Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»سعودی عرب ایران اور بھارت :پاکستان کی سفارت کاری کا امتحان
    رواں تبصرے

    سعودی عرب ایران اور بھارت :پاکستان کی سفارت کاری کا امتحان

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےاپریل 4, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر ہیں ،جہاں انھوں نے معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعاون میں تعاون کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف معلومات کا تبادلہ اور دہشت گردی کے لئے ہونے والی فنڈنگ پر تعاون کی یاداشتوں پر بھی دستخط کئے ۔حالیہ تناظر میں سعودی عرب کے سامنے دو بڑے چیلنج ہیں کہ اپنی تیل کی مارکیٹ کو ایران کی دست برد سے بچانا اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے تناؤ کے تناظر میں خارجہ اور دفاعی تعلقات کو وسعت دینا ۔بھارت کے سامنے پھیلتی معیشت اور عرب ممالک میں اس کے انسانی وسائل کی کھپت کے علاوہ کئی دفاعی اور سفارتی معاملات  اسے سعودی عرب کے قریب لا رہے ہیں ۔ان معاملات میں پاکستان کے قریبی دوست ممالک کے ساتھ روابط بڑھانا ہے جس سے پاکستان پر دباؤ بڑھانا بھی مقصود ہے ۔

    دوسری طرف گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت اور ایران کے تعلقات اعتماد کی اعلٰی سطح تک پہنچے ہیں لیکن پاکستان اور ایران کے تعلقات اگر تناؤ کا شکار نہیں بھی رہے تو ان میں اتار چڑھاؤ ضرور آتا رہا ہے ۔مشترکہ مذہبی ، سماجی اور ثقافتی رشتوں کے با وجود دونوں ممالک کے تعلقات میں زیادہ گرم جوشی نہیں ہے ،یہاں تک کہ دو طرفہ معاشی ، تزویراتی اور دفاعی چیلنجوں میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات بھی باہمی تعلقات کو ہموار نہیں کر سکے ۔

    سعودی عرب اور ایران کی بڑھتی ہوئی مخاصمت کم کرنے میں پاکستان کی جانب سے اہم کردار ادا کرنے کی کو ششیں بارآور نہ ہو سکیں۔بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور ایرانی علاقے میں بھارتی جاسوسوں کے نیٹ ورک کی خبروں نے اعتماد سازی کے عمل کومزید نقصان پہنچایا ہے ۔ا س تناظر میں آپ کی رائے کیا ہے ؟ پاکستان دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات میں توازن کیسے برقرار رکھ سکتا ہے ؟اور دونوں ممالک سے وابستہ اپنے معاشی اور دفاعی تعاون کو کیسے بڑھا سکتا ہے ؟

    نوٹ : آپ کی رائے جامع، واضح ، با مقصد اور مختصر ہونی چاہئے۔اپنی رائے اور الفاظ کے استعمال میں انتہائی احتیاط کیجئےتاکہ کسی بھی فرد کے جذبات مجروح ہونے کا خدشہ نہ  ہو ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدولتِ اسلامیہ کا نیا رخ
    Next Article دینی مدارس کا نصاب ونظام ۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by