Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»افغان مہاجرین کو تحفظ دینے والے کون ہیں ؟
    کالم

    افغان مہاجرین کو تحفظ دینے والے کون ہیں ؟

    اسلم اعوانBy اسلم اعوانجون 16, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سیاست، مذہب اور قومیت پرستی پر مبنی ہولناک داستان جس کا ایک ایک ورق چشم کشا ہے

    دیر آید درست آید کے مصداق بلآخر وفاقی حکومت نے ناجائز ذرائع سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے ان لاکھوں افغان مہاجرین کا سراغ لگانے کی خاطر پولیس کے زیر کمانڈ کام کرنے والی اسپشل برانچ کی خدمات حاصل کر لیں۔

    افغان وارکے ابتدائی ایام میں اے این پی،جمعیت علماءاسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی جیسی بائیں بازو کی مذہبی اور قوم پرست جماعتیں نقل مکانی کر کے پاکستان آنے والے مہاجرین اور روسی مداخلت کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والے مجاہدین کو باغی اور اشرار جیسے القاب سے پکارتیں اور انہیں وطن واپس پلٹ جانے کی ترغیب دیتی رہیں۔ نائن الیون کے بعد ان کے سیاسی مفادات تبدیل ہوئے تو یہی جماعتیں افغان مہاجرین کی یہاں غیرقانونی آباد کاری کی سب سے بڑی حامی بن کے ابھری ہیں۔افغانستان میں امریکی مداخلت کے بعد گزشتہ پندہ سالوں کے دوران جے یو آئی، اے این پی اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے جامع منصوبہ بندی کے تحت خیبر پختون خوا کے علاوہ بلوچستان میں بھی بڑے پیمانے پہ افغان مہاجرین کو پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں معاونت دی،اس سے قبل جماعت اسلامی بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالتی رہی۔

    چند دن قبل بلوچستان نشنل پارٹی کے چیئرمین اختر منگل نے پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان میں 19 لاکھ افغان مہاجرین کی مستقل موجودگی کے انکشاف کے ساتھ ہی مہاجرین کی وطن واپسی تک حکومت سے مردم شماری موخر کرنے کا مطالبہ کیا۔شاید اسی گمبیھر خدشہ کے پیش نظر حکومت نے ملک میں مردم شماری کے پروگرام کو ملتوی کر دیا۔موجودہ حالات میں ریاستی اداروں کو افغان مہاجرین کے جعلی شناختی کارڈز کی تحقیقات کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 20 مئی کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی وزیر حامد خان اچکزئی سمیت چار ممبران اسمبلی نے نادرا اور پاسپورٹ آفس جیسے وفاقی اداروں کی جانب سے ہزاروں مشکوک شناختی کارڈ بلاک کرنے کے عمل کو بدعنوانی کا شاخسانہ باور کراتے ہوئے مزاحمت کا عندیہ دیا۔اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاونٹ کمیٹی کے چئیرمیں مجید خان اچکزئی،پختون خوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبران صوبائی اسمبلی عبدالرحیم زیارت وال،شیخ جعفر خان مندوخیل اور لیاقت آغا نے حامد خان اچکزئی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وفاقی محکمے ژوب، پشین، لورالائی اور دیگر علاقوں میں رقم بٹورنے کی خاطر ہزاروں مقامی لوگوں کو افغان مہاجر کہہ کر ان کے شناختی کارڈ بلاک کرنے میں مصروف ہیں حالانکہ یہاں افغان مہاجرین کےلئے چند روپوں کے عوض شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا حصول زیادہ مشکل نہیں“۔

