Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»سعودی عرب کو معتدل اسلام کی طرف لے جانے کا عزم
    رواں تبصرے

    سعودی عرب کو معتدل اسلام کی طرف لے جانے کا عزم

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاکتوبر 27, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتصادی امور کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک کو اعتدال پسند اسلام کی طرف لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اس موقع پر شہزادہ محمدبن  سلمان نے 38 کروڑ پاؤنڈ کے بڑے اقتصادی زون کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ریاض میں جمع ہونے والے سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے جو کچھ تھے ،اسی کی جانب لوٹ رہے ہیں یعنی اعتدال پسند اسلام کے حامل ملک کی جانب۔یہ ملک تمام مذاہب کے پیروکاروں اور دنیا کے ہر فرد کے لیے کھلا ہے اور کھلا رہے گا۔ ہم اپنی زندگیوں کے اگلے تیس برس تخریبی نظریات کی نذر نہیں کرناچاہتے بلکہ ہم ان متشدد اور تخریبی نظریات کو آج ہی تباہ کریں گے اور بہت جلد انتہاپسندی کا خاتمہ کردیں گے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان نے جس کانفرنس میں مملکت کو معتدل اسلام کی طرف لے جانے کا عزم کیا ہے،وہ کانفرنس خود جدیدیت کی طرف بڑھنے کی ایک علامت ہے جو کہ خوش آئند ہے۔اس تقریب میں مردوخواتین ایک ساتھ شریک ہوئے۔ٹونی بلیر اور آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ جیسی اعلیٰ شخصیات کی بھی شریک تھیں۔

    چند برس قبل تک سعودی عرب میں ایسی کسی کانفرنس  یا ایسے عزائم کے اظہار کا تصور تک نہیں کیا جاسکتاتھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب میں نمایاں تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔وہ اپنے وژن کے مطابق سعودی عرب کو آئندہ چندسالوں میں ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خواہش مند ہیں ،جس میں کسی بھی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو بھی مکمل حقوق اور تحفظ حاصل ہو،جس میں خواتین پر بے جا پابندیاں نہ ہوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق انہیں مکمل شہری آزادیاں حاصل ہوں۔شہزادہ محمد بن سلمان کے یہ عزائم اور مقاصد سعودی عرب میں موجود سخت گیر علماء کی کثیر تعداد کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔ان سخت گیر علماء کی طرف سے آنے والے ردعمل کے نتیجہ میں سعودی ریاست نے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ محض ریاستی اقدامات کافی ہونگے یا سعودی حکومت کو کچھ ایسے اقدامات  پر بھی غور ہونا چاہیے جن پر عمل کرتے ہوئے  سخت گیر علماء کو راہ اعتدال پر گامزن کیا جاسکے تاکہ وہ معاشرے کا ایک کارآمد فرد بن سکیں۔اس سے قبل سعودی حکومت انتہاپسندانہ نظریات کے خاتمہ کے لیے بعض عملی پروگرام کرچکی ہے، ان کے نتائج و تجربات پر غور کرنے کی ضرورت ہےتاکہ مستقبل میں انتہا پسندانہ نظریات کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے۔

    تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہزارہ برادری جائے پناہ کی تلاش میں
    Next Article سعودی عرب میں معتدل اسلام کی لہر
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by