بعض قدامت پسند دانشور پارلیمانی جمہوریت کا راگ الاپ کر عوام کو مرغی سے لطف اندوز ہونے کی بجائے دال کھانے پر مجبور کر رہے ہیں

آج کل ملک میں یہ مطالبہ زور پکڑرہا ہے کہ اب یہاں پارلیمانی جمہوریت کی بجائے صدارتی جمہوریت کا نظام  لانا چاہیے۔ بعض دانشور اب بھی پارلیمانی جمہوریت پر اصرار کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی  مشکوک بصیرت پر تشویش ہے کہ مرغی کی موجودگی میں دال کھانے پر اصرار کر رہے ہیں۔ بہانہ مہنگائی کا ہے لیکن درحقیقت وہ یہود و ہنود کی سازش کا شکار ہیں۔ پرانے زمانے میں یہود بھی من و سلوی کی موجودگی میں دال مانگتے تھے۔ ہنود اب تک دال کے دلدادہ ہیں۔ ہنود اور یہود میں فرق صرف لہسن اور پیاز کا ہے جو یہود کی پسند ہے۔ ہنود کو اس سے نفرت ہے۔ ہمارے دال پسندوں کو یہود و ہنود کے اختلافات سے سروکار نہیں۔ ان کو صرف مرغی سے بیر ہے اور وہ بھی ہنود سے میل ملاپ کے لئے۔ کوئی ان سے پوچھےکہ دال ہی کھانی تھی تو پاکستان کیوں بنایا۔  مرغی سے اتنی نفرت رہی تو یہ ملک اسلامی ریاست کیسے بنے گا۔

یہ دانشورقومی بصیرت ہی نہیں معاشی بصارت سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ پاکستان  کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ یہاں گھر کی مرغی کو دال برابر سمجھا جاتا تھا۔ اس سے معیشت میں جمود پیدا ہو گیا تھا۔ لوگ مرغی اور دال میں فرق نہیں کر پاتے تھے۔ اس تذبذب کا بنیادی  سبب دیسی دال اور دیسی مرغی  سے ثقافتی وابستگی تھی  جس کی وجہ سےگھر کی مرغی دال برابر سمجھی جاتی تھی۔ جس کا جی چاہتا دیسی مرغی کو ذبح کر ڈالتا تھا۔  یہ گھریلو تشدد کی ہی ایک شکل تھی لیکن اس زمانے میں یہ اصطلاح عام نہیں ہوئی تھی  اور مہمان بھی اسے  خصوصی آؤ بھگت کا حصہ سمجھ کر دال کا ذکر تکلفا بھی نہیں کرتے تھے۔ لیکن یہ ایک ثقافتی کمزوری تھی۔۔ قومی غیرت کا تقاضا تھا کہ مرغی کو  دال پرفضیلت ہو۔ لیکن منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں۔  دیسی مرغی کی سالمیت کے لئے بدیسی مرغی کو رواج دینا بہت مشکل تھا۔

پاکستان نے کامیاب منصوبہ بندی کرکے  دیسی دال مہنگی کرنا شروع کی  حتی کہ دال غریب عوام کی پہنچ سے  دور ہوتی گئی۔ اس منصوبہ بندی نے قومی حمیت کی راہ ہموار کی ۔ مرغی کی مقبولیت اور فراواں دستیابی کے لئے  اور ماہرین نے فیصلہ کیا کہ مرغی کوصنعت کا درجہ دیا جائے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف کا دل جیتنے کے لئے اسے پولٹری کا نام دے کر گلی محلوں سے نکال کر  بہت بڑے پیمانے پر بین الاقوامی اجارہ داری کا نظام قائم کیا۔ اس میں صاحب وجاہت اور صنعت  اور تجارت کا تجربہ رکھنے والے خاندانوں کو قیادت کی درخواست کی گئی۔ تب جا کر دیسی مرغی مہنگی ہو کر عوا م کی دسترس سے باہر ہو ئی اور بدیسی مرغی دال سے بھی سستی ہو گئی۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس کے معاشی ہی نہیں قومی سوچ پربھی گہرے اثرات مرتب ہوے ہیں اور آج عوام پارلیمانی جمہوریت سے بیزار ہیں اور صدارتی نظام کے منتظر ہیں۔ ایسے میں بعض قدامت پسند دانشور پارلیمانی جمہوریت کا راگ الاپ کر عوام کو مرغی سے لطف اندوز ہونے کی بجائے دال کھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ دال خوری  دو قومی نظریہ کی مقبولیت میں بہت بڑی رکاوٹ بن چکی تھی۔ اسے مہنگا کر کے ہمارے منصوبہ کاروں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔آج کے ایف سی پاکستانی بچوں میں بہت مقبول ہے۔اگر امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح مرغی پاکستان کی نئی نسل کا انتخاب ہے تو ہمارے دانشوروں کو بھی صدارتی نظام کو قبول کر لینا چاہیے۔ مفکر پاکستان نے بھی یہی کہا تھا کہ آئین نو سے ڈرنا اور طرز کہن پہ اڑنا قوموں کی زندگی کی سب سے کٹھن منزل رہی ہے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ پاکستانی دانشور دال خوری کی قومیت شکن روش سے تائب ہو کر مرغی کی روح پرور غذا  کا انتخاب کریں گے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version