1957 میں ایرانی کابینہ نے بحرین کے ایران کا حصہ ہونے کا اعلان کیا جس کے جواب میں سعودیہ نے بحرین سے ملانے کے لیے پل کی تعمیر کا اعلان کر دیا تاکہ ایران کو بحرین پر قبضہ کرنے سے روک سکے۔
بحرین میں معروف شیعہ عالم شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ کر نے پربحرین میں شیعہ کمیونٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،ادھر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے بھی بحرینی حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ منامہ کے خلاف مسلح مزاحمت کی حمایت کریں گے۔ جنرل سلیمانی کے بیان کو عموما ایران کی سرکاری پالیسی کا عکاس قرار دیا جاتا ہے۔
اپنے ایک بیان میں جنرل سلیمانی نے کہا ہے کہ کسی بحرینی شہری کی ’شہریت‘ کی منسوخی ’سرخ لکیر‘ ہے اور ایسے اقدامات کے نتیجے میں بحرین میں مسلح مزاحمت اور تشدد کی ایک نئی آگ بھڑک اٹھے گی جو صرف منامہ کو نہیں بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ انہوں نے مملکت بحرین کے خلاف ’خونی انقلاب کی دھمکی دی اور کہا کہ ایک بحرینی شہری کی شہریت منسوخ کرنے کے منامہ کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ نے بحرین کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی قوانین کے خلاف ہے،امریکا،ایران اور حزب اللہ نے بھی عیسی قاسم کی شہریت منسوخی کی مذمت کی ہے۔
عیسی قاسم پر الزام ہے کہ انہوں نے منبر و محراب کا ناجائز استعمال کیا،فرقہ واریت کو فروغ دیا اور غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کو تقویت پہنچانے کے لیے سیاسی امور میں مداخلت کی ۔ بحرین کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عیسی قاسم نے ملکی آئین سے بغاوت کی اور ملکی فضا کوفرقہ واریت سے آلودہ کر کے بحرین کی عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔
حکومت نے گزشتہ ہفتے کے دوران شیعہ آبادی کے سیاسی حقوق کی جد و جہد کرنے والی پارٹی الوفاق نیشنل اسلامک سوسائیٹی پر پابندی عائد کرتے ہوئے ، اس کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس تنظیم کے سربراہ علی سلمان کی 4 برس کی سزا کو بڑھا کر 9 سال کر دیا گیا ہے۔ انہیں بھی نلک میں بغاوت کی راہ ہموار کرنے کے لیے عرب بہار کے پہلے سال کیے گئے مظاہروں کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
ایران شروع سے ہی اس بات کا متقاضی رہا ہے کہ بحرین کو اس کے کنٹرول میں دے دیا جائے، وخلافت عثمانیہ کے خاتمے کے چند برس بعد نومبر 1927 میں بھی ایران نے متحدہ اقوام سے مطالبہ کیا تھا کہ بحرین چونکہ ایران کے زیر تسلط رہ چکا ہے اس لیے اسے ایران کے کنٹرول میں دے دیا جائے
بحرین اور ایران کےتعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے لیکن دونوں ملکوں میں دوریاں رواں برس اس وقت بڑھ گئی تھیں جب سعودی حکومت نے اپنے شہری شیخ نمر کو پھانسی دی جس کے ردعمل میں ایران میں سعودی سفارت خانے کو آگ لگا دی گئی ، جواب میں سعودیہ نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرتے ہوئے اپنے سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا ، سعودیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کچھ دیگر عرب ممالک نے بھی ایران سے سفارتی تعلق ختم کر دیا تھا جن میں سر فہرست بحرین تھا۔
ایران شروع سے ہی اس بات کا متقاضی رہا ہے کہ بحرین کو اس کے کنٹرول میں دے دیا جائے، وخلافت عثمانیہ کے خاتمے کے چند برس بعد نومبر 1927 میں بھی ایران نے متحدہ اقوام سے مطالبہ کیا تھا کہ بحرین چونکہ ایران کے زیر تسلط رہ چکا ہے اس لیے اسے ایران کے کنٹرول میں دے دیا جائے، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایرانی میڈیا نے برطانیہ کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور 21 ستمبر 1945 کے "نیروز ایران” اخبار میں ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان چھپا کہ امریکا بحرین سے تیل نکالنے میں تیزی نہ دکھائے، کیونکہ بحرین پر ایران کا حق ہے۔
ستمبر 1948 میں ایران نے اپنا نیا نقشہ جاری کردیا جس میں بحرین کو ایران کا حصہ دکھایا گیا۔1949 میں ایران نے بحرین کی انٹرنیشنل کانفرنسز میں شریک ہونے پر اعتراضات اٹھا دیے،اسی سال بحرین نے کراچی میں منعقد ہونے والی ایشین تجارتی کانفرنس میں شرکت کی تھی، اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی بعض ڈاکومنٹس میں بحرین کا نام خلیجی ممالک کے ضمن مین آنے پر بھی ایران نے اعتراض کر دیا۔1957 میں ایرانی کابینہ نے بحرین کے ایران کا حصہ ہونے کا اعلان کیا جس کے جواب میں سعودیہ نے بحرین سے ملانے کے لیے پل کی تعمیر کا اعلان کر دیا تاکہ ایران کو بحرین پر قبضہ کرنے سے روک سکے۔ بعد میں شاہ فیصل اور شاہ رضا پہلوی نے آپس میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور شاہ ایران نے اعلان کیا کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر کسی بھی دوسرے علاقے پر قبضے سے براءت کا اظہار کرتا ہے۔
1957 میں ایرانی کابینہ نے بحرین کے ایران کا حصہ ہونے کا اعلان کیا جس کے جواب میں سعودیہ نے بحرین سے ملانے کے لیے پل کی تعمیر کا اعلان کر دیا تاکہ ایران کو بحرین پر قبضہ کرنے سے روک سکے۔
1970 میں شاہ ایران نے اعلان کیا کہ وہ بحرین کی عوام کا حق خود ارادیت تسلیم کرتے ہیں اور اقوام متحدہ اپنا وفد بھیج کر عوام سے رائے لے کہ وہ ایران کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا الگ ملک حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ جس کے نتیجہ میں غالب اکثریت نے الگ ملک قائم کرنے کی حمایت کی اور اس طرح 14 اگست 1971کو بحرین نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔
1979 میں وقوع پذیر ہونے والے ایرانی انقلاب تک یہ معاملہ ٹھنڈا رہا لیکن انقلاب کے بعد خطے پر تسلط کے خواب سے خطے کا امن ایک مرتبہ پھر داو پر لگ گیا اور 1994 میں بحرین شدید اضطرابات کا شکار ہوا ۔ اس موقع پر منامہ نے تہران کو ایک خط لکھا جس میں اس پر حکومت الٹنے کے لیے سرگرم تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام لگایا۔ اس طرح اگلے دو سالوں میں حزب اللہ کے بحرینی ورژن نے جنم لیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی آنکھ مچولی شروع ہو گئی ، شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخی اور اس کے ردعمل میں ایرانی تنقید بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔
