Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»کراچی میں امن کے لیے کیا ضروری ہے؟
    رواں تبصرے

    کراچی میں امن کے لیے کیا ضروری ہے؟

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےاگست 1, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نوٹ : آپ کی رائے جامع، واضح ، با مقصد اور مختصر ہونی چاہئے۔اپنی رائے اور الفاظ کے استعمال میں انتہائی احتیاط کیجئےتاکہ کسی بھی فرد کے جذبات مجروح ہونے کا خدشہ نہ ہو ۔

    سندھ میں سائیں قائم علی شاہ کا آٹھ سالہ دور اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ نئے وزیر اعلـٰی سید مراد علی شاہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جس میں سر فہرست کراچی میں آمن وآمان کو برقرار رکھنا ہے۔کراچی میں امن وامان کو رینجر کی موجودگی سے مشروط کردیا گیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوگیا ہے کہ رینجر کے بغیر شہرمیں امن وامان قائم نہیں رہ سکتا اس تاثر کے پیچھے بہت سی تاویلات ہیں اور انہی کی بنیاد پر کراچی میں رینجر کے اختیارات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پورے صوبہ سندھ کو  ان کے خصوصی  دائرہ کار میں دینے کا مطالبہ ہوتا ہے۔

    نئے وزیر اعلیٰ رینجر کے اختیارات میں توسیع کریں گے لیکن  کیا یہ مسئلے کا حل ہے؟ کیا فوج اور پیرا ملٹری فورسز کو پولیس کے طور پر کرنا دانشمندی ہے؟ اور اس قسم کے کردار سے عسکری اداروں کی اپنی ساخت ،بنیادی اہداف اور سب سے اہم کار گردگی پر کسی قسم کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔پولیس کا کام روزمرہ سلامتی امور ،جرائم اور بدامنی پر قابو پانا ہیں اور اس کام کے لیے ان کا عوام سے براہ راست رابطہ ضروری ہے بلکہ بہتر پولیسنگ کے لیے عوام کے ساتھ موثر رابطہ اور اعتماد کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔انہی اصولوں پر پولیس کی تربیت کی جاتی ہے کیا رینجر کی تربیت بھی اسی بنیادی اصول پر کی جاتی ہے؟

    جواب یقیناً نفی میں ہے۔تو حل کیا ہے؟ بہتر پیشہ ورانہ سیاسی  اور عسکری اداروں کے اثر و رسوخ سے آزاد پولیس، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس سلسلے میں اعلان کیا تھا کہ کراچی پولیس کی بھرتیاں اور ان کی تربیت فوج کے ذریعے کی جائے گی۔یہ بیان وفاقی اور صوبائی وزارت داخلہ اس بھرتی کے طریقہ کار اور اس کی تربیتی اداروں کی اہلیت پر ایک سوال ہے۔بہر حال سندھ اور پاکستان میں پولیس اور دیگر سیکورٹی کے اداروں میں بہتری اور اصلاح کی ضرورت ہے اور اسے ملتوی یا کسی اور ادارے کے سپرد کرنا ان سیکورٹی اداروں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔لیکن فی الحال بنیادی ترجیح سندھ اور خصوصاً کراچی میں پولیس کی نظام کے نظام میں بہتری اور اس پر عوام کی اعتماد کی بحالی ہے۔ہنگامی طور پر دیگر عسکری اداروں سے مدد لی جا سکتی ہے اور ترچیح یہی ہونی چاہیے کہ رینجر کی خدمات اہم تھیں لیکن اب اس سے مستقل بنیادوں پر پولیسنگ کی ذمہ داری دینا دانشمندی نہیں ہوگی۔امید ہے نئے وزیر اعلٰی اس سمت میں سوچ رہے ہونگے

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبرہان وانی کے بعد کا کشمیر
    Next Article تعلیم کا بنیادی مقصد اور اسلامی نظریاتی کونسل کا نقطہ نظر
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by