پاکستان کا بڑا دُشمن کون ہے؟ دہشت گرد یا ڈرونز؟ شاید اس سوال کا جواب اتنا سادہ نہ ہوجس قدریہ دکھائی دیتا ہے۔

بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت نے خود مختاری، علاقائی استحکام، افغانستان میں امن اور پاک چین اقتصادی راہداری کی سیکورٹی، وغیرہ سمیت مختلف مسائل کے بارے میں ایک پیچیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ پہلے ہی سے بگڑتے پاک امریکہ تعلقات پر منفی اثر پڑنا ہی تھا،لیکن اس واقعے نے ایران کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق جب ملا منصور کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ،اُس وقت وہ ایران سے آرہا تھا۔ پاکستان کے لیے ایران  فیکٹر انڈیا اور مشرق  وسطی  کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تاثر ہے کہ پاکستان مشرق  وسطیٰ کو ایران اور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن کے عنصر کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ظاھر ہے کہ ملا منصور کی موت کے تناطر میں ان تعلقات پر بھی بات کی جا سکتی ہے۔کیا یہ حیران کن نہیں لگتا ہے کہ طالبان رھنماء کی ھلاکت کا سارے تزوراتی اور علاقائی سیاسی منظرنامے سے کیا تعلق ہے؟

پاکستان میں جاری بحث  سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملا منصور ایک مصلح تھا، اور جیس انداز میں کی موت کا ذکر ہورہا ہے،اس سے باہر کی دنیا میں ان شبہات کو طاقت ملتی ہے کہ افغان طالبان پاکستان کا اثاثہ ہیں ۔وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان کہ نوشکی میں ہونے والا ڈرون حملہ پاکستان کی سا لمیت پرحملہ تھا،ڈرون واقعات پر ہمیشہ کی طرح پاکستان کے ردِ عمل کے عین مطابق تھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو ہم نے بین الااقوامی فورموں پر ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت  چیلنج کیوں نہیں کیا۔

تازہ پیش رفت افغانستان اور خطے میں استحکام کے موقع کا انتہائی معدوم اشارہ کرتی ہے ۔ پاکستان مخالف دہشت گرد جو افغانستان میں پناہ گزین ہیں ،ان کے بارڈر پار حملوں کو روکنا پاکستان کے لیے ایک مشکل چیلنج ہو گا

وزیرِر دفاع نے بہت دلچسپ نکات اُٹھا ئے :ملا فضل اللہ کو ڈرون اپنا نشانہ کیوں نہیں بناتے،جو پاکستان مخالف تحریکِ طالبان پاکستان کا سربراہ ہے ،جو بارڈر کے اُس طرح افغانستان میں ہے کیا ھمیں یاد ہے کہ اہم ٹی ٹی پی رہنما،بشمول قاری حسین،بیت اللہ محسود،ولی الرحمن اور حکیم اللہ محسود کوڈرون نے ختم کیا ہے ۔ان میں حکیم اللہ محسودبھی ہے، جن کی موت نے وزیرِر داخلہ کو ماتم زدہ کردیا تھا۔ملا منصور کی موت سے صرف چند دن قبل،  فوجی اُمور کے ایک معروف ماہر عقیل شاہ نے اپنے مطالعے میں ڈرون حملوں کے منفی نتائج کی داستانوں کو چیلنج کیا ہے۔اُن کے نتائج کے مطابق، ڈرون سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت ڈرون حملوں کی حمایت کرتی ہے۔شہباز تاثیر جومغوی تھے اور شدت پسندوں کی تحویل میں چار سال رہے ،اُن کا ٹویٹ کہ اُنہو ں نے ہمیشہ دہشت گردوں کو ڈرون سے خوفزدہ پایا، دلچسپ نکتہ پیدا کردیتا ہے۔ ڈرون آپریشنز میں پاکستان کے تعاون کا بھید ابھی تک پوشیدہ ہے ۔ایک وقت میں بین الااقوامی میڈیا کراچی میں مہران ائیر بیس حملے کو عسکریت پسندوں کی جنگی جہاز پر قبضہ کرنے کی ناکامیاب کوشش سے منسلک کررہا تھا،جس سے وہ ڈرون حملوں کی نگرانی کو کمزور کرنا چاہتے تھے ۔پاکستان اور امریکہ کے مابین دہشت گردی کے خلاف تعاون میں بہت سے ایسے اصول ہیں جو واضح نہیں ہیں ۔

