Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»عاصمہ جہانگیر کی وفات اور سوشل میڈیا کے مجاہد
    رواں تبصرے

    عاصمہ جہانگیر کی وفات اور سوشل میڈیا کے مجاہد

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےفروری 12, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی بحالی کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف نام محترمہ عاصمہ جہانگیر گذشتہ روز انتقال کرگئیں۔

    عاصمہ جہانگیر نے اپنی عملی زندگی  کا آغاز21 سال کی عمر سے کیا اور مرتے دم تک وہ عزم وہمت کی مضبوط چٹان بنے،مظلوموں،مقہوروں ،دردمندوں اور بے سہاروں کی آواز بن کر گونجتی رہیں۔عاصمہ جہانگیر  اپنے بے باک طرزگفتار کے سبب زندگی میں تنازعات سے دوچار بھی ہوئیں  اور توہین مذہب جیسے الزامات کا سامنا بھی کرتی رہیں مگر آج تک ایسا کوئی الزام ان پر ثابت نہیں کیا جاسکا۔ مرحومہ کی وفات کے بعد سے  سوشل  میڈیا کے مجاہد پھر متحرک  ہیں اور مرحومہ کو ملحد،کافر اور جہنمی تک قرار دینے لگے ہیں۔

    پاکستان میں فرقہ وارانہ  شدت پسند تنظیموں اور مسلکی تعصب نے ہمارے معاشرے کو اس حدتک آلودہ کردیا ہے کہ ہم دنیا سے چلے جانے والے شخص کو بھی معاف کرنے پر آمادہ نہیں۔ "پیغام پاکستان ” جیسے اہم فتاویٰ اور شدت پسند تنظیموں کے سربراہان کی جانب سے قومی دھارے میں شمولیت کی خبروں  سے یہ امید ہوچلی تھی کہ اب اس طرح فتوے بازی کا رجحان ختم نہ سہی کم ضرور ہوگا مگرواعظوں اور فتویٰ فروشوں  کو بے نقاب کرتی  عاصمہ جہانگیر نے اس دنیا سے جاتے جاتے ان شرپسندوں کے چہروں سے امن کے جھوٹے نقاب بھی کھینچ ڈالے ہیں۔

    ہمارے خیال میں عاصمہ جہانگیر اور دیگر ایسے لبرلز کا صرف یہی جرم ہے کہ وہ آزاد تنقید اور بے باک گفتار کے قائل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس مقصد کے لیے بنایاگیا تھا کہ جہاں جب چاہیں اور جس کی چاہیں پگڑی اچھال دی جائیں؟کیا پیغام پاکستان جیسے فتاویٰ  اور علماء کرام کے ایسے متفقہ فیصلوں کے اثرات کبھی ان کے پیروکاروں تک بھی پہنچ پائیں گے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ شدت پسند تنظیموں کی قیادت اور کارکن کے درمیان ابلاغی ونظریاتی  فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ، قیادت حالات کے جبر کے تحت جو کچھ سوچتی ہےیا جسے اپناتی ہے، اپنے ورکر کو اس کا پابند بنانے کی صلاحیت سے محروم ہے؟

    تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپیغام پاکستان۔۔۔مالہ وماعلیہ
    Next Article لیکن عاصمہ جہانگیر تو مر گئی
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by