کسی چیز کی ذمہ داری خارجی عوامل پر ڈالنے کی عادت پختہ ہوتی جا رہی ہے  ۔   جغرافیائی اور داخلی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے بارے میں اس رویے کی سمجھ آ جاتی  تھی لیکن اب تو ہر ناکامی کی وجہ بھی خارجی عوامل پر ڈالنے کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے ۔  جیسےکئی رہنما حالیہ سیاسی بحران اور سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی نااہلی کو بھی خارجی سازش گردانتے ہیں ۔

کچھ تجزیہ کار ان خلیجی ممالک کا نام بھی لیتے ہیں  جن کا ذکر پانامہ کیس میں آیا ہے اور جو پاکستانی حکومت سے مشرق وسطی ٰ   کے حالیہ بحران کے پس منظر میں خوش نہیں ہیں ۔ خارجی عوامل کی سوچ کی تاثیر افیون کی سی ہے جس کے بعد انسان حقیقت سے  فرار حاصل کرتا چلا جاتا ہے ۔

 وزیر اعظم کی نااہلی کے فیصلے سے صرف ایک روز پہلے سابق وزیر داخلہ کی جانب سے حیران کن  بیان سامنے آیا ۔ جس میں انہوں نے کہا کہ ملک  ایسے خطرے میں گھرا ہوا ہے جس کی خبر صرف انہیں ،نوازشریف اور دو آرمی کے لوگوں کو ہے ۔اس پس منظر میں انہوں نے نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ پانامہ کیس کے فیصلے کو عاجزی کے ساتھ قبول کر لیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب جسٹس قاضی فیض عیسی ٰ کمیشن رپورٹ جس میں گزشتہ سال کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں  کئی وکلا کی جانیں چلی گئی تھیں  ،اس  میں ان کی بطور وزیر داخلہ کارکردگی پر شدید تنقید کی گئی تھی ، مگر اس رپورٹ پروہ خاصے سیخ پا ہوئے تھے ۔

انہوں نے اس امر  کی وضاحت تو نہیں کی اس خطرے سے ان کی کیا مراد ہے تاہم ان کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ سلامتی کے مسائل سے ہے کیونکہ ان کی ذمہ داریاں داخلی سلامتی کا احاطہ کرتی ہیں ۔ وہ جس خطرے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں یہ شاید امریکہ کی پاکستان اور افغانستان کے بارے میں  پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں اور امریکہ کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلقات سے متعلق ہوں۔

 یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کیونکہ ا س حوالے سے پالیسی اور رائے ساز حلقوں میں مسلسل بات چیت ہو رہی ہے ۔

افغانستان کی شورش ،مقبوضہ کشمیر کی   غیر یقینی صورتحال ،مشرق ِ وسطی ٰ میں بڑھتا ہوا بحران اور سی پیک کے خلاف بھارت کا واویلا ،یہ سب وہ عوامل ہیں جو کہ خارجہ حوالے سے اہم ہیں ۔ یہ عوامل ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ان کا ملکی معیشت اور داخلی سلامتی پر بھی اثر ونفوذ  ہے ۔

چوہدری نثار کا اشارہ جس طرف بھی ہے ایک بات واضح ہے کہ اگر سیاسی بحران نے طوالت پکڑی تو ہمارے داخلی اور خارجی چیلنجز بڑھ جائیں گے ۔اسی دوران داخلی سلامتی کے  خطرات کا احاطہ  اور ان پر ماضی میں ہونے والی کارروائیوں کا جائزہ لئے بغیر خارجی خطرات اور سازشوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ داخلہ معاملات کی ذ مہ داری ان کی تھی اگر پاکستان پر خطرات کے سائے لہرا رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔

اب نئی کابینہ کو گزشتہ چند سالوں کی حکمت عملیوں اور پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا ۔ داخلی سلامتی کا تعلق  شاید ہی سیاسی صورتحال سے ہو  ۔سیاستدانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ قومی معاملات  پر  رائے عامہ ہموار کریں ۔آزادی اظہار اور انٹرنیٹ پر سیاسی  سرگرمیوں سے قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اس طرح کی بحث سے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور جمہوری عمل کو مظبوط کیا جا سکتا ہے ۔

داخلی سلامتی صورتحال  کے جائزے میں یہ دیکھا جائے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں درمیانی اور بڑے دہشت گرد حملوںمیں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔کچھ کالعدم عسکری گروہوں کے بارے میں اب بھی ابہامات پائے جاتے ہیں  اور یہ سول اور فوجی قیادت کے درمیان ایک وجہ نزاع بھی ہے ۔بہت سے گروہ جنہیں ’’وکیل ‘‘ کا درجہ حاصل ہے ان کی وجہ سے صرف سفارتی مسائل ہی جنم نہیں لیتے بلکہ انہوں نے آہستہ آہستہ ریاستی بیانئے پر بھی  اختیار حاصل کر لیا ہے جس سے انتہائی دائیں بازو کی قوتیں طاقتور ہو رہی ہیں اور یہ دونوں مل کر  نہ صرف خارجی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں بلکہ خطرے کی بات یہ بھی ہے کہ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے صف اوّل کی سیاست سکڑ رہی ہے ۔

نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کی رفتار اور ا س میں کامیابی کا تناسب بھی تسلی بخش نہیں ہے ۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا سارا زور نیشنل ایکشن پلان کی مانیٹرنگ کرنا ہے  بجائے اس کے کہ وہ انسداد  دہشت گردی کے  لئے  براہ راست کوئی اقدام کرے ۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل محمد در آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ کسی بھی مرکزی حکمت عملی کا فقدان ہے اورسب سے اہم بات یہ کہ پارلیمنٹ بھی اس کا جائزہ نہیں لے رہی ۔جبکہ دوسری جانب سیکورٹی  اداروں کی جانب سےکچھ آپریشنل حکمت عملیوں  کے باوجود وہ انسداد دہشت گردی کے لئے کوئی باقاعدہ حکمت عملی ترتیب دینے میں ناکام رہے ہیں ۔

فرقہ وارانہ تشدد اس وقت تک خطرے کے طور پر رہے گا جب تک پاکستان میں فرقہ وارانہ گروہ متحرک ہیں ۔ملک میں اس وقت تک نفرت انگیزی رہے گی جب تک کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم مدارس  اس میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے ۔ایسے انتہا پسندوں کے خلاف حکومت کی حکمت عملی انسداد دہشت گردی کے گرد گھومتی ہے لیکن وہ یہ نہیں دیکھتی کہ ان کی ذہن سازی کہاں سے ہو رہی ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت ملک کا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔یہ بات تشویشناک  ہے کہ حکومت نے مذہبی  تعصب کے خلاف کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے ۔حکومت نفرت انگیز تقریروں کے خلاف اپنے قوانین کی عمل داری میں بھی ناکام نظر آتی ہے  جن کا نشانہ اقلیتیں بھی بنتی ہیں ۔نیشنل ایکشن پلان میں موجود ایسے نکات پر حکومت نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔

بدقسمتی سے حکومت نے پارلیمنٹ کو بھی کوئی وقعت نہیں دی ماسوائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری یاپھر کسی بڑے دہشت گرد حملے کے بعد وقتاً فوقتاً   ہونے والے تقریروں کے ،س ادارے نے داخلی سلامتی پالیسی کی تشکیل میں کوئی کاوش نہیں کی ۔ اگرچہ نئی کابینہ کے پاس اب صرف چند مہینے ہوں گے  مگر یہ قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کو شدت پسندی کے کسی بھی خطرے کے خلاف پہلی دفاعی لائن کا درجہ دیتے ہوئے  پارلیمنٹ کی راہنمائی میں سلامتی پالیسی کے خدوخال مرتب کر سکتی ہے ۔ ملک کودرپیش کسی بھی مسئلے  کے لئے آئین سے رہنمائی لی کر مکالمہ کیا جا سکتا ہے ۔

سلامتی کی پالیسی  کی تشکیل اور انسداد شدت پسندی کے لئے  ہی نہیں بلکہ جمہوری اور سیاسی اقدار کے فروغ کے لئے بھی  پارلیمنٹ کا مؤثر کردار  ناگزیر ہے ۔داخلی  اور خارجی خطرات کامقابلہ کرنے کے لئے  مؤثر پارلیمنٹ اور  اداروں کے درمیان توازن   ضروری ہے تاکہ اس حوالے سے بھر پور ردعمل سامنے آئے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی کابینہ اپنے لئے نئے راستوں کا انتخاب کرتی ہے یا پھر وہ پرانی عادتوں کی اسیررہتی ہے ۔

(بشکریہ ڈان ، ترجمہ سجاد اظہر )

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version