ولیم ایف بٹلر نے کہا تھا”وہ قوم جو جدوجہد کرنے والوں اور مدبروں کے درمیان ایک واضح حد قائم کرنے پر اصرار کرے تو یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ احمقوں سے جدوجہد کروائے اور بزدلوں سے تدبر کا کام لے”۔
ہمارے ہاں سیاسی اور ابلاغی بیانیے میں سردست جوچیز نمایاں طور پر نظر آرہی ہے، وہ بٹلر کے بیان کی آخری سطر کے عین مطابق ہے۔پاناما بحران کے آغاز سے ہی میرا موقف واضح طور پر ریکارڈ رہا ہے کہ اس کے بطن سے ماسوا ملکی سیاسی عدم استحکام پیدا ہونے کے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا نیز یہ کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا کچھ غیر سیاسی عناصر کی عاقبت نااندیش خواہش اور ضرورت ہے،ا ور وہ اپنی خواہش کو عملی شکل دینے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔میرے استدلال کا اولین نقطہ سینیٹ کے نصف ارکان کے انتخابات سے قبل اسمبلیوں کی تحلیل و خاتمے پہ استوار تھاجس کا اعادہ مناسب نہیں۔میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کے اعلیٰ عدالتی فیصلے کے بعد حکمران جماعت و اتحاد میں دراڑ نہ پڑنے پر کئی خواب بکھرے تھے چنانچہ معاملات کی بلی دو طرح تھیلے سے باہر آئی۔ایک آصف زرداری کے اس موقف سے کہ نواز شریف کو سینیٹ کے انتخاب جیتنے کا موقع نہیں دوں گا اور بعد ازاں جناب عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کا باضابطہ مطالبہ، اسی کے ساتھ ذرائع ابلاغ میں موجود مخصوص لکھاریوں و دانشوروں نے اس مطالبے کے حق میں قوالی کا اعادہ کرتے ہوئے اپنے قلم و زبان ارزاں کردیے تھے۔
"عمران خان کو اقتدار دو!” کے عنوان سے ملک کے معروف صحافی نے زور دار مضمون سپرد قلم کیا جو موقر جریدے میں20ستمبر2017کو شائع ہوا ۔میں اسی مضمون کے مندرجات کے پس منظر میں اپنا موقف دہرا رہا ہوں۔معزز دانشور اپنا نقطہ نظربیان کرتے ہوئے آغاز میں رقم طراز ہیں "خدالگتی کہتا ہوں اب اقتدار عمران خان کا حق ہے،نواز شریف نااہل ہو چکے اور ان کے بعد عمران خان ہی مقبول ترین رہنما ہیں، اس لئے فوراً الیکشن کروا کر زمام اقتدار ان کے حوالے کردیں تاکہ عوام کی براہ راست منتخب اور محبوب لیڈر شپ بحرانی دور کے بڑے فیصلے کرسکے۔”
اولاًمجھے یہ بات کھٹکتی ہے کہ موصوف اپنی ذاتی خواہش کے اظہار سے قبل یہ لکھنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ خدالگتی کہتا ہوں۔ثانیاً موصوف جب طے کر چکے کہ عمران خان”مقبول ترین”رہنما ہیں تو پھر فوری انتخابات کرانے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے اور پھر اگلے الفاظ پر غور کریں”انتخابات کروا کر زمام اقتدار ان کے حوالے کی جائے”اس جملے میں وہ کس سے مخاطب ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں،انتہائی دلچسپ معنی خیز مگر جمہوری اصولوں اور آئین کے برخلاف ہے۔اگر متذکرہ پیراگراف میں رہنماﺅں کے نام بدل کر ان کی جماعتوں کا حوالہ درج کرلیا جائے تو کیا دانشور کا یہ مفروضہ لفظی معنوی اور قانونی اعتبار سے درست رہ جائے گا کہ مسلم لیگ نااہل ہو چکی۔دانشور نے بہر طور،غیر شعوری طور پر تسلیم کیا ہے کہ نواز شریف(یا جملہ معترضہ طور پر مسلم لیگ)مقبول ترین ہیں۔گویا جن کی مقبولیت کا دعویٰ کیا جارہے انہیں دانشور نے بھی درجہ دوم کی مقبولیت عطا کی ہے تو پھر سوال ابھرتا ہے کہ ثانوی درجہ کی مقبولیت کی حامل لیڈر شپ یا جماعت کو کیونکر اور کس قانون و اصول کے مطابق زمام اقتدار سونپنے کی بات کی جاسکتی ہے یا اسے پذیرائی دی جاسکتی ہے؟دانشور کا خیال ہے کہ”چار سال پہلے پاکستانیوں کی اکثریت نے نواز شریف کو وزیراعظم بنا کر ملک و قوم کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا تھا”اس افلاطونی دلیل پر سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ پھر عوام کے فیصلے کے برعکس انہیں فیصلے کرنے سے کیوں محروم کیا گیا ہے؟اور جب تک انتخابات نہ ہو جائیں کیسے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ عمران ملک کے سب سے زیادہ مقبول رہنما ہیں۔کیا پی آئی ٹی بھی ملک کی سب سے بڑی ،مقبول اور انتخاب جیت جانے والی پارٹی قرار پاسکتی ہے؟کیا قبل از انتخابات عمران خان کی مقبولیت کے دعوے کرنا یا اس کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنا اسی کوشش کا حصہ نہیں جو بعض غیر سیاسی قوتیں کررہی ہیں۔ مغالطوں سے اسمبلیوں کو تحلیل نہیں کیا جاسکتا نہ عمران کو اقتدارسپرد کیا جاسکتا ہے۔2013میں عوام نے مسلم لیگ ن کو منتخب کیا تھا اور اسے اختیار سونپا کہ وہ ملک کے اقتدار کی زمام سنبھالے۔منتخب شدہ اراکین قومی اسمبلی نے بعد ازاں نواز شریف کو قائد ایوان یا وزیراعظم منتخب کیا تھا۔وزیراعظم کے انتخاب میں پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی تھی چنانچہ اس عمل سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما و جماعت ہیں وہ پارلیمانی سطح پر تیسرے درجے پر آنے والی جماعت ہے۔
استدلال میں مخفی فکری مغالطہ یہ ہے کہ چونکہ نواز شریف کو عوام نے منتخب کیا تھا جو نااہل ہوچکے ،لہٰذا اس نتیجہ کو تسلیم کرلیا جائے کہ پوری قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں بھی حکومت کرنے کی اہل نہیں رہیں لہٰذا نئے انتخابات کا ڈول ڈال کر،اقتدار عمران کے سپرد کردیا جائے۔بھلے وہ الیکشن نہ بھی جیتیں،کم از کم دانشور کے موقف سے یہی مفہوم برآمد ہوتا ہے جو قطعی طور پر غیر عاقلانہ اور جانبدارانہ ہے۔
ایک دلیل یہ بھی دی گئی ہے کہ”پاکستان میں برطانیہ کی طرح کا پارلیمانی نظام ضرور قائم ہے لیکن یہاں پارٹی حکومت نہیں بناتی بلکہ شخصی حکومت ہوتی ہے“۔برطانیہ میں کیا انتخاب جیتنے والی پارٹی کی قیادت فیصلہ نہیں کرتی کہ وزیراعظم اور اس کی کابینہ میں کون ارکان موجود ہوں گے؟اگر اس سوال سے صرف نظر بھی کرلیا جائے تو کیا پوچھنا مناسب نہ ہوگا آپ جس پارٹی کو فی الفور اقتدار منتقل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اس کے فیصلوں پر پارٹی سربراہ کی چھاپ موجود نہیں ہوتی؟ہم جمہوریت کی ارمغ سطح کو پوٹو پٹائی انداز میں کیوں حوالہ دیتے اور اس میں سے شخصیات کے کردار ورسوخ کو مہیا کرکے دیکھنے کے متمنی ہیں؟یہ نقطہ میری فہم سے بالاتر ہے۔جمہوریت اجتماعی ریاستی معاملات طے کرنے کے ایک منظم طریقہ کار کا نام ہے تاہم اس میں قائدانہ صلاحیتوں کی قدر و قیمت سے انکار نہیں کیا جاتا۔موصوف کا خیال ہے کہ "لوگوں نے نون لیگ کے نشان کو ضرور ووٹ دیا تھا لیکن مقصد نواز شریف کو اقتدار دلانا تھا”لفاظی کمال کی یہ عمدہ مثال ہے۔