاسی حمایت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جارہا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف ایک مدرسے کو ہی کیوں دیا جارہا ہے؟

    مدرسہ اصلاحات کے لیے پورے صوبے میں ایک مدرسہ کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا ہے اورکیا اس کام کے لیے صوبائی پارلے منٹ کو اعتماد میں لیاگیا؟

    مدرسہ اصلاحات کا عمل پاکستان میں کوئی نیا نہیں مگر صرف ایک مدرسہ کا انتخاب اور اسے 577 ملین روپے کی خطیر امداد کا جوازکیا ہے اور اس کے نتائج کیا سامنے آرہے ہیں؟

    کیا مدرسہ اصلاحات کے نام پر پاکستان میں سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لیے اور اپنے مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے ایک نئی روایت کا آغاز نہیں ہورہا؟

    تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاختیار جواز کےلیے سرگرداں
    Next Article پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی کی ضرورت
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by