یہ مکالمہ بلوچستان کے موجودہ بحران کی تہہ میں اترنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ عامر رانا اور مولانا عبدالحق ہاشمی کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو صوبے میں جاری بدامنی، علیحدگی پسند تحریکوں، مذہبی انتہاپسندی اور سیاسی ناکامیوں کے باہمی رشتے کو نمایاں کرتی ہے۔ مولانا عبد الحق ہاشمی جماعت اسلامی کے صوبائی امیر ہیں۔ اس مکاملے میں نہ صرف تاریخی محرومیوں اور ماضی کی وعدہ خلافیوں کو وہ موجودہ بے چینی کی جڑ قرار دیتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ عسکری طاقت کے بجائے سیاسی مکالمہ، سماجی انصاف اور آئینی عملداری ہی پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
سوال: آپ یہ بتائیں کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ آپ کے خیال میں حالات کس سمت جا رہے ہیں؟
جواب: سب سے پہلے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں کہ آپ وادیِ کوئٹہ تشریف لائے، اور یہ ملاقات کا موقع دیا۔ اگر ہم دور سے بلوچستان کے حالات دیکھیں تو تشویش کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔بلوچستان کے اندر آئیں تو بھی اطمینان کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاملات کی پیچیدگیاں بہت پرانی ہیں۔ بلوچستان میں بے چینی قیامِ پاکستان کے وقت ہی شروع ہو گئی تھی۔اتحاد کا جو مسئلہ پشتونوں اور بلوچوں کے درمیان ہے، خاص طور پر بلوچوں میں یہ احساس موجود ہے کہ یہ اتحاد خوش دلی سے نہیں بلکہ زبردستی ہوا۔
اگرچہ ملک بن گیا، مگر اس کے بعد حکومتوں نے اس خلش کو دور کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ جو لوگ اس وقت شاکی تھے، ان کا شکوہ اپنی جگہ برقرار رہا۔ جھوٹے وعدے کیے گئے، قرآن پر حلف لے کر مکر گئے۔ اس طرح کے اقدامات نے اعتماد کے فقدان کو بڑھایا۔ لہٰذا آج کی جو صورتحال ہے، اس کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے جو تدابیر اختیار کی گئیں وہ نہ انسانی تھیں، نہ سیاسی، نہ سماجی۔ انسانی معاشرے عسکری طاقت یا ڈنڈے کے زور پر نہیں چل سکتے۔
سوال: حالیہ دنوں میں آرمی چیف نے کہا کہ insurgency کے فعال لوگ تقریباً پندرہ سو ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟ کیا یہ اندازہ درست ہے؟
جواب: یہ تو آرمی چیف کے اپنے اعداد و شمار ہیں۔ وہ قوت کے مرکز پر بیٹھے ہیں، اس لیے ان کا انداز مختلف ہو سکتا ہے۔ ہم تو عام لوگ ہیں، سڑکوں پر، عوام میں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ insurgency کا دائرہ اب پہلے جیسا محدود نہیں رہا۔ یہ صرف پہاڑوں تک محدود نہیں بلکہ اب وادیوں اور شہروں تک پھیل چکا ہے۔ اب محلّوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی حمایت کرتے ہیں یا ان کے ساتھ شریک عمل ہیں۔
عام لوگ قانون یا درست و غلط نہیں دیکھ رہے، وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے جذبات کی ترجمانی کون کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تین سو سے زیادہ خواتین اس وقت خودکش حملوں کے لیے تیار ہیں۔ کراچی، تربت اور دیگر علاقوں میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔
یہ کہنا کہ پندرہ سو لوگ ہیں، درست نہیں۔ ان کے درمیان جو منظم رابطہ ہے، وہی اصل تشویش کا باعث ہے۔
سوال: بلوچستان کی سیاست میں لگتا ہے کہ مین اسٹریم اور بلوچ نیشنلسٹ پارٹیاں اپنی روح کھو چکی ہیں، جبکہ ماہ رنگ بلوچ ایک نئی لیڈر کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ آپ کا تجزیہ کیا ہے؟
جواب: یہ بالکل درست ہے۔
حکومتی رویوں نے بلوچستان کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ ماہ رنگ بلوچ کی مقبولیت اسی رجحان کا نتیجہ ہے۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی حقیقی ترجمانی یہ خاتون کر رہی ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر عوام اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندوں سے مایوس ہو چکے ہیں، کیونکہ وہاں کوئی سنجیدہ بات نہیں کی جا رہی۔ اسی خلا کو ماہ رنگ بلوچ نے پر کیا ہے۔
سوال: ایک وقت میں حق دو تحریک اور مولانا ہدایت الرحمان کی مقبولیت بڑھ رہی تھی، مگر اب ماہ رنگ نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ اس کی کیا وجہ بنی؟
جواب: وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر بنیادی بات یہ ہے کہ عوام کو انتخابی نظام سے کوئی امید نہیں رہی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جمہوری نظام کرپٹ ہو چکا ہے اور عوامی مسائل حل نہیں کرتا۔ اسی لیے وہ غیر پارلیمانی اور غیر انتخابی تحریکوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کی مقبولیت کا راز بھی یہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا مقصد پارلیمنٹ یا ووٹ نہیں، بلکہ براہِ راست عوامی مزاحمت ہے۔
