پچھلے پندرہ سالوں میں صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں428 بے گناہ شہری موت کے گھاٹ اتارے گئے،ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں 328جبکہ خود کش حملوں میں 100سے زیادہ افراد مارے گئے۔

دو موٹر سائکل سوار دہشتگردوں نے بدھ کے روز انسداد دہشتگردی یونٹ کے اے ایس آئی طارق جمشید کو سر میں گولیاں مار کے اس وقت ابدی نیند سلا دیا جب وہ نجی بنک کے اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کےلئے رکے،پانچ ماہ میں یہ چھٹا پولیس اہلکار ہے جسے دن دھاڑے مسلح پولیس اہلکاروں کے سامنے موت کے گھاٹ اتاراگیا،بلاشبہ ایک تھکی ہوئی پولیس فورس کے جوان،جو اپنے رفقاءکار کے جنازے اٹھاتے اُکتا چکے ہیں،دہشتگردی کی کاروائیوں کا جواب دینے کی بجائے بےکسی کی موت پہ قانع نظر آتے ہیں۔حیرت انگیز طور پہ اسی دن ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت المسلمین کے دھرنا کو 40 دن پورے ہوئے،ایم ڈبلیو ایم والے5 مئی سے یہاں احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں جس میں ہر روز درجنوں افراد علامتی بھوک ہڑتال میں شریک ہوتے ہیں،دوسرے تیسرے روز عورتوں اور بچوں کی قابل ذکر تعداد دھرنا دیکر گھنٹوں سرکلر روڈبلاک رکھتی ہے، شیعہ وکلاءکی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت المسلمین نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے بھی دھرنا دے رکھا ہے،وہاں بھی ڈیرہ اسماعیل خان کے مقتولین کے پسماندگان کی شرکت یقینی بنائی گئی۔وحدت المسلمین کے ڈویژنل صدر سید تحسین علمدار کہتے ہیں کہ انہیں مقامی اتھارٹی پر بھروسہ نہیں،انتظامیہ کی یقین دہانیوں کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے رکے نہ دہشتگردی کے عفریت کو نکیل ڈالی گئی،پچھلے پندرہ سالوں میں صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں428 بے گناہ شہری موت کے گھاٹ اتارے گئے،ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں 328جبکہ خود کش حملوں میں 100سے زیادہ افراد مارے گئے۔

گزشتہ 20 سالوں میں پروان چڑھنے والے فرقہ وارانہ تشدد کے رجحانات نے انتہا پسند تنظیموں کو پھلنے پھولنے کے مواقع دیئے جنہوں نے معاشرے کے فطرتی نظم و ضبط کو تہہ و بالا کر کے تحفظ کے لاشعوری احساس کو مٹا دیا،نائن الیون کے بعد جب یہاں کی مقامی فرقہ پرست جماعتیں القاعدہ اور طالبان جنگجووں سے منسلک ہو کے عالمی دہشتگردی کے نیٹ ورک کا جز بنیں تو یہی مسلح گروہ ریاست کے خلاف صف آراءہونے لگے،انہی کے ردعمل میں شعیہ مسلک سے وابستہ کئی تنظمیں بھی لبنان کے حسن نصراللہ اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہِ تک براہ راست رسائی پا کے بین الاقوامی سیاست کی حرکیات کا ایندھن بننے کو تیار ہو گئیں۔اب جب ایران اور امریکہ کے مابین تعلقات کی استواری کے بعد خطہ کی سیاست میں کچھ جوہری تبدیلیاں واقع ہوئیں تو بائیں بازو کی مذہبی تنظیموں کے بھی ریاستی فورسیز کے مقابل آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں،ایک طرف لشکر جھنگوی ،طالبان اور القاعدہ کے تباہ کن حملے تو دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین جیسی فعال تنظمیں دھیرے دھیرے دباو بڑھا کے انتظامیہ کو دیوار سے لگانے والی ہیں۔اگرچہ شعیوں کی فعال تحریکوں کا مقصد بظاہر کسی مسلک سے وابستہ افراد کی مذہبی آزادیوں کو یقینی بنانے کے لئے تشدد کے خلاف جوابی مزاحمت کے بنیادی حق کو استعمال میں لانا بتایا جائے گا لیکن بلآخر عسکری تقاضے انہیں لبنان کی حزب اللہ کی طرح عالمی سیاست کے ٹول کے طور پہ استعمال ہونے پر مجبور کر دیں گے۔

بیشک!کسی بھی ملک کا آئینی نظام اور ریاستی اتھارٹی جب کمزور طبقات کی مذہبی آزادیوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو ایسے میں انہیں مسلح جدوجہد کا جواز مل سکتا ہے،اسرائیلی استبداد کے خلاف مزاحمت کرنے والی یاسر عرفات کی پی ایل او کی مسلح مزاحمت کو اسی استدلال پہ عالمی حمایت ملی لیکن ہمارے ہاں صورت حالات زیادہ گھمبیر ہے کیونکہ پہلے سے موجود زرخیز بدامنی کی مہیب لہر کا شکار صرف مذہبی اقلیتیں ہی نہیں پولیس اور سیکورٹی فورسیز کے اہلکار بھی بنتے ہیں،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں پولیس کے دو ایس ایس پی سمیت اب تک 178پولیس اہلکار شہید ہوئے،جس سے ایک طرف فورس کا مورال گر گیا(جیسا کہ طارق جمشید کو اس کے ساتھی مرتا دیکھتے رہے) تو دوسری جانب ریاست اپنا ڈیٹرنٹ کھوتی چلی گئی اور پولیس کی بے بسی کو جواز بنا کے مختلف گروہ اپنی حفاظت خود کرنے کےلئے مسلح جھتوں کو منظم کرنے لگے۔ پہلی بار 7مئی 2001ء میں جب ایس ایس پی اعجازاحمد لنگڑیال کو کلاشنکوف کا برسٹ مار کے قتل کیا گیا تو اسی دن پولیس فورس اندر سے ٹوٹ گئی،تشدد کی جوابی لہر میں ایس پی رجب علی زیدی،ڈی ایس پی کلاچی اقبال مروت، ڈی ایس پی سٹی بہاول بلوچ اور سی آئی اے کے نامور انسپکٹر غلام قمبر سمیت یک بعد دیگرے درجنوں پولیس افسران فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔

دہشتگرد تنظیموں نے اہکاروں کے علاوہ چیک پوسٹوں،تھانوں اور پولیس موبائلوں پہ حملوں سمیت سرکاری دفاتر پر خودکش دھماکے کر کے ریاست کی ہر علامت کو مٹانے کی کوشش کی،حتیٰ کہ جس دن ایس ایچ او کلاچی سیف الرحمٰن کے گھر میں داخل ہو کر دہشتگردوں نے انکے بھائیوں، بچوں اور رشتہ داروں کو موت کے گھاٹ اتارا تو ریاستی اتھارٹی کے ساتھ چادر وچار دیواری کا سماجی تقدس بھی برباد ہو گیا۔ 25 جون 2011 ءکی صبح تین ازبک حملہ آوروں نے تھانہ کلاچی پہ خودکش مشن کیا جس میں ایس ایچ او حلاول خان سمیت 7 پولیس اہلکار شہید ہو گئے،23 اکتوبر2011 ءکی رات مسلح افراد نے تھانہ درابن پہ حملہ کر کے 2 اہلکاروں کو شہید5 کو زخمی کر دیا،14 جنوری2012 ءکو چار خودکش حملہ آوروں نے سنٹرل پولیس آفس پہ حملہ کر کے ایک کانسٹیبل سمیت پانچ افراد کی جان لے کر معاشرے کو خوف و بے یقینی کی دلدل میں اتار دیا۔حیر ان کن امر یہ ہے کہ انقلاب فرانس سے قبل جب خانہ جنگی کی آگ نے فرانسیسی معاشرے کو لپیٹ میں لے رکھا تھا تو اس وقت جیل خانوں کو ہی عافیت کی جگہ سمجھا جاتا تھا لیکن یہاں تو تشددکی یلغار نے جیلوں کو بھی جائے امان نہ رہنے دیا،مارچ 2012 ءمیں بنوں جیل توڑی گئی جس میں جنرل مشرف پہ قاتلانہ حملہ کے ماسٹر مائنڈ عدنان رشید سمیت 453 قیدی فرار ہو گئے۔ 29 جولائی 2013ءکو دہشتگردوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی قدیم ترین سنٹرل جیل پر یلغار کر کے ریاستی اتھارٹی کے وقار کو خاک میں ملا دیا،اس کاروائی میں بکتر بند گاڑی میں سوار 3 پولیس اہلکاروں کے علاوہ 9 قیدی مارے گئے،حملہ زن دہشتگردوں کے سامنے ضلع بھر کی پولیس ریت کی دیوار ثابت ہوئی تو جیل انتظامیہ نے سنٹرل جیل کا ناقابل تسخیر گیٹ کھول کے 251 قیدیوں کے فرار کی راہ ہموار بناکے ریاستی اتھارٹی کو سرنڈر کر دیا۔جیل بریک کے تین ماہ بعد ایک خود کش حملہ آور نے صوبائی وزیرقانون اسرار گنڈہ پور کو ان کی بیٹھک کے اندرشہید کر دیا۔پولیس والوں کی ٹارگٹ کلنگ کی زیادہ وارداتیں 2014-15ء میں ہوئی ان دو سالوں میں ڈی ایس پی سٹی سمیت 24 پولیس افسران اہلکار شہید ہوئے،جن میں اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ کے سب انسپکٹر قیصر جہاں اور اسکے دو سگے بھائی بھی شامل تھے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2001 ءسے 2012 ءتک فرقہ وارانہ بنیادوں پر تین خودکش حملے ہوئے جن میں 52شیعہ، 9سنی،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 اہلکاروں سمیت دو غیر مسلم ہلاک جبکہ 232شیعہ اور 68سنی زخمی ہوئے۔ان میں سے 24عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے۔

ان بارہ سالوں میں 25فرقہ وارانہ بم دھماکے ہوئے جن میں سب سے زیادہ ( 20دھماکے) صرف 2009ءمیں ہوئے،جن میں 31شیعہ 6سنی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اہلکار شہید ہوا،دھماکوں میں 161افراد زخمی ہوئے جن میں 46شیعہ 95سنی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے15 اہلکار شامل تھے۔پولیس فورس پہ ہونے والے 10خودکش حملوں میں ایک ایف سی جوان سمیت 30پولیس اہلکار اور 42سویلین شہید ہوئے، 55پولیس اہلکار 1 ایف سی جوان اور 83 شہری زخمی ہوگئے۔پولیس پر ہونے والے 65بم حملوں میں 16پولیس اہلکار اور 37سویلین جاں بحق، 35زخمی ہو گئے، ان حملوں میں زخمی ہونے والے سویلین کی تعداد 172تھی۔

مذہبی تشدد کی خونخوار لہر نے معاشرے کو منقسم کر کے سماجی آزادیوں کو محدود کر دیا۔جنگ کے شعلوں میں جلتی مغربی سرحدوں سے ملحقہ اضلاع میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کو لگام نہ ملی تو اسی جدلیات سے بائیں بازو کی نئی مسلح تنظیمیں ابھر کر انتظامی اتھارٹی کو محاصرہ میں لے سکتی ہیں خاص کر داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کی فعالیت شعیہ گروپوں کو جوابی جدلیات کا جواز فراہم کرے گی،یہی مبارزت عالمی طاقتوں کے علاوہ ایرانی حکومت کو بھی اسی دلدل میں کھنچ لائے گی، ایرانی قیادت اس وقت علاقائی طاقت بن کے ابھرنے کے رومان سے سرشار ہے اور اسی رجحان کے زیر اثر اس وقت عراق،شام اور یمن سمیت مشرق وسطیٰ کے چار ممالک میں ایرانی فورسیز برسرپیکار ہیں،ایسے حالات میں یہاں شعیہ سنی کشیدگی کا بڑھنا داخلی عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version