Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تراجم»پاکستان کے لیے امریکی امداد کی سیاست
    تراجم

    پاکستان کے لیے امریکی امداد کی سیاست

    صالحہ کمالBy صالحہ کمالجون 16, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    امریکی پالیسی ساز اور پنڈت حقانی نیٹ ورک،بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں F-16 طیاروں کے معاملے اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے کردار کے لیے ”ڈبل گیمر“ اور ”دوغلہ“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

    جب پاکستان اور امریکہ کے بتدریج خراب ہوتے تعلقات بہتری کی جانب گامزن تھے ،اچانک امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف واضح قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد میں تین سو ملین ڈالر کی کٹوتی کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ۔امریکی ایوان بالا میں تلخ بھری بحث کا سلسلہ اُس و قت شروع ہوا جب پاکستان کو F-16 طیاروں کی فروخت پر بات چیت کی جارہی تھی، اسی دوران بلوچستان میں 21مئی کو طالبان لیڈر ملا منصور ڈرون حملے میں مارا گیا جس کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات مزید تعطل پذیر ہوئے۔ 28مئی کو پاکستان F-16 طیاروں کی خریداری کی دستاویزات حاصل نہ کر سکا اور اب خریداری کی تاریخ کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور مزید مذاکرات کے دروازے بھی بند ہو چکے ہیں۔یہ ایک اور موقع تھا جب پاکستانی سرزمین پر یک طرفہ کارروائی، پاکستان کی خود مختاری اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کی بحث نے زور پکڑا۔ حتی کہ پاکستان میں بھی یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ ملا منصور نے کیسے اس قدر سہولت سے ایران سے بلوچستان کا سفر طے کیا؟

    یہ کہنا کہ دونوں اطراف میں ناراضی ہے، قبل ازوقت ہو گا۔یہ ناراضی ابھی شکایات تک محدود ہے ۔

    امریکی بیانیہ اکثر پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں رکاوٹ قرار دیتا ہے۔ امریکی پالیسی ساز اور پنڈت حقانی نیٹ ورک،بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں F-16 طیاروں کے معاملے اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے کردار کے لیے ”ڈبل گیمر“ اور ”دوغلہ“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

     امریکی پالیسی ساز اور پنڈت حقانی نیٹ ورک،بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں F-16 طیاروں کے معاملے اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے کردار کے لیے ”ڈبل گیمر“ اور ”دوغلہ“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

    لیکن اسلام آباد کا نقطہ نظر خاصہ مختلف نظر آتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ملک ایک پیچیدہ جنگ میں الجھ چکا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو بڑے پیمانے پر دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے۔ یہاں جانوں کا نذرانہ پیش کیا جارہا ہے اورسکول جانے والے بچے مارے جارہے ہیں اور یہ اموات میڈیا میں سرخیوں کا حصہ ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ کی جانب سے افغانستان میں جنگ کا پھیلاﺅ سیکورٹی خدشات کو جنم دے گا۔ 1960ءسے امریکہ کے ساتھ ا سٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنے کے بعد پاکستان اپنے اتحادی سے تعاون کی امید رکھتا ہے کیونکہ ضرب عضب پر 1.9بلین ڈالر کے اخراجات اٹھے اور چار لاکھ سے زائد افراد کی از سر نو آباد کاری کے لیے بھی فنڈز درکار ہیں۔ ان حالات میں آپریشن شروع ہونے کے بعد کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی کو نظر انداز کر دیا گیاہے۔بد اعتمادی کے اس دور میں،ابتدائی معاہدے کے مطابق، فارن ملٹری فنانسنگ کے تحت F-16طیاروں کی ڈیل سے کانگریس نے جزوی طورپر انکار کر دیاہے جس سے دوطرفہ تعلقات کو دھچکا لگا ہے۔ اس ڈیل کا تخمینہ699ملین ڈالر تھا۔اس طرح امریکی پالیسی ساز وں کی مایوسی میں اضافہ ہوا اور ان کے بھارت سے دفاعی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

    بین الاقوامی برادری میں عمومی طور پر اور واشنگٹن میں خصوصی طو ر پریہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان شورش کے معاملات میں نااہل اور ناقابل اعتماد واقع ہوا ہے

    جنوبی ایشیامیں ا سٹریٹیجک عدم توازن میں اضافہ پاکستان کے لیے نقصان کا باعث ہے اور اسی طرح افغانستان میں ناکامی کا نقصان بھی پاکستان کو ہو گا۔ افغان طالبان مذکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بین الاقوامی برادری میں عمومی طور پر اور واشنگٹن میں خصوصی طو ر پریہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان شورش کے معاملات میں نااہل اور ناقابل اعتماد واقع ہوا ہے۔یہ تاثر اس وقت ابھر کر سامنے آیا جب بلوچستان میں یک طرفہ کارروائی کی گئی اور اس کے بارے میں پاکستان کو بعد میں آگاہ کیا گیا۔زمینی حقائق پیچیدہ ہیں۔ کیپٹل ہل کی جانب سے بجٹ میں کٹوتی اس بات کا واضح جواب ہے کہ افغانستان میں تنازعات کا حل تلاش کرنا پاکستان کا مسئلہ ہے۔

    اس میں کوئی راز نہیں کہ امریکہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پاکستان کے ساتھ منسلک ہے اور اس کی وجہ افغانستان میں امریکی مفادات ہیں۔2002ءکے بعد سے پاکستان کے لیے امریکی امداد میں سے تقربئا نصف افغانستان میں امریکی کارروائیوں کی حمایت میں کیے جانے والے اخراجات اور کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں تھا۔کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان نے 13بلین ڈالر وصول کیے۔ ان ادائیگیوں میں ، 2014ءمیں 1بلین ڈالر اور 2015ءمیں 700ملین ڈالر کی کمی آئی ہے۔ دیگرسیکورٹی سے متعلق امداد میں بھی کمی آئی ہے جو کہ 2011ءمیں 1.2بلین ڈالر سے آج 300ملین ڈالر ہے۔ اس کے باوجودفوجی امداد اب بھی اقتصادی امداد سے کافی زیادہ ہے۔جیسا کہ 1979ءمیں سوویت یونین کے حملے کے معاملے میں تھا۔ یہ رقم حالیہ سالوں میں 500ملین ڈالر تھی۔

    کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان نے 13بلین ڈالر وصول کیے۔ ان ادائیگیوں میں ، 2014ءمیں 1بلین ڈالر اور 2015ءمیں 700ملین ڈالر کی کمی آئی ہے۔ 

    سیکورٹی معاملات میں مدد، بشمول کولیشن سپورٹ فنڈ کو عمومی طور پر امداد تصور کیا جا تا ہے۔ مگر در حقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ معاوضہ پاکستان کو افغانستان میں امریکی جنگ سے تعاون کے بدلے میں دیا جاتا ہے اور اسے امریکہ کی جانب سے مطلوبہ نتائج سے مشروط کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں پارلیمان اس معاوضے کو کچھ دے کچھ لے کے بجائے احسان سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ امریکی امداد سے پاکستانی افواج اور جمہوری حکومتوں کو ماضی میں قوت ملی ہے۔

    پاکستان کے لیے امریکہ کی طرف سے غیر فوجی امداد پانچ شعبوں میں ترقی ، تعاون اور اصلاحات کے لیے دی جاتی ہے۔ ان پانچ شعبوں میں توانائی، اقتصادی ترقی،ان علاقوں میں استحکام جنہیں انتہا پسندی سے زیادہ خطرہ ہے، تعلیم اور صحت شامل ہیں۔ یہ پروگرام ہنگامی انسانی بنیادوں پر USAIDکے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں میں بجلی کی پیداوار، خواندگی اور ماﺅں کی صحت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے فُل برائیٹ سکالر شپ وغیرہ کے منصوبے شامل ہیں۔امریکی اقتصادی امداد اور ثقافتی تبادلے کے اقدامات دونوں اطراف کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مفید ثابت ہوئے ہیں مگر سیکورٹی کے مسائل اور دوطرفہ تعلقات میں انتشار کی وجہ سے ان اقدامات کو پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔

    پاکستان اپنے اقتصادی اور ترقی کے اہداف کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ایسے میں اسلام آباد متبادل اتحاد کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی نظریں اپنے پڑوس پر ہیں۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری 46بلین ڈالر کا منصوبہ جو کہ جمود کا شکار ہو چکا،پاکستانی معیشت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔پاکستان اور چین اچھے برے وقت کے دوست ہیں اورامریکہ اوربھارت کی پیچید گیوں کے باوجود پاکستان اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ دریں اثنا، اس طرح کے منصوبے جیسے کہ روس کے ساتھ 2بلین ڈالر کا شمالی جنوبی گیس پائپ لائن منصوبہ، ایران پاکستان گیس پائپ،ترکمانستان،افغانستان، پاکستان اوربھارت (TAPI)اور وسطی جنوبی ایشیا1000(کاسا 1000)خطے میں استحکام کے ضامن ہیں۔ پاکستان تجارت اور توانائی سے متعلق شراکت داریوں کے ساتھ علاقائی انضمام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مابین دفاعی محاذ پر تعاون پر بھی سمجھوتہ ہے۔ چین کے ساتھ ہتھیاروں پر بات چیت جاری ہے اور مشترکہ جنگی مشقیں بھی کی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ روس کے ساتھ ہیلی کاپٹر، فضائی دفاعی نظام کے فروخت پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی بہتری علاقائی اور ملکی مقاصد کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔

    اگر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو طویل مدت کے لیے استوار رہنا ہے تو اعتماد کی کمی کو بحال کیے بنا ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔اس کا مطلب ہو گا کہ پاکستان خود انحصاری کی جانب بڑھے اور اپنی خارجہ پالیسی کوبطور احسن ترتیب دے۔ اس کے برعکس امریکہ کے لیے اس کا مطلب ہو گا کہ وہ صرف عسکری امداد سے خود کو دور کرے، پاکستان میں جمہوری حکومتوں کو مضبوط بنانے اور ملک کی ترقی کے اہداف کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ مثبت کردار اس خطے میں استحکام کی بحالی کے علاوہ دونوں میں ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس کے متبادل یعنی رویہ اقتصادی اور عسکری محاذوں پر تنارعات پیدا کرنے کا باعث بنے گاجس سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔

    بہ شکریہ جناح انسٹیوٹ:ترجمہ :احمد اعجاز

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleافغان مہاجرین کو تحفظ دینے والے کون ہیں ؟
    Next Article واٹر پالیسی کے بھولے ہوئے پہلواقدامات
    صالحہ کمال

    Related Posts

    ایران جنگ شیعہ عسکریت پسندی اور عالمی جہاد کی نئی لہر

    جون 12, 2026

    مغرب مسلم لبرلز کو کھو رہا ہے۔

    فروری 26, 2024

    انصاف اور سیاست

    جنوری 23, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by