Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»علی حیدر گیلانی کی بازیابی اور ٹیرر فنانسنگ
    رواں تبصرے

    علی حیدر گیلانی کی بازیابی اور ٹیرر فنانسنگ

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےمئی 10, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نوٹ : آپ کی رائے جامع، واضح ، با مقصد اور مختصر ہونی چاہئے۔اپنی رائے اور الفاظ کے استعمال میں انتہائی احتیاط کیجئےتاکہ کسی بھی فرد کے جذبات مجروح ہونے کا خدشہ نہ ہو ۔

    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے، علی حیدر گیلانی افغانستان سے تین سال بعد بازیابی ایک اچھی خبر ہے۔یہ بازیابی افغان اور امریکی فورسز کے ایک مشترکہ آپریشن میں غزنی صوبے سے ہوئی ہے۔علی حیدر القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کے قید میں تھے۔ شہباز تاثیر جو چند ماہ پہلے پاکستان پہنچے، وہ بھی القاعدہ سے منسلک ایک وسط ایشیائی تنظیم کی قید میں تھے۔

    القاعدہ اور اس سے منسلک گروپ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں ۔ 2007 سے 2013 کے درمیان ایسی وارداتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ جو لوگ اغوا ہوئے ان میں پاکستان اور غیر ملکی سفیر،غیر ملکی سیاہ اور امدادی تنظیموں کے کارکن بھی شامل تھے۔تاجر اور صنعت کار ان کے اہم ٹارگٹ رہے ہے۔جرائم پیشہ سرگرمیاں اور اغوا برائے تاوان دہشت گرد گروہوں کے ذرائع امدن کا اہم ذریعہ رہا ہے۔گذشتہ تین سالوں میں ایسی وارداتوں میں کمی ،آپریشن ضرب غضب اور ریاست کے دیگر اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ان اقدامات میں مزید بہتری کی گنجائش ہے خاص طور پر پشاور اور اس کے گرد و نواح میں یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

    انسداد دہشت گردی کا ایک اہم ہدف جرم اور دہشت گردی کے رشتے کو کمزور کرنا اور دہشت گردی کے لیے دستیاب وسائل کو روکنا ہوتا ہے ۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کام کر رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ محکمے دیگر خاص اداروں کی مدد سے اغوا برائے تاوان جیسے وارداتوں کے لیے خصوصی یونٹ تشکیل دیں،تاکہ دہشت گردی کے لیے دستیاب وسائل کے ایک بڑے ذریعے کو بند کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ آپ کیا تجویز کریں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآؤ پاکستان بنائیں
    Next Article بات سیاسی کلچر کی ہے
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by