    صوبائی اسمبلی کے بااثر ممبران اور مقتدر وزیر کی طرف سے پاسپورٹ اور نادار دفاتر پہ عریاں الزام تراشی سرکاری افسران کو دباؤ میں لانے کا حربہ ہو سکتی ہے کیونکہ اسمبلی میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں بلوچستان کے ڈی جی نادار نے وفاقی حکومت کو لکھے گئے جواب میں کہا کہ حکومت میں شریک پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی وزراءاور ممبران اسمبلی نے اپنے زیر تسلط اضلاع کے پارٹی کارکنوں کو ہدایات دے رکھیں ہیں کہ نادرا کے شناختی کارڈوں کی تصدیق کے عمل کو روکنے کی خاطر کارکن عملی مداخلت کریں۔ڈی جی نادار نے بتایا کہ حکمراں پارٹی،جعلی شناختی کارڈ ہولڈر اور جعلی کارڈ بنوانے میں معاونت کرنے والے ملزمان کے خلاف انکوائریز کی راہ میں حائل ہو کے مزاحمت پہ کمر بستہ ہے“اب ان حالات میں جب بلوچستان حکومت میں شامل ایک مقتدر سیاسی جماعت اور کے پی صوبہ کی دو بڑی پارٹیاں جو ماضی قریب میں یہاں سیاہ و سفید کی مالک رہیں اور جن کے سینکڑوں جان نثار اب بھی سرکاری اداروں میں طاقتور پوزیشنوں پہ فائز ہیں،وہ اگرافغان مہاجرین کی غیرقانونی آباد کاری کو نصب العین بنا لیں تو اسے روکنا دشوار ہو گا۔اس لئے پالیسی ساز اداروں کو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ سرکاری اہلکاروں کو افغان مہاجرین کے جعلی شناختی کارڈوں کی تصدیق کے عمل میں کس نوعیت کی مزاحمت کا سامنا ہے۔

    تین سال قبل اے این پی حکومت کے آخری دنوں میں محکمہ مال کے مقامی اہلکاروں نے انٹیلی جنس بیورو کو ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد افغان مہاجرین بارے تفصیلات فراہم کیں تو خیبر پختون خوا کی صوبائی سیکریٹریٹ نے آئی بی کو معلومات دینے والے محکمہ مال کے اہلکاروں سے جواب طلبی کر کے انہیں ہراساں کیا۔اب صوبائی سیکریٹریٹ کے وہی اہلکار خود افغان مہاجرین بارے وفاقی اداروں کو کتنی درست معلومات فراہم کریں گے؟وفاقی حکومت نے شناختی کارڈ کی جانچ پڑتال کرنے والی تمام کمیٹیوں کو تحلیل کر کے پشاور سمیت صوبے بھر میں بلاک ہونے والے شناختی کارڈز کی تصدیق کا کام صرف اسپیشل برانچ کو سونپ کے مہاجرین کے انخلاءکے امکانات کو خود محدود کر دیا۔اگر وفاقی اداروں نے افغانوں کے جعلی شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال میں صوبوں کو موثر معاونت نہ دی تو اسپیشل برانچ کے لئے تنہا اس مقصد کا حصول ممکن نہیں ہو گا،اسپیشل برانچ کے ایک سینئر اہلکار نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پہ بتایا کہ انہیں افغان مہاجرین کے بنیادی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے نہ نادرا کے مقامی دفاتر انہیں موثر معاونت دے سکتے ہیں کیونکہ افغان مہاجرین کا اصل ڈیٹا اسلام آباد میں نادرا کے منجمنٹ سیل کے پاس محفوظ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 1979 ءمیں ڈیرہ اسماعیل خان کے چار بڑے کیمپوں پشہ،نائی ویلہ،کوکار اور رتہ کلاچی میں کم و بیش ایک لاکھ مہاجرین کو لایا گیا لیکن افغان مہاجرین کے ضلعی ایڈمنیسٹریٹر کے پاس اس وقت صرف 14 ہزار رجسٹرڈ مہاجرین کا ریکارڈ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ 1985 ءمیں افغان مہاجرین نے دھاوا بول کے کوکار میں قائم افغان مہاجرین کے ایڈمنسٹرٹیو دفاتر میں پڑے ریکارڈ کو آگ دی اس وقت کی انتظامیہ نے ریکارڈ کی دوبارہ بحالی کےلئے کوئی خاص کوشش نہ کی۔ جن افغان مہاجرین کے 1979 ءمیں راش کارڈ بنے، اب انکے پوتے پوتیاں ملک کے مختلف اضلاع سے قومی شناختی کارڈ بنوا چکے ہیں ۔جنکی تصدیق کے لئے ہمیں مختلف اضلاع سے رجوع کرنا پڑتا ہے،جہاں وہ ہماری درخواست سے پہلے پہنچ کے تھوڑے سے پیسوں کے عوض مرضی کی رپوٹ حاصل کر لیتے ہیں۔

