یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کالبرل لیفٹ اورچھوٹی قومیتوں کی بڑی تعداد نوازحکومت کی برطرفی کے اقدام کے خلاف کھڑے ہیں۔

پوسٹ ماڈرنسٹ (سابقہ لبرل لیفٹ) اتھنک گروپوں اور قوم پرستوں میں اس امرپرتقریباً اتفاق پایاجاتاہے کہ نوازشریف کی عدالت کے ہاتھوں برطرفی ایک ’’سوفٹ کو‘‘ہے۔ زیادہ واضح الفاظ  میں، نوازحکومت کوفوج نے ہٹایاہے۔ بہت سارے تجزیہ نگاراس کوماضی سے جڑی روایت کاحصہ قراردیتے ہیں۔ مبشر علی زیدی کہتے ہیں ’’عوام نے منتخب کیا، صدر نے ہٹایا۔ عوام نے منتخب کیا، جرنیل نے ہٹایا۔ عوام نے منتخب کیا، عدلیہ نے ہٹایا۔‘‘عاصمہ جہانگیرنے نوازشریف کیس کے پانچ ججوں کی اپنی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھایااورکہاکہ ان میں سے چارجج خود پی سی اوکے تحت حلف اٹھاچکے تھے توکیایہ خود صادق اورامین کہلاسکتے ہیں؟ فیصلہ سے قبل ہی اے این پی کےسینٹرافراسیاب خٹک نے دی نیشن میں اپنے ایک مضمون میں نادیدہ ہاتھ کے باہرآنے اورحکومت کے قتل کااعلان کیاتھا۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ایک اورمنتخب وزیراعظم کوچلتا کر دینےمیں کیاچیز تاریخی ہے۔ گھر پھونک تماشےکرنے والوآئین پرڈاکہ ڈالنےوالوں میں سےکسی اک پرمقدمہ کرکے دیکھ لو‘‘۔

پختون اولسی تحریک کے سیدعالم محسود نے نوازشریف کی نااہلی پر سوشل میڈیا میں پشتوزبان میں لکھا’’افغانستان کی تباہی اورپل خشتی مسجدمیں شکرانے کے نوافل پڑھنے والے ضیاءالحق کی اولاد، پختون دشمن، سی پیک اورپانامہ کے چورکوپانچ ججوں نے نااہل کردیا‘‘۔

حبیب یونیورسٹی کراچی کے استاداور علمی وسماجی حلقوں میں سرگرم  استاد حفیظ جمالی کے نزدیک ’’اس میں کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ یہ عدلیہ کی طرف سے ایک منتخب وزیراعظم کا تختہ الٹنے کی ایک کوشش ہے جس کی پشت پرحکمت عملی کے لحاظ سے فوج ہے ‘‘۔ نوجوان قوم پرست دانشورخان زمان کاکڑکہتاہے کہ یہ اہم ہے کہ اے این پی اپوزیشن کی وہ واحد جماعت تھی جوجمہوریت کے لئے کھڑی ہوئی اورنوازمخالف مہم کاحصہ نہ بنی۔ یہ اصول ہیں۔  باچاخان یونیورسٹی کے استاد اورپشتون ادیب ڈاکٹرمحیب وزیرانجمن ترقی پسند پشتون کی طرف سے کہتے ہیں کہ  ’’پشتونوں کے مسائل دیگرہیں اس کامطلب یہ ہے کہ پاکستان کے اندرتبدیلی سے پشتونوں کی حیثیت پراثرنہیں پڑے گا ۔ ایک صاحب نے توتجویزپیش کی کہ محموداچکزئی کووزیراعظم بناکرچھوٹے صوبوں کی احساس محرومی دورکرنے کی کوشش کی جائے۔

نوازشریف کی طرح مولانافضل الرحمن، محموداچکزئی اوراسفندیارولی خان بھی عمران خان کی تنقیدکانشانہ بنتے رہتے ہیں۔ اور2013کے انتخابات میں اے این پی اورجے یوآئی کوتحریک انصاف کے ہاتھوں صوبہ خیبرپختونخواہ میں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ محموداچکزئی بھی نوازشریف کاقریبی اتحادی ہے اوراس کاپوراخاندان اس وقت حکمران ہے۔ مولانافضل الرحمن بھی وفاق میں نوازحکومت کاحصہ ہے۔ عبداللہ جان وزیرنے مولانافضل الرحمن، محموداچکزئی اوراسفندیارولی خان کے بارے میں سوال اٹھایاہے کہ اب ان تین یتموں کا کیاہوگا جوروزنوازشریف کے حق میں آوازاٹھاتے رہتے تھے۔ ل”م

محمد تقی سوشل میڈیا پرلبرل لیفٹ کے رائج الوقت رہنمااصولوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھتاہے کہ ’’دوستو جب مقابلہ نواز شریف اور مزدور کسان پارٹی کا ہو تو مزدور کسان کا ساتھ دو اور اگر مقابلہ نواز شریف اور جج جرنیل کا تو نواز کا ساتھ دو‘‘۔

زیادہ ترقوم پرستوں نے اسے پنجاب کی اندرونی لڑائی قراردیا۔ لیکن پوسٹ ماڈرنسٹ دانشوریہ ثابت کرنے میں ناکام  رہے ہیں کہ یہ کوئِی فوجی بغاوت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ فوجی جنتا کوجمہوریت پسند قراردیاجاتاہے۔ اورفوج کے سربراہ اورآئی ایس آئی کے چیف، نواشریف کے اس طرح خلاف بھی نہیں۔ پی پی پی کی حکومت ختم کرنے پرپنجابی اسٹبلشمنٹ کانعرہ لگایاجاتاتھامگرنوازشریف کی تیسری مسلسل حکومت کے خاتمہ کے ساتھ پنجابی اسٹبلشمنٹ کی چھوٹے قومیتوں کی حکومتوں کوختم کرنے کی دلیل اب کمزورپڑتی جارہی ہے۔ اب یہ پروپگنڈہ بھی وقعت نہیں رکھتاکہ نوازحکومت، بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے ختم کی گئی۔ یہ بات نوازشریف کے ابتدائی دنوں کے بارے میں زیادہ درست ہے، لیکن بعدازاں نوازحکومت اس سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔ صحافی داودخٹک ڈپلومیٹ میں اپنے ایک  مضمون کے آخرمیں لکھتے ہیں کہ نوازشریف کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے ہونے کے  باوجود اس کے حکومت کے خاتمے نے جمہوریت پسند سیاستدانوں اوراسٹبلشمنٹ کے درمیان ایک اورتلخ باب کااضافہ کیاہے۔ یہ پہلے سے تقسیم ملک کومزیدتقسیم کرنے کاباعث بنے گا۔ پشتونخوامیپ اور  نیشنل پارٹی، بلوچستان اورمرکزدونوں میں نوازحکومت کی اتحادی ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کالبرل لیفٹ اورچھوٹی قومیتوں کی بڑی تعداد نوازحکومت کی برطرفی کے اقدام کے خلاف کھڑے ہیں۔

مضمون نگارکراچی میں مقیم محقق ہے۔

Sartaj2000@yahoo.com

Tweet:@sartajku

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version