دوسری طرف افغان طالبان اور پاکستان مخالف دہشت گردوں کے گروہوں کے درمیان بشمول تحریکِ طالبان پاکستان اور القاعدہ کے باھمی تعلقات کے بارے میں ابہامات ہیں ۔ٹی ٹی پی، ملا ہیبت اللہ کی اطاعت کا وعدہ کر چکی ہے،اس کا امکان ہے کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظاہری نے گذشتہ موسم گرمامیں جو ملامنصور کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا ،نئے سربراہ کے لیے اُس میں توسیع کریں گے۔طالبان اور ان کے ساتھی کسی ابہام کا شکار نہیں، ریاست ہی ان کے تعلق کو سمجھنا نہیں چاہتی۔

صرف افغان طالبان ہی نہیں ،حقانی نیٹ ورک بھی کو پاکستان کے اسٹریٹیجک اثاثے کو طور پر دیکھا جاتا ہے،دونوں گروپ پاکستان کے اندردہشت گردی کے حملوں کو روکنے کے لیے پاکستانی عسکریت پسندوں پر اپنا اثررسوخ استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ کاشکاررہے ہیں ۔وہ اپنے اتحادیوں کے مفادات کا تحفط کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حکومتوں کے ساتھ بھی  تعلقات رکھتے ہیں ۔

پاکستان نے افغانوں کے دل و دماغ جیتنے کے لیے سیاسی میدان میں بھی خاص سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ حتی کہ اسلام آباد کے سابق اتحادی،گلبدین حکمت یار مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں

بہت سے ماہرین کے لیے ایک بہت بڑا مسلہ ہےکہ پاکستان کےامریکہ  اور طالبان کے ساتھ تعلقات کی جہات کو کیسے سمجھنا جائے؟  امریکہ کے لیے افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ اوراندرونی استحکام ہدف ہو سکتا ہے۔ اس امر سے بھی انکار نہیں کہ واشنگٹن  افغانستان میں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا رھا ہو،لیکن پاکستان کے لیے افغانستان ایک مختلف سیاق و سباق رکھتا ہے ۔اس کےلیے انڈیا  فیکٹر  اہمیت رکھتا ہے مگر زیادہ اہمیت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے مغرب میں  ایک  دوست اور تعاون پر آمادہ قوم دیکھنا چاہتا ہے۔

زمینی حقائق اس تصور کو تقویت نہیں دیتے کہ پاکستان ایک دوست افغانستان ممکن بنا پائے گا ۔ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات بہت زیادہ ہیں اور پاکستان نے افغانوں کے دل و دماغ جیتنے کے لیے سیاسی میدان میں بھی خاص سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ حتی کہ اسلام آباد کے سابق اتحادی،گلبدین حکمت یار مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں ۔یہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ،افغانستان میں سیاسی ا ثر و رسوخ کھو چکا ہے ۔ اب پاکستان کے لیے متبادل اثاثے کو ن ھو سکتے ہیں؟

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظاہری نے گذشتہ موسم گرمامیں جو ملامنصور کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا ،نئے سربراہ کے لیے اُس میں توسیع کریں گے۔طالبان اور ان کے ساتھی کسی ابہام کا شکار نہیں، ریاست ہی ان کے تعلق کو سمجھنا نہیں چاہتی

طالبان ، پاکستان کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ یہ  اُمید کم ہے کہ افغانستان میں امن  ان کی ترجیح ھو۔ ایک عام طالبان، یہاں تک کہ اہم فیلڈ کمانڈرز بھی اس مغالظے کا شکار ہیں کہ جیت بہت قریب ہے۔    ان کا ملک میں کوئی سیاسی سرمایہ  بھی نہیں ہے اور سب سے اہم یہ  کہ وہ کابل کے ساتھ شراکت اقتدار  کرنے میں بھی کوئی فائدہ نہیں دیکھ رہے۔ انہوں نے ایک متبادل معیشت کھڑی کر دی ہے اور عراق اور شام میں شدت پسند اسلامی ریاست کے گروپ کی طرز پر ایک  ریاست کی طرح برتاﺅ کررہے ہیں ۔ ئہ صورتحال خوش کن نہیں ہے۔

تازہ پیش رفت افغانستان اور خطے میں استحکام کے موقع کا انتہائی معدوم اشارہ کرتی ہے ۔ پاکستان مخالف دہشت گرد جو افغانستان میں پناہ گزین ہیں ،ان کے بارڈر پار حملوں کو روکنا پاکستان کے لیے ایک مشکل چیلنج ہو گا ۔ واشنگٹن کے لیے افغانستان چیلنج رہے گااور پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کے امکانات رہیں گے ۔ ایک عام پاکستانی بھی ا س الجھن کاشکار رہے گا کہ ہمارا حقیقی دُشمن کون ہے ،ڈرونز یا دہشت گرد؟

بشکریہ ڈان،انگریزی سے ترجمہ احمد اعجاز

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version