سوال: جماعت اسلامی کا اس ساری صورتحال پر کیا موقف ہے؟ کیا آپ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں؟
جواب: جماعتِ اسلامی کا موقف بالکل واضح ہے۔
ہم ملکی سطح کی جماعت ہیں، کسی ایک صوبے کی نہیں۔ ہم ظلم کے خلاف اور عوامی حقوق کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، جو آئین کے دائرے میں ہو۔ ہم کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرتے جو ریاست یا آئین کے خلاف ہو۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ حالات بدل نہیں رہے، اور لوگ نظام سے مزید بدظن ہو رہے ہیں۔
سوال: ب بلوچستان میں مذہبی جماعتوں جیسے جے یو آئی، جماعتِ اسلامی اور ہزارہ برادری کے کردار کا آپ کیسے جائزہ لیتے ہیں؟ ان کو کیا چیلنجز درپیش ہیں؟
جواب: بلوچستان میں سب سے زیادہ فعال جماعت جمعیت علمائے اسلام ہے۔ ان کی پارلیمنٹ میں بڑی نمائندگی ہے، مگر بدقسمتی سے عملی کارکردگی نظر نہیں آتی۔ مولانا فضل الرحمان نے اس بار الگ سیاسی رخ اختیار کیا، جس سے ان کے اپنے ارکان مایوس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منرلز اینڈ مائنز بل بھی ان کی ایک ممبر نے پیش کیا، مگر ان کی اپنی پارٹی لا تعلق رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرونی ہم آہنگی کمزور ہو چکی ہے۔
سوال: کیا اس وقت بلوچستان میں مذہبی اختلافات پس منظر میں چلے گئے ہیں اور قوم پرست تحریکیں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہیں؟
جواب: جی بالکل۔ جب ایک رجحان غالب ہو جاتا ہے تو دوسرے عارضی طور پر دب جاتے ہیں۔ فی الحال قومی حقوق کی جنگ کا نعرہ بلند ہے، اس لیے مذہبی موضوعات پس منظر میں ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شدت پسند گروہوں ہوں، چاہے وہ مذہبی ہوں یا قوم پرست ہوں، کے درمیان کہیں نہ کہیں ربط موجود ہوتا ہے۔
سوال: آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ TTP اور BLA میں کوئی تعلق ہے؟
جواب اگر آپ ان کے اسلحے اور وسائل کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی منبع سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کے درمیان تعاون کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ خاموشی برقرار رہے اور شدت پسندی دوبارہ نہ بڑھے۔
سوال: ایرانی سرحد کے قریب جیش العدل اور جنداللہ جیسے گروہ سرگرم ہیں۔ کیا وہ اب بھی فعال ہیں؟
یہ تنظیمیں ایران کی سرحد کے دونوں طرف سرگرم تھیں۔ اب حیرت انگیز طور پر ایران کے اندر بھی BLA کی کارروائیاں سامنے آئی ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ گروہ وہاں کے نہیں بلکہ پاکستان سے داخل ہوئے۔ اس طرح کی سرحد پار سرگرمیاں دونوں ممالک کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔
عامر رانا ایران کی طرف سے رد عمل نہیں آیا ہے ابھی تک اس پر۔ حالانکہ پاکستان ان کو کہتا رہا ہے کہ تعاون کریں ہمارے ساتھ۔ BLA, BLF کے لوگ آپ کی طرف ہیں۔ ایران کہتا رہا ہے کہ ہم اس پر تحقیق کریں لیکن ابھی تک اس کا رد عمل نہیں آیا۔ وہ گروہ جن کو ایران سپورٹ کرتا رہا ہے۔ اب اس کے لیے خود بھی ایک خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
تو آخر میں یہ پوچھتے ہیں کہ اس کا حل کیا ہے۔ یہ سب لوگ پوچھتے ہیں حالانکہ میں یہ مانتا ہوں کہ حل ایک process سے گزر کر نکلتا ہے۔ اور اس وقت کوئی process اس طرح سے نہیں چل رہا تو حل کہاں سے نکلے گا۔
سوال: لیکن آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا حل ہے ان مسائل کا۔
جواب: حل پیچیدہ نہیں بلکہ سیدھا سادہ ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو شکوہ کناں ہیں اور تشدد پر آمادہ، اور دوسری طرف بااختیار حکومت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اعتماد اور مکالمے کا خلا بڑھ گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وسعتِ ظرف کا مظاہرہ کرے، مجرموں کو سزا ضرور دے مگر آئینی طریقے سے۔
کسی کو بغیر مقدمہ چلائے اغوا یا قتل کرنا مزید نفرت اور مزاحمت کو بڑھاتا ہے۔ اگر قبائلی عمائدین، سماجی کارکنوں اور مقامی قیادت کو شامل کر کے مسائل حل کیے جائیں تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
عامر رانا: اخلاص شرط ہے۔ بہت شکریہ آپ کا، اگلی بار آئیں گے تو امید ہے تو مزید گفتگو جاری رکھیں گے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version