کیا بات چیت کا سلسلہ ایک بار پر شروع ہوسکے گا؟اور کیسے؟مستقبل کے امیر مُلا یعقوب کی سیاسی اور سفارتی صلاحیتوں کا یہ کڑا امتحان ہوگا۔

تحریک طالبان افغانستان کی رہبر شوری نے ملا ہیبت اللہ کو نیا امیر مقرر کردیا ہے۔ امارت کے دو مظبوط ترین امیدوار ملا محمد یعقوب اور سراج الدین حقانی تھے۔ لیکن قرعہ فال ان کے نام نہیں نکلا اور دونوں ملا ہیبت اللہ کے نائبین کی حیثیت سے کام کریں گے۔ حالات و واقعات اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک کے عسکری اور سیاسی معاملات نائبین ہی چلائیں گے اور مُلا ہیبت اللہ کی حیثیت ایک علامتی سربراہ کی  ہوگی۔

طالبان کے منقسم مزاج اور مختلف الخیال گروہوں کو اکھٹا رکھنے کے لیے مُلا ہیبت اللہ جیسے سربراہ کی ضرورت تھی، جو تمام فریقین  کے لیےقابلِ قبول ہو اور اپنی مذہبی شخصیت کے باعث مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات کو نہ صرف  حل کروا سکتا ہو بلکہ ان کے درمیان  توازن بھی برقرار رکھ سکتا ہو تحریک میں اس اتفاق کو برقرار رکھنا ہی ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوگی۔

سراج حقانی کے امارات قبول نہ کرنے کی ایک وجہ  یہ بتائی  جاتی ہے کہ وہ اپنے حصے کے وسائل باقی تنظیم میں تقسیم  کرنے پر تیار نہیں تھے۔ اور دوسرے ان کی امارت پاکستان کے اوپر دباؤ کا سبب بن  سکتی تھی۔ نئے تناظر میں وہ عسکری محاظ سنبھالیں گے اور اس مرتبہ ان  کے لیے دوہرا چیلنج ہوگا کہ ان  کےگروپ  کی دہشت گردی کی حملوں میں جو مہارت ہے  اس کو برقرار رکتھے ہوئے مُلا منصور  کی عسکری مہمات کو کیسے جاری رکھا جائے۔اگرچہ  ہلمند کا کنٹرول حاصل کرنے میں مُلا ذاکر اور مُلا یعقوب کا کردار اہم تو ہوگا لیکن حقانی کے لیے متحرک عسکری حکمت عملی بنانا اہم چیلنج ہوگا ۔

سیاسی محاذ پر مُلا یعقوب پر دباؤ ذیادہ رہے گا۔ تحریک میں کابل سے بات چیت کے مخالفین، جن کی طرف تحریک کے امیر کا جھکاو بھی ہوگا، سےسیاسی تعاون حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج  ہوگا۔

کیا بات چیت کا سلسلہ ایک بار پر شروع ہوسکے گا؟اور کیسے؟مستقبل کے امیر مُلا یعقوب کی سیاسی اور سفارتی صلاحیتوں کا یہ کڑا امتحان ہوگا۔

دوسری طرف واشنگٹن سے عندیہ ہے کہ وہ طالبان قیادت پر سے دباؤں کم نہیں کرے گا اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ہلمند اور حقانی  کے زیر اثر  علاقوں میں فضائی حملوں کے بڑھنے کی صورت میں طالبان قیادت  پر اندرونی دباؤ بڑھے گا ۔ کابل اور واشنگٹن کے لیے یہ بہت آئیڈیل منظرنامہ ہوگا کہ طالبان خود مذاکرات کی حامی بھریں۔ لیکن اس ممکنہ منظر نامہ پر ابھی کئی سوالیہ نشان ہیں۔

بہر حال طالبان کو اندرونی اور بیرونی دباؤں کا سامنا ہوگا۔ اسلامک سٹیٹ اگرچہ کمزور پڑچکی ہے،لیکن طالبان عسکری قوت کی کمزوری یا سیاسی وقعت میں کمی، دونوں صورتیں اس لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہیں یہ تیسرا چیلنج ہے جسے تحریک اپنے سامنے رکھے گی۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version