اسمبلی امیدواران کو نشان میں بدل دیا گیا ہے۔کیا انتخابی میدان میں اترنے والے افراد کی ذاتی شناخت ذہانت،کردار،اثر و رسوخ اور حلقہ ہائے روٹ کچھ اہمیت نہیں کھتے؟تاہم اس دلیل میں خوبی یہ ہے کہ اس میں منتخب شدہ اسمبلیوں کو پارٹی کو ملنے والے ووٹ شمار کیا گیا ہے تو جناب ،عدلیہ نے نواز شریف کو اسمبلی رکنیت سے محروم کیا ہے انہیں سیاست کےلئے نااہل قرار دیا ہے اور نہ ہی قومی اسمبلی کو برخاست کرنے اور تمام ارکان کو نااہل سمجھنے کا حکم لگایا ہے۔عدلیہ نے مسلم لیگ نون کو بھی غیر قانونی جماعت قرار نہیں دیا تو پھر پارٹی کے نشان پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو گھر بھجوانے کی دلیل میں عقل و دانش سیاسی بصیرت اور قانونی جواز کہاں سے آئے گا جو موصوف کے مطالبے کو قابل عمل ہونے کی اساس مہیا کرے؟”کہا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان نے تاریخ ساز فیصلے کرنے ہیں”۔ بجا ارشاد،دلیل کے ساتھ جن ممکنہ امور کا حوالہ دیا گیا ہے اس کو محلوظ رکھا جائے تو یہ کہنا زیادہ معقولیت پسند ہوگا کہ درپیش یا آمدہ حالات ہیں، درست اور عنوانی تائید و قبولیت والے دوررس اثرات کے فیصلوں کے لمحوں میں پارلیمان اور حکومت کو نہ صرف یہ کہ موجود ہونا چاہیے ہر قسم کے دباﺅ ،مداخلت کے بغیر اطمینان قلبی،ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنی سیاسی جماعتی لائن،بصیرت اور پروگرام کی روشنی میں آزادانہ فیصلوں کا موقع ملنا چاہیے۔ تاریخ ساز فیصلوں اور غیر موثر حکومت ملک کےلئے تباہ کن ثابت ہوگی جو دانشور کے مشورے کی قبولیت کے نتیجے میں معروض وجود میں آئے گی۔سیاسی اصطلاح میں اسے نگران حکومت کہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ دانشور کے ادراک کی روشنی میں ملکی فلاح و بقا کےلئے قبل از وقت انتخابات کا جواز از خود بے معنی ٹھہرتا ہے جسے مسترد کردینا ہی مناسب ہوگا۔
آئین و قانون کے مطابق انتخابات کا انعقاد مئی2018 یا اس کے بعد ہونا ہے۔یعنی سات ماہ بعد قانونی طور پر ۔اس نقطے کو خلط ملط نہ کہا جائے کہ جنرل یحییٰ نے انتخابات کے بعد جیتنے والی جماعت کو انتقال اقتدار میں ناروا تاخیر کی تھی۔آپ کی دلیل اور مطالبے میں جیتی ہوئی جماعت سے عجلت اور قبل از وقت اقتدار چھیننے کی حماقت جھلکتی ہے(ایسا تو نہیں کہ قبل ازوقت انتخابات کا مطالبے کرنے والوں میں ایک بار پھر جنرل یحییٰ کی روح حلول کرگئی ہو) دوسری بات یہ کہ جو لیڈر سات ماہ کی مختصر مدت میں اقتدار نہ ملنے پر ہانپ جائے اور اس کا حوصلہ ٹوٹ سکتا ہو اسے سیاسی لیڈر کیونکر تسلیم کرلیا جاسکتا ہے۔ایسے شخص کو کسی پرفضا مقام پر جاکے ورزش کرنی چاہیے۔سیاست تدبر تحمل بردباری اور بلند ہمتی کی متقاضی ہوتی ہے۔دنیا کی سیاسی تاریخ کے علاوہ ہماری اپنی تاریخ ایسے قابل قدر سیاسی اکابرین کے ناموں سے منور ہے جو اقتدار کی طوالت سے ہانپے،حوصلہ ہارا اور نہ انہوں نے اپنی جدوجہد ترک کی۔کیونکہ وہ اپنے سیاسی مقاصد سے مخلص تھے انہیں کسی ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظارتھا نہ ہی ضرورت۔حصول اقتدار سیاست کا بنیادی ہدف قرار پائے توبلند مقاصد کی جگہ موقع پرستی غالب آجاتی ہے۔کیا کسی موقع پرست کو مسند اقتدار سونپنے کی حکیمانہ دانش کے ساتھ وکالت کی جاسکتی ہے؟
