یہ مکالمہ بلوچستان کے سیکورٹی مسائل، فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے، نیشنل ایکشن پلان کے اثرات، مذہبی سیاست اور بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتِ حال پر مبنی ہے۔ عامر رانا نے جامعہ امام صادق، کوئٹہ میں علامہ اکبر حسین زاہدی سے گفتگو کی۔ علامہ زاہدی معروف شیعہ عالمِ دین، جامعہ امام صادق کے پرنسپل اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فعال علمبردار ہیں۔ یہ گفتگو بلوچستان کی حالیہ تبدیلیوں، ریاستی پالیسیوں اور علاقائی امن کے امکانات پر روشنی ڈالتی ہے۔
سوال: یہ بتائیں علامہ صاحب، کہ جو سکون اس وقت ٹاؤن میں ہے، کیا واقعی فرقہ وارانہ دہشت گردی ختم ہو گئی ہے؟ اور اس میں کن عوامل (factors) نے زیادہ کردار ادا کیا ہے؟
جواب: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ آئے۔ آپ سے ہماری پرانی شناسائی ہے۔ بلوچستان نے جس کرب اور سانحات کا سامنا کیا، وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ ہم نے ایک دن میں سو، سو پچیس جنازے اٹھائے۔ سانحہ پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنا، جس کے اثرات پورے ملک میں محسوس ہوئے۔ ریاست نے پہلی بار دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ایکشن لیا، اور اس کے مثبت نتائج بلوچستان میں بھی سامنے آئے۔ اب وہ زمانہ گزر گیا جب ہم چیک پوسٹوں سے آگے نہیں جا سکتے تھے۔ الحمد للہ اب ہم بلوچستان بھر میں آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔
کمیونٹی کے لوگ بھی اب خوف کے بغیر سفر کرتے ہیں۔ لہٰذا میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دہشت گردی کے خاتمے میں نیشنل ایکشن پلان کا بنیادی کردار تھا، اور آج ہم امن و شانتی کے ماحول میں جی رہے ہیں۔
سوال: تو نیشنل ایکشن پلان ادھر implement کس نے کیا؟
جواب: دیکھیے، اس میں دو سطحیں تھیں۔ ایک طرف وہ دہشت گرد تھے جو اسلحہ لے کر آتے اور خود کو اڑاتے تھے، ان کے لیے منطق یا فلسفہ کارگر نہیں تھا ، وہاں صرف طاقت کا جواب طاقت سے دینا پڑا۔
دوسری طرف نفرت کا ماحول تھا، جس کے خاتمے کے لیے علما، دانشور، شعرا، ادیب اور قبائلی بزرگ میدان میں آئے۔ ریاست نے بھی اس فکر کی حمایت اور سرپرستی کی۔ جب ریاست کسی مثبت سوچ کے پیچھے کھڑی ہو تو نتائج جلدی اور مؤثر آتے ہیں۔
اسی طرح علمائے کرام نے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کام کیا اور دانشور طبقے نے نفرت کے بیانیے کے مقابلے میں محبت کا بیانیہ پیش کیا، جس کے خوش آئند نتائج سامنے آئے۔ الحمد للہ اس میں بہت حد تک ا کامیابی نظر آئی۔
سوال: ایک پیغام پاکستان بھی کوئی آیا تھا۔ اس کا بھی کوئی impact ہوا تھا؟
جواب: جی بالکل ہوا کیونکہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کی روشنی میں دانشور، علما، سماجی تنظیمیں اور جرگے سب فعال ہو گئے۔ چونکہ اس کے پیچھے ریاستی فکر اور اداروں کی حمایت تھی، اس لیے یہ ایک توانا اور مؤثر منصوبہ ثابت ہوا۔ پیغامِ پاکستان نے نفرت کے بیانیے کے مقابلے میں قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا۔ساتھ ساتھ مدارس، علما اور سماجی طبقے کی چھوٹی چھوٹی کوششیں بھی رنگ لانے لگیں، اور آج بلوچستان میں قابلِ اطمینان امن قائم ہے۔
سوال: ایسا لگتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان سے پہلے بھی یہاں امن کی کوششیں ہو رہی تھیں، مگر ریاستی سرپرستی حاصل نہیں تھی؟
جواب: جی، بالکل درست فرمایا۔
جب یہاں حادثات ہو رہے تھے، تب بھی امن جرگے منعقد کیے جا رہے تھے۔ مثلاً لالہ یوسف خیلجی صاحب یہاں ہاکی گراؤنڈ میں بڑے جرگے بلاتے تھے، جہاں سب کو دعوت دیتے کہ آؤ اور امن و امان کی بات کرو۔ ایک طرف واقعات ہو رہے تھے اور دوسری طرف امن کی کوششیں جاری تھیں۔
سوال: اچھا، یہ جو ہم آہنگی نظر آ رہی ہے وہ کتنی پائیدار ہے؟
جواب: بلوچستان کی جغرافیائی پوزیشن بہت نازک ہے۔ ہم افغانستان اور ایران کے پڑوسی ہیں۔ جب پڑوس میں آگ بھڑکتی ہے، تو حرارت یہاں تک ضرور پہنچتی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ دونوں پڑوسی پرامن رہیں، کیونکہ اگر وہاں کشیدگی بڑھی تو بلوچستان بھی متاثر ہوگا۔
سوال: اور ایک دور کا پڑوسی بھی ہے۔ اس کے اثرات؟
جواب: جی، یقینا۔
دور کا پڑوسی (یعنی ایک بڑی طاقت) ہمارے قریب کے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات رکھتا ہے، اور انہی کے ذریعے اثرات یہاں آتے ہیں۔ لیکن الحمد للہ بلوچستان میں اب مذہبی ہم آہنگی مضبوط ہو چکی ہے۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں، پندرہ سال پہلے ایسا ماحول نہیں تھا۔ اب شدت پسند آوازیں اور چہرے منظر سے غائب ہیں۔ اور جب ریاست امن کی پشت پر کھڑی ہو، تو وہ امن پائدار ہوتا ہے۔
سوال: اب سیاست کی طرف آتے ہیں۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ ریاست مذہب کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتی ہے۔ کیا بلوچستان کی insurgency کا مذہبی سیاست سے کوئی تعلق ہے یا یہ دونوں الگ چیزیں ہیں؟
جواب: دیکھیے، insurgency کے ہمیشہ اپنے مخصوص اسباب ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں بھی یہ کہانی 1948ء سے شروع ہوئی، جب ریاست نے بلوچستان کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کیا۔ غلطیاں ہوئیں، مگر ان کی تلافی نہیں کی گئی۔ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن جب ریاست ماں سے مار بن جائے، تو بغاوت جنم لیتی ہے۔
سوال: تو ریاست کا وہ منصوبہ، کہ مذہبی جماعتوں کے ذریعے بلوچستان کو کنٹرول کیا جائے، کامیاب نہیں ہوا؟
جواب: نہیں، وہ کامیاب ہونا ہی نہیں تھا۔ بلوچ کی تاریخ قبائلی شناخت پر قائم ہے، مذہبی بنیاد پرستی پر نہیں۔ بلوچ اچھا مسلمان ضرور ہے، مگر اپنی بلوچ شناخت پر فخر کرتا ہے۔ ریاست نے بجائے اس شناخت کو قبول کرنے کے، اسے بدلنے کی کوشش کی، جو غلطی تھی۔ جب ریاست زبردستی شناخت مسلط کرے تو اس کے نتائج ہمیشہ الٹ نکلتے ہیں۔
سوال: پنجاب میں اکثر پاکستان اور اسلام کو ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے، مگر بلوچ کو بعض اوقات ’’پورا مسلمان‘‘ نہیں سمجھا جاتا۔ آپ اس فرق کو کیسے واضح کریں گے؟
جواب: انسان انس سے نکلا ہے، وحشت سے نہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے: ’’انسان احسان کا غلام ہوتا ہے۔‘‘ جب آپ محرومیوں کو دور کرتے ہیں، انصاف دیتے ہیں، تو لوگ آپ کے وفادار رہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ حق ماریں، زمینیں چھینیں، تفریق کریں، تو فطری ردِعمل آئے گا۔ بلوچیت کو نظر انداز کر کے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنا درست نہیں۔ شناخت بدلنا انسانی فطرت کے خلاف ہے، اور یہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
سوال: اب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے بارے میں بتائیں۔ وہ ایک مقبول سیاسی رہنما کے طور پر ابھری ہیں۔ ان کے ابھرنے سے مذہبی جماعتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
جواب: عامر صاحب، آپ کے سامنے کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔ دیکھیے، چھہتر سال سے ہم جھوٹ بول بول کر خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماہ رنگ بلوچ جب تربت سے نکلی تھیں، وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہی تھیں، نہ کہ دہلی یا تہران کی طرف۔ اسلام آباد ہمارا وفاقی دارالحکومت ہے، وہاں سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ موجود ہیں۔ اور ہاں، اُس وقت بلوچستانیوں کی اپنی حکومت بھی تھی۔ لیکن جس سخت رویے سے ریاست نے ان خواتین کے ساتھ پیش آیا، وہ بلوچی روایات کے برعکس تھا۔ اگر انہیں عزت سے بلایا جاتا، ان کے مطالبات سنے جاتے، شال پہنائی جاتی، تو معاملہ ختم ہو جاتا۔ شدت مطالبات سے نہیں، بلکہ رویے سے پیدا ہوئی۔ ماہ رنگ جتنا دبائی جا رہی ہیں، اتنی ہی طاقتور بن رہی ہیں۔ اب مذہبی ہو یا غیر مذہبی جماعت، سب ان کے اثر سے خائف ہیں۔
سوال: اور معذرت ہے کہ بلوچستانیوں کی حکومت بھی تھی۔
جواب: جی بالکل، بلوچستانیوں کی حکومت بھی تہی۔ اس کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا۔ اب مجھے نہیں معلوم کی میں اس کو کیا نام دوں۔ یا تو وہ بلوچ تاریخ سے ناواقف تھے۔ اگر وہ بلوچ اور پختون تاریخ سے تھوڑا بھی آشنا ہوتے تو وہ یہ رویہ کبھی بھی خواتین کے ساتھ نہ اختیار کرتے۔ ٹھیک ہے اگر عزت کے ساتھ اس کے دو چار مطالبات مان لیتے اور شال ڈال دیتے اس کے سر پر۔ جو بلوچی روایت ہے یہاں پر۔ پیار، محبت، عزت سے وزیر اعظم اس کو بلا لیتے یا آرمی چیف بلا لیتے۔ بیٹی ہے نا وہ۔ وہ بڑے ہیں ہمارے۔ سپریم کورٹ کے اندر جو ہمارے چیف جسٹس، عیسی صاحب، وہ ان کو بلا لیتے۔ سپریم کورٹ کے اندر ان کا استقبال ہو جاتا۔ کوئی قباحت تھی اس میں، نہیں نا۔ ماننا یا نا ماننا ایک الگ بات تھی۔ مطالبات نہ مانے جانے سے شدت نہیں آئی۔ بلکہ جو رویہ وہاں بلوچ خواتین کے ساتھ رکھا گیا۔ اس سے شدت آئی۔ یہ حقیقت ہے۔ ماہ رنگ جس تیزی سے شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اس کو جیل میں بند کر کے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس میں کمی آئے گی تو وہ غلط ہے۔ تو ہر کوئی چاہے مذہبی جماعت ہو یا غیر مذہبی، ماہ رنگ کے وجود کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
سوال: یعنی اثرات ہوں گے۔
جواب: بالکل ہوں گے۔
سوال: آخر میں بتائیں، بلوچستان کے مسائل کا پائیدار حل آپ کے نزدیک کیا ہے؟ کیا مذہبی جماعتیں بھی کوئی مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں؟
جواب: بالکل، کیوں نہیں۔
بلوچستان ہمارے سر کا جھومر ہے۔ اللہ نے اسے وسائل، قدرتی حسن اور محلِ وقوع سے نوازا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں شفاف انتخابات ہوں، عوام کے منتخب نمائندوں کو بااختیار کیا جائے، اور اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔ اسی راستے سے بلوچستان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ مجھے کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔
عامر رانا: انہی کلمات کے ساتھ ہم اجازت چاہتے ہیں۔
علامہ زاہدی صاحب کا بہت شکریہ کہ انہوں نے قیمتی وقت دیا اور اتنی بصیرت افروز گفتگو کی۔
اور ساتھ ہی میٹھی چائے کے لیے بھی شکریہ۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version