پاکستان کی عسکریت پسندوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی پالیسی نے مخلوط نتائج دیے ہیں۔ اگرچہ اس سے ملک کے اندر عسکری نیٹ ورکس کی موجودگی کم ہوئی ہے، لیکن یہ گروہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ وہ اب بھی سرگرم ہیں اور پاکستان کے بین الاقوامی امیج کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ 2018 میں جب پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ، خاص طور پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے ذریعے بڑھا، تو ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر اور فرقہ وارانہ دائرہ کار میں سرگرم عسکری نیٹ ورکس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس…
Author: محمد عامر رانا
"عوام ہی اصل صلہ ہیں۔” جو لوگ باغیانہ جنگ کے نظریات سے واقف ہیں، وہ اس جملے کے سیاق و سباق کو سمجھیں گے جسے ڈیوڈ گالولا نے پیش کیا تھا۔ گالولا نے استدلال کیا کہ باغیانہ جنگ کوئی فوجی مقابلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی جدوجہد ہے، جس میں باغی اور ان کے مقابلے میں حکومتی فورسز عوام کی حمایت اور وفاداری حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ باجوڑ میں حالیہ پیش رفت، جہاں شہری فوجی آپریشنز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اور تیراہ وادی میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے المناک واقعات، جب سیکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ…
بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش نے بحث چھیڑ دی ہے کہ اسے مؤثر طریقے سے کیسے روکا جائے۔ ریاستی سیکیورٹی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسے طاقت کے ذریعے ختم کریں گے، جس سے ان کے پاکستان کو ایک سخت ریاست بنانے کے ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسری طرف، دانشوروں کے ایک طبقے اور سیاسی حلقے کے ایک بڑے حصے کا کہنا ہے کہ ایک سیاسی مسئلہ سیاسی طریقوں سے ہی حل ہونا چاہیے۔ یہ متضاد نقطہ نظر تاریخی اور عصری شواہد کی بنیاد پر اپنی دلیل پیش کرتے ہیں۔ آراء میں یہ تنوع ایک مثبت رویہ…
تاریخ کی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس کے سبب سارا محشر برپا ہوا، وہ ہی تائب ہو گیا۔ افغان۔سوویت جنگ نے دینا بدلی ہو یا نہیں، اس نے اس خطے اور پاکستان اور افغانستان کو مکمل بدل دیا۔ سیاست کی اپنی لاجک اور سائنس ہے، اور کب کون کس کا حریف اور کب حلیف، اسے سمجھنے کے لیے مفادات کی حرکیات سمجھنا پڑتی ہیں۔ اب یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں لگتی کہ روس طالبان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ لیکن کیا یہ طالبان انہی مجاہدین سے نسبت نہیں جوڑتے، جنہوں نے سوویت یونین کو…
اگرچہ فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں ہونے والے حالیہ پلینری اجلاس کے دوران پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالے جانے کے امکانات بہت کم تھے لیکن اسلام آباد میں اس حوالے سے کافی تشویش پائی جارہی تھی۔ یہ خوف اس خدشے سے پیدا ہوا کہ بھارت پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش کر سکتا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور چار روزہ تنازع کے بعد وہ ایک مکمل جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے۔ 9 مئی کے…
یہ تصور کرنا محال ہوتا ہے کہ کوئی شخص اچانک اپنی زندگی کا رخ موڑ لے۔ خاص طور پر جب وہ شخص دنیا کے مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ایک اعلیٰ جہادی رہنما رہا ہو۔ اوریہ تو اور بھی اچنبھے کی بات لگتی ہے کہ وہ اپنے باقی ساتھیوں کو بھی راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ یہ کہانی شام کے جنگ زدہ علاقے کی نہیں ہے، جہاں جنگجو رہنما اپنے سابقہ کردار پر نظرثانی کر رہے ہیں، اور نہ ہی مشرقی ایشیا کی ہے، جہاں بہت سے سابق جنگجو نظریاتی تبدیلیوں کو اپنانے لگے ہیں۔ یہ…
پاکستان میں مذہبی تعصب طویل عرصے سے ایک خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے، اور اس کا مقابلہ کرنا ریاست کی طرف سے کبھی بھی ایک حقیقی ترجیح نہیں رہی، چاہے اس نے کتنے ہی کھوکھلے دعوے کیے ہوں۔ معاشرہ آہستہ آہستہ اس انتہا پسندی کے خلاف کھڑے ہونے کی طاقت کھوتا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت کی کوئی خبر اب حیرت کے طور پر آتی ہے۔ حال ہی میں سندھ میں سول سوسائٹی نے ڈاکٹر شاہنواز کنبھار کے قتل کے خلاف سڑکوں پر نکل کر جو جرات دکھائی ہے ، وہ یقینا ایک حوصلہ افزا خبر ہے،…
ایک طویل عدالتی عمل کے بعد، 2011ء میں رینجرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے سرفراز شاہ کے قاتلوں نے آخر صدر مملکت سے آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت رحم کی اپیل کی، جو ۲۰۱۸ میں مسترد کر دی گئی۔ انصاف کی فراہمی کا یہ ایک اعلی نمونہ تھا اور اس سے عدلیہ کی ساکھ پر مثبت اثر پڑا تھا۔ اسی طرح کے ایک واقعے میں بلوچستان کے شہر تربت میں ایک یونیورسٹی کے طالب علم کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس ہلاکت کے بعد فرنٹئیر کور کے ایک فوجی کی گرفتاری نے مقامی آبادی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان…
مولانا فضل الرحمان کا افغانستان کا دورہ طالبان کے ساتھ بگڑے ہوئے تعلقات کو ٹھیک کرنے کی ایک اور کوشش تھی۔ پاکستان کو امید تھی کہ مولانا طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ سے براہ راست رابطے کا ذریعہ بنانے میں مدد کریں گے، جو اپنے پیشرو کی طرح ان گنت وجوہات سے راز کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ابھی ابھی ایک معمہ ہے کہ آیا مولانا ایسا چینل بنانے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ تاہم، پاکستان کے دفتر خارجہ نے فوری طور پر خود کو ان کے دورے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)…
اگر وزیراعظم ہاؤس کے دروازےبلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی قتل و غارت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے بلوچ مظاہرین کے لئے کھول دیئے جاتے اور یا اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدرانہیں اپنی دردناک کہانیاں سننے کا موقع دے دیتے، تو کیا یہ بحران زدہ صوبے کے لیے ایک اہم اعتماد سازی کا اقدام نہ ہوتا؟ بلوچستان دہائیوں سے بغاوت، دہشت گردی، خراب حکمرانی اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔ اسلام آباد کی سرد راتوں میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے متاثرہ خاندان انصاف کے لیے آئے تھے اور انہیں پولیس کے وحشیانہ استقبال اور نگران حکومت…
