اس دعوے کو مانتے ہوئے سو بار سوچے گا کہ پنڈی ، پنڈ کا اسم صغیر ہے کہ نہیں ۔حالانکہ پنڈ سے چهوٹی آبادی کیلئے اور کئی نام ہیں مثلا” ڈیرا ، جهوک ، ڈہوک ، گراں ، وانڈهی یا وانڈہا وغیره

راول جوگیوں کا قبیلہ تھا ، ان کے پنڈ کو مزید چھوٹا کر کے پنڈی کہہ بھی دیا جاتا تو شاید وه اس کی پروا نہ کرتے لیکن پنڈی گھیب کے گھیبے راجپوت، نواب اور پنڈی بھٹیاں کے بھٹی حکمران راجپوتوں کی راج دهانیوں کو پنڈ کے معنوں میں پنڈی کون کہہ سکتا تھا ۔ بھٹی تو اپنی آن بان کیلئے شہنشاه اکبر وجہانگیر سے بھی متھا لینے سے نہیں ٹلتے تھے – انا کے مارے لوگ اپنے شہروں کو پنڈ سے بھی چھوٹا کیسے پکارتے۔
میں تاریخ دان نہیں ہوں اور نہ ہی  میں پوٹھوار کے کلچر اور زبان کی نزاکتیں سمجهتا ہوں لیکن تھوڑی سی عقل استعمال کرنے والا مخاطب بھی پوٹھواری دانشوروں کے اس دعوے کو مانتے ہوئے سو بار سوچے گا کہ پنڈی ، پنڈ کا اسم صغیر ہے کہ نہیں ۔حالانکہ پنڈ سے چھوٹی آبادی کیلئے اور کئی نام ہیں مثلا” ڈیرا ، جھوک ، ڈہوک ، گراں ، وانڈهی یا وانڈہا وغیره –

1974 میں ہماری براڈکاسٹنگ اکیڈمی کے پرنسپل رفیقی مرحوم پنڈورا بکس کہتے تھے اور ہم ٹرینی پروڈیوسرز کو اس علاقے میں نہایت احتیاط کا مشوره دیا جاتا تھا  کیوں کہ پنڈورا کے لوگ مسافروں کو لوٹ لیتے تھے – مزے کی بات یہ ہے کہ ہندی میں لٹیرے کیلئے پنڈارا کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے

اب سوال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا پنڈی کا کوئی اور مطلب یا معنی بھی ہو سکتے ہیں – جی ہاں – پنڈی کے ہندی زبان میں بے شمار معنی ہیں – اور اکثر پرانے قدیم الفاظ خاص طور پر بستیوں کے نام جو ہم بغیر سوچے سمجھے بولتے تو ہیں لیکن ان کے معنی نہیں جانتے وه ہندی لغات میں بھرپور معانی کے ساتھ نظر آتے ہیں – مثلا” سوات کے ہندی میں معانی ہیں ، چاند کا پندرہویں منزل میں ہونا – بفہ ہزاره کے باسی نوٹ کر لیں ، بفہ کے چار معانی ہیں – دو یاد آرہے  ہیں – ایک تو ہے ، میلے پانی کی ندی دوسرا وه کھائی جو جانوروں کو پکڑنے کیلئے کھود کر گھاس پھونس سے چھپا لی جائے یعنی trench- سوانس میانوالی کا گاؤں ہے- سوانس کے معانی ہیں سونے اور پیتل کا بھرت – سوانس کے لوگوں کے چہرے کی رنگت بھی یہی ہے – سوان کے معنی ہیں ایک کتا ، شور ، آواز ۔ چوهاکے معنی تو سب جانتے ہیں کہ رستے پانی یعنی چشمے کو کہتے ہیں ، تھوھا کا مطلب کسی کو نہیں معلوم – تھوها محرم خان , تھوها بهادر اور تھوها محمد خان ضلع چکوال کے دیہات ہیں – تھوها کا مطلب ہے مٹی کی پہاڑی یا اونچی ڈهیری – راولپنڈی کا ایک علاقہ  پنڈورا ہے – اسے 1974 میں ہماری براڈکاسٹنگ اکیڈمی کے پرنسپل رفیقی مرحوم پنڈورا بکس کہتے تھے اور ہم ٹرینی پروڈیوسرز کو اس علاقے میں نہایت احتیاط کا مشوره دیا جاتا تھا  کیوں کہ پنڈورا کے لوگ مسافروں کو لوٹ لیتے تھے – مزے کی بات یہ ہے کہ ہندی میں لٹیرے کیلئے پنڈارا کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے – کوٹ اس شہر کو کہتے تھے جس کے چاروں طرف دیوار چنی ہو –

