صوبےمیں چھوٹی سطح کے ایسے عسکری گروہ (بشمول سلیپر سیل) موجود ہیں جو کہ علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے مدد گار ہیں
جنوبی پنجاب میں آپریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔یہ آپریشن جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں ڈیلٹائی علاقے جسے عرف عام میں کچھے کے علاقے کہا جاتا ہے میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہو رہا ہے ۔گلشن اقبال لاہور کے وحشیانہ حملے کے بعد حکومت یہ آپریشن کر رہی ہے اگرچہ بظاہر اس دہشت گردی کی واردات اوراس آپریشن میں براہِ راست کو ئی تعلق نہیں ہے ۔بہرحال اس آپریشن کا عرصے سے انتظار تھا اس آپریشن سے متعلقہ اضلاع میں لا قانونیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔
اخباری اطلاعات کے مطابق اس مشترکہ آپریشن میں سیکورٹی اداروں کے 1600 اہلکار حصہ ے رہے ہیں جن میں پولیس ،ایلیٹ فورس ، محکمہ انسداد دہشت گردی اور رینجرز کے اہلکار بھی شامل ہیں جن کو پاک فوج کی بھی مدد حاصل ہے ۔ یہ آپریشن پوری یکسوئی کے ساتھ جاری ہے۔بظاہر ایسے کوئی آثار نہیں ہیں جن کی بنیاد پر اس آپریشن کے بارے میں کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا سکے ماسوائے اس کے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں سرگرم سب سے اہم گروپ کا لیڈر غلام رسول المعروف چھوٹو اپنے کمانڈروں کے ساتھ گوادر کے راستے عمان فرار ہو گیا ہے ۔اس کا گینگ ڈکیتی ،اغوابرائے تاوان ،کار چوری اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تھا ۔اس گروپ نے متعدد بار سیکورٹی چیک پوسٹوں سے کئی پولیس اہلکاروں کو بھی اغوا کیا تھا ۔اسی نوع کے پانچ دیگر گروپ بھی اسی علاقے میں سرگرم ہیں جو جرائم پیشہ افراد کو تحفظ دینے کے لئے بھی شہرت رکھتے ہیں ۔
تاریخی طور پر ریاست ،انتہا پسند گروہوں کے خلاف اس وقت تک مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے میں ہچکچاہت کا شکار رہی ہے تاوقتیکہ وہ ریاست کے خلاف بر سر پیکار نہ ہوں
ان جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی جانب سے آخری آپریشن مئی 2015 ء میں ہوا تھا جس میں مخصوص حد تک ہی کامیابی حاصل کی جا سکی تھی ۔تاہم اس علاقے میں اب تک کا سب سے کامیاب آپریشن2011ء میں کیا گیا تھا جس کا سہرہ رحیم یار خان ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور اضلاع کی پولیس کے سر جاتا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوانوں نے بھی اس آپریشن میں سیکورٹی فورسز کی مدد کی تھی ۔مگر اس آپریشن کی دھاک وقتی ثابت ہوئی کیونکہ جرائم پیشہ افراد نےکچھ عرصہ بعد پھر اپنی قوت اکھٹی کر لی تھی ۔پولیس کے پاس نہ اتنے وسائل تھے اور نہ صلاحیت کہ جس کی بنا پر وہ اتنے وسیع علاقے پر اپنی عمل داری یقینی بنا سکتی اور مستقل بنیادوں پر زیادہ چوکیاں یا نفری تعینات کر سکتی ۔پنجاب حکومت نے اگرچہ ایلیٹ فورس بنائی جو کہ فوری رد عمل دینے کی اہلیت رکھتی تھی ۔انسداد دہشت گردی فورس کی بھی تنظیم نو کی گئی مگر پولیس کو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کی تربیت دینے کی جانب بہت کم توجہ دی گئی ۔اس لئے اگر حکومت اس امر میں سنجیدہ ہے کہ دریائے سندھ کے اطراف کا علاقہ جرائم پیشہ گروہوں سے پاک کرانے کے بعد یہاں دوبارہ پہلے والے حالات پیدا نہ ہوں تو پھر انھیں پولیس کی صلاحیت اور نفری بھی بڑھانی ہو گی ۔
اگرچہ آئین کو ماننے کا مسئلہ کالعدم تنظیموں کے لئے متنازعہ رہا ہے ۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان تنظیموں کی دہشت گرد گروہوں سے راستہ یا حکمت عملی مختلف ہو سکتی ہے مگر ان کی منزل تقریباً ایک ہی ہے ۔
یہ کہنا غیر صحیح نہیں ہو گا کہ اس طرح کی آپریشن سے پنجاب میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پنجاب میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے مابین کوئی گٹھ جوڑ موجود ہے تو بھی یہ تعلق ثابت کرنے کے لئے اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہو گی ۔
تاہم دو وجوہات ایسی ہیں جن کی بناء پر قومی سطح پر انسداد دہشت گردی کے لئے پنجاب سب سے اہم ہے۔ پہلی یہ کہ صوبےمیں چھوٹی سطح کے ایسے عسکری گروہ (بشمول سلیپر سیل) موجود ہیں جو کہ علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے مدد گار ہیں ۔دوسرا یہ کہ یہ کالعدم عسکری گروہوں اور مذہبی تعصب پھیلانے والوں کے لئے پناہ گاہ کے طور پر بھی کام کرتے ہیں ۔جو کہ نہ صرف عسکری گروہوں کو افرادی قوت مہیا کرتے ہیں بلکہ متشدد اسلامی تحریکوں کی نظریاتی سمت نمائی بھی کرتے ہیں ۔
نیشنل ایکشن پلان جو کہ کالعدم تنظیموں کے بارے میں بہت واضح حکمت عملی رکھتا ہے مگر اس کے بر عکس ہر مسئلے کا حل آپریشن میں دیکھنے کے رجحان نے منظر دھندلا دیا ہے ۔اب معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ کیا ہو رہا ہے اور کس کے خلاف ہو رہا ہے
ان کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ خفیہ معلومات کی بناء پر مشترکہ آپریشنز کئے جائیں ۔کیونکہ چھوٹی سطح کے یہ عسکری گروہ کھلے عام نہیں بلکہ گلی محلوں میں چھپ کر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ان کے خلاف ملک کے مختلف حصوں بشمول پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں آپریشنز جاری ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے ۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ آپریشنز مؤثر ثابت نہیں ہو رہے تو پھر ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی ربط اور تعاون کا تجزیہ کرنا ہو گا کہ کیوں ایسا نہیں ہو پا رہا ؟
مزید بر آں کالعدم گروہوں اور متعصب مذہبی تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہو گا جہاں سے وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں ۔ تاریخی طور پر ریاست ،انتہا پسند گروہوں کے خلاف اس وقت تک مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے میں ہچکچاہت کا شکار رہی ہے تاوقتیکہ وہ ریاست کے خلاف بر سر پیکار نہ ہوں ۔ابھی حال ہی میں ایسے ہی ایک گروہ نے لاہور میں مصالحتی عدالتیں قائم کر کے ریاست کو چیلنج کیا ہے ۔اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ دولت اسلامیہ ،ا لقائدہ ،تحریک طالبان اورجماعت الاحرار جیسے دوسرے گروہ ان تنظیموں سے ہی افرادی قوت حاصل کرتے ہیں ۔ریاست اور ان کالعدم تنظیموں کی لیڈر شپ اس عمل کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔
حکومت میں شامل کچھ عناصر کا خیال ہے کہ حکومت کو کالعدم گروہوں کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہئے کیونکہ ان کا ڈھانچہ بہت وسیع ہے اور یہ گروہ ریاست کے خلاف بر سر پیکار بھی نہیں ہیں ۔اس سلسلے میں وہ دوسری توجیح یہ بھی دیتے ہیں ہے کہ یہ گروہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں ۔اگرچہ آئین کو ماننے کا مسئلہ کالعدم تنظیموں کے لئے متنازعہ رہا ہے ۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان تنظیموں کی دہشت گرد گروہوں سے راستہ یا حکمت عملی مختلف ہو سکتی ہے مگر ان کی منزل تقریباً ایک ہی ہے ۔
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ان میں سے ہی ایک کالعدم گروہ نے دعوی ٰ کیا ہے کہ کشمیر کی آزادی اوربھارت کے مسلم اکثریت کے علاقوں کےپاکستان میں ادغام کے بعد وہ اندرونی انقلاب پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا ۔یہ تنظیمیں دہشت گرد گروہوں کے لئے ایساماحول پیدا کرتی ہیں جن سے دہشت گردوں کو فائدہ ہوتا ہے ۔
حکومت یہ کہہ کر اپنی جان خلاصی نہیں کر سکتی کہ اس کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے ۔نیشنل ایکشن پلان جو کہ کالعدم تنظیموں کے بارے میں بہت واضح حکمت عملی رکھتا ہے مگر اس کے بر عکس ہر مسئلے کا حل آپریشن میں دیکھنے کے رجحان نے منظر دھندلا دیا ہے ۔اب معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ کیا ہو رہا ہے اور کس کے خلاف ہو رہا ہے ؟نیشنل ایکشن پلان کی وہ دفعات جو کہ منافرانہ خطابات ،نفرت انگیز مواد ،دہشت گردی کے لئے مالی مدد اور مدرسہ اصلاحات سے متعلق ہیں ان کا کالعدم عسکری گروہوں کی نقابیں کھینچے سے براہ راست تعلق ہے ۔
اگر حکومت کالعدم تنظیموں پر سخت ہاتھ ڈالنے سے ہچکچاتی ہے تو وہ کوئی دوسری حکمت عملی اختیارلے لیکن اس معاملے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاجا رہا ۔ان گروہوں کے تنظیمی ڈھانچے کو غیر مؤثر بناننا ہو گا تاکہ ان کے ممبران کو معاشرے میں دوبارہ ضم کیا جا سکے۔بالاخر یہ فیصلہ حکومت کو ہی کرنا ہے کہ یہ وہ ان گروہوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی بھی ہے یا نہیں یا ان کے سامنے بے بس تماشائی بنی رہے گی ۔
دوسرا حل ایک عبوری حل ہے کہ جس کے تحت ان کومخصوص حد تک کام کی اجازت دی جائے اس شرط کے ساتھ کہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستان سے باہر ہر قسم کی عسکری سرگرمیوں کے خاتمے اور تشد کا راستہ ترک کر نے کا اعلان کر دیں ۔اور ساتھ ہی مجرمانہ سرگرمیوں جن میں منافرانہ پیغامات بھی شامل ہیں کو ختم کر دیں ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے گروہوں کی رجسٹریشن اور مانیٹرنگ کاوفاقی اور صوبائی سطح پر باقائدہ کوئی نظام ہو نا چاہئے ۔کسی بھی ایسی حکمت عملی کے بغیر کالعدم گروہوں کا کچھ بگاڑا نہیں جا سکے گا ۔حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق دوبارہ جائزہ لینا ہو گا کہ کیسے اس پر مؤثر طریقے سے عمل در آمد یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ :سجاد اظہر )
