Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر ہونا چاہئے یا نہیں ؟
    رواں تبصرے

    احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر ہونا چاہئے یا نہیں ؟

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےاپریل 28, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کچھ لوگوں کی یہ رائے کہ احسان اللہ احسان اس انٹرویو کے ذریعےاپنے واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں ۔اس استدلا ل پر کئی رائے دی جا سکتی ہیں تاہم اس کا فیصلہ ملکی قوانین کی روشنی میں اور متعلقہ اداروں کی صوابدید ہے ۔

    کالعدم تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی اعترافی وڈیو سامنے آنے کے بعد جیو ٹی وی کے اینکر پرسن سلیم صافی نے ان کا ایک انٹرویو کیا ۔جس کے نشر ہونے سے قبل پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اس کے  نشر ہونے پر پابندی لگا دی جس کا جواز یہ دیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے انٹرویو نشر کرنے پر پابندی عائد ہے ۔چونکہ تحریک طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس نے ہزاروں پاکستانیوں کا خون کیا ہے ا س لئے اس کا انٹرویودکھانا ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔جبکہ دوسری جانب جیو ٹی وی کا مؤقف ہے کہ پمرا نے یہ انٹرویو روک کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اس انٹرویومیں کسی عسکری جماعت یا عسکریت پسند کو ہیرو نہیں بنایا جا رہا بلکہ ان کی جانب سے مذہب کے غلط استعمال ،سفاکانہ رویوں اور ملک دشمنی پر مبنی کارروائیوں کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے ۔

    یہ درست ہے کہ عسکریت پسندوں نے اپنے نظریات کی ترویج کے لئے میڈیا کو استعمال کیا ہے اور سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں جو ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا وہ ناگزیر تھا اس کے بعد میڈیا نے بھی کافی  ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ تاہم احسان اللہ احسان کا انٹرویو اس ذمرے میں نہیں آتا  کیونکہ وہ تو اس فکر و فلسفہ کے خلاف بات کر رہے ہیں جو طالبان لے کر چل رہے ہیں اس لئے اگر پاکستانی اداروں کے پا س  ایسا  کوئی موقع ہاتھ   آیا ہے جب وہ انہی کے بندے سے ان کے خلاف بات کروا سکتے ہیں تو اس موقع پر سپریم کورٹ کا ضابطہ اخلاق آڑے نہیں آنا چاہئے ۔ ایسے لگتا ہے کہ پمرا کی جانب سے  انٹرویو روکنے کا حکمنامہ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے ۔

    کچھ لوگوں کی یہ رائے کہ احسان اللہ احسان اس انٹرویو کے ذریعےاپنے واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں ۔اس استدلا ل پر کئی رائے دی جا سکتی ہیں تاہم اس کا فیصلہ ملکی قوانین کی روشنی میں اور متعلقہ اداروں کی صوابدید ہے ۔

    آپ پمر اکی جانب سے لگائی گئی اس پابندی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ کیا پمر اکافیصلہ درست ہے ؟ یا یہ انٹرویونشر ہونا چاہئے تھا ؟ اس حوالے سے آپ اپنی رائے کاا ظہار کمنٹس میں کریں :

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمبالغہ ۔۔ ہمارا قومی مشغلہ
    Next Article احسان اللہ احسان کو لانے میں درپردہ کون شریک تھا ؟
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by