راول ہندو جوگیوں کے عقیدے سے منطبق ہوتے ہیں وه ہیں مٹی سے بنی مکعب نما قربان گاه جس پر نزرانے اور منتیں رکھی جائیں یا شیو لنگہ کا اوپر کا حصہ یا ایسا  پتھر جو شیو کی مورتی کے طور پر رکها جائے ۔

یہ چند الفاظ تو میری بے قاعده ورق گردانی کا نتیجہ ہیں جو platts کی عربی فارسی ہندی انگلش ڈکشنری اور فیلن کی اردو ہندی انگلش ڈکشنری میں آپ بھی دیکھ سکتے ہیں لیکن کوئی ہندی یا سنسکرت کا عالم ہماری مزید مدد کر سکتا ہے – اب آئیے پنڈی کے لفظ کی طرف –
پنڈی کے ہندی میں بہت سے معانی ہیں – تاروں کا گچها ، دهاگے کی گولہ نما پنی ، کھجور کی ایک قسم ( میانوالی میں پکی ہوئی چکنی کھجور کو پنڈ کہتے ہیں ) ، پھیئے کی ناه یعنی hub ، کچہ درخت بھی پنڈی کہلاتے ہیں ، لیکن جو اہم ترین اور توجہ طلب معانی ہیں اور راول ہندو جوگیوں کے عقیدے سے منطبق ہوتے ہیں وه ہیں مٹی سے بنی مکعب نما قربان گاه جس پر نزرانے اور منتیں رکھی جائیں یا شیو لنگہ کا اوپر کا حصہ یا ایسا  پتھر جو شیو کی مورتی کے طور پر رکها جائے ۔
ڈآکٹر احسن واگھا نے راول کے لفظ کی طرف اشاره کرتے ہوئے اس عام تصور کی طرف توجہ دلائی ہے کہ راول ، اصل میں راہول ہے اور راہول مہاتما بدہ کا بیٹا تھا۔
راول کو ہندی میں انگریزی کا لفظ royal ہی سمجھئے  – شہزاده ، سردار ، ماہر جنگجو – راول ، شاہی محل اور دربار کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے  –
اسلام آباد مرگلہ کے دامن میں ایک بڑ کا درخت ہے – یوسف بنگش صاحب اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان اسے دیکھنے جاتے تھے وه خود کو بدھوں کا پیروکار  کہتے تھے – 1982 میں ایک بارمیں بھی ان کے ساتھ وہاں گیا تھا – معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں مقیم بدھ سفارت کار بھی اس درخت کو دیکھنے آتے ہیں – ان کا خیال ہے کہ یہاں مہاتما بدھ آئے یا یہاں قیام کیا تھا – دیکھنے میں وه درخت بہر حال اتنا پرانا لگتا نہیں تھا – ان لوگوں نے وہاں ایک معمولی سا چبوتره بھی بنالیا تھا – بعد میں کچھ جوشیلے مسلمانوں نے اس چبوترے کو توڑنے کی کوشش بھی کی تھی – اب کیا صورتحال ہے مجھے نہیں معلوم لیکن تیکشلا تو بہر حال واضح طور پر بدھ مرکز تھا اور یہاں آکر بدھ کے مجسمے کی ناک بھی چپٹی ہونے کی بجائے مقامیوں کی طرح تھوڑی نوکدار نظر آتی ہے – یہ خیال قرین قیاس ہے کیونکہ بدھاکے ایک بیٹے کا نام راہول تھا – اور اس کے معانی ہیں جو تمام دکھوں اور تکالیف سے کامیاب ہو – بہر حال راول جوگیوں کی یہاں بود و باش کی روایت بہت پرانی نہیں – اور دوسری اہم بات یہ کہ پنڈی میں جھنڈا چیچی اور ارد گرد کا علاقہ قدیم بستی کا علاقہ تھا – پوٹھوار کے سب سے معتبر تخلیق کار شاعر ڈرامہ نگار اور میرے براڈکاسٹر ساتھی شاه جی اختر امام رضوی کے مطابق شاہوں کے قافلے اور لشکر اترتے تھے تو شاهی خیمے کی پہچان کیلئے یہاں شاہی جھنڈا گاڑا جاتا تھا اسی کی مناسبت سے اس جگہ کا نام جھنڈا پڑگیا ہے –

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version