    اسپیشل برانچ کے پاس جعلی شناختی کارڈوں کو چیک کرنے کا کوئی سافٹ وئیر ہے نہ مہاجرین کے اصل ڈیٹا تک رسائی لیکن میسر معلومات کی بنیاد پہ کسی مشتبہ کارڈ کو بلاک کریں تو متاثرہ فریق عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیتا ہے،ہمیں عدالتوں کو مطمعن کرنے کے لئے ثبوت نہیں ملتے،انہوں نے کہا اس کام کے لئے موثر قواننن کے تحت اسپشل برانچ کوخصوصی اختیارات درکار ہوں گے بصورت دیگر اس کام کی تکمیل میں سال ہا سال کی تاخیر معاملات مزید پیچیدہ بنا دے گی۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پشاور سمیت صوبے بھر کے 45ہزار سے زائد افغان مہاجرین کے شناختی کارڈبلاک ہیں جن کے حامل عدالتوں سے رجوع کر کے حکم امتناہی حاصل کر چکے ہیں۔اس سے قبل وفاقی حکومت نے اس کام کےلئے مختلف حساس اداروں کے اہکاروں پہ مشتمل کئی تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے رکھیں تھیں جو باہمی کورڈینشن کے ساتھ مہاجرین ایشو کی مختلف جہتوں پہ کام کرتی رہیں تاہم وزارت داخلہ نے بوجوہ بلاک شناختی کارڈز کی پڑتال کرنے والی صوبائی اور ضلعی سطح کی تمام کمیٹیوں کو تحلیل کر کے افغان مہاجرین کے شناختی کارڈز کی تصدیق کا کام صرف اسپیشل برانچ کے حوالے کر دیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے پشاور سمیت صوبے بھر سے  جعلی شناختی کارڈوں پر کامیاب ہونے بلدیاتی ناظمین اور کونسلرز بارے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ کئی فائلیں الیکشن کمیشن کو بھجوا رکھی ہیں۔ لازمی قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد الیکشن کمشن بلدیاتی اداروں میں گھس بیٹھے افغان مہاجرین کو نا اہل قرار دےکر ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کرے گا۔اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، دیر،سوات نوشہرہ ،کوہاٹ، چارسدہ ،ہری پور،بٹگرام اور شبقدر سمیت صوبے کے مختلف علاقوں کی ڈسٹرک،تحصیل اور نیبرہوڈ کونسلوں میں افغان مہاجرین کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ پولیس نے چالیس سے زیادہ تحصیل و ضلع کونسل کے افغان مہاجر ممبران کے خلاف مقدمات درج کر لئے جو مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اس کے علاوہ جعل سازی کر کے مختلف سرکاری اداروں میں ملازمتیں پانے والے افغان مہاجرین بارے معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ایسے تمام ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر کے ان کے خلاف حسب ضابطہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔لیکن اس سے پہلے حکومت کو ان سیاسی جماعتوں کا ہاتھ روکنا ہو گا جو سماجی و سیاسی سطح پر افغان مہاجرین کی پست پناہی کر کے ملکی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی رہی ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں اس وقت کم و بیش تین لاکھ سے زائد افغان مہاجرین قومی شناختی کارڈ حاصل کئے بیٹھے ہیں،افغان مہاجرین کو قومی شناختی کارڈ دلاوانے میں ابق ڈپٹی سپیکر کے والد مرحوم فضل کریم کنڈی عرف لٹی خان اور مولانا فضل الرحمٰن کا کردار نمایاں ہے، فضل کریم کنڈی1983 ءسے1991 ءتک آٹھ سال مسلسل ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین رہے اسی دوران انہوں نے وقتی سیاسی مقاصد کی خاطر نائی ویلہ کے افغان مہاجر کیمپ کے سارے مکینوں کے قومی شناختی کارڈ بنوا کے مستقل سکونت اور انہیں ووٹ کا حق دلوایا،مولانا فضل ا لرحمٰن کے مقاصد زیادہ وسیع و عمیق ہیں انہوں نے اس خطہ میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی خاطر ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب ، دکی اور قلعہ سیف اللہ تک پھیلی وسیع پٹی میں لاکھوں افغان مہاجرین کی مستقل آبادکاری کے اسباب مہیا کرنے کے علاوہ مہاجرین گروہوں کے اندرکئی طاقتور مافیاز پیدا کئے جو ہمارے پرامن معاشروں کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔

    (محمد اسلم اعوان 25 سال سے صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہیں انھوں نے  15 سال تک مسلسل افغان جنگ  اور وزیرستان آپریش کو کور کیا درایں اثناء وہ ان موضوعات پر مشرق کے لئے مستقل کالم بھی لکھتے رہے،آج کل وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے دنیاچینل کے ساتھ بیورو چیف کے طور پہ کام کرتے ہیں)

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعرب ممالک میں رمضان کی دلچسپ روایات
    Next Article پاکستان کے لیے امریکی امداد کی سیاست
    اسلم اعوان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by