میری کرسمس!
اس والہانہ مبارک باد کی بازگشت اِن دِنوں دنیا کے سب سے بڑے مذہبی گروہ، عیسائیوں، کے ہاں سنائی دے گی۔ بہت سے لوگ تحائف کا تبادلہ کریں گے، چمکتی روشنیوں اور سجے ہوئے درختوں سے لطف اندوز ہوں گے، اور کم از کم کچھ لوگ اِس عالمگیر تہوار کی اصل روح کے بارے میں سوچیں گے—یعنی حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا معجزاتی طور پر کنواری حضرت مریم علیہا السلام سے پیدا ہونا، جو کہ "دنیا کا نور” بننے کے لیے تھے، جیسا کہ اناجیل نے بیان کیا ہے۔
لیکن دنیا کے دوسرے بڑے مذہبی گروہ، مسلمانوں، کا کیا موقف ہے؟ وہ کرسمس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
افسوس کے ساتھ، حالیہ برسوں میں یہ سوال مغرب میں کرسمس کی تقریبات پر اسلام کے نام پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے داغدار ہوا ہے۔ ان واقعات میں 2016 کا برلن اور 2018 کا اسٹراسبرگ کا واقعہ شامل ہیں۔ لیکن اِن ہولناکیوں کا محرک داعش تھی، جو تمام جہادی انتہا پسندوں میں متشدد ترین سمجھا جاتا ہے، جس نے لا تعداد مسلمانوں کو بھی قتل کیا ہے، اور مساجد، مزارات اور مقبروں جیسے بے شمار اسلامی مقدس مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حال ہی میں سڈنی میں یہودی شہریوں پر دہشت گردانہ حملے میں بھی ان کی سنگدلی، کی ایک اور جھلک دیکھنے میں آئی ہے، اگرچہ ان کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ لیکن اسے کبھی بھی اسلام کی نمائندگی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
ایسی خونخوار شدت پسندی کے برعکس، دینِ اسلام کی رائج روایت نے ہمیشہ کرسمس کو مسیحی مذہب کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کیا ہے جسے یہودیت کے ساتھ ساتھ اسلامی قانون میں بھی مخصوص شرائط کے تحت تحفظ حاصل رہا ہے۔ چنانچہ بڑی اسلامی سلطنتوں سمیت بیسویں صدی کے اوائل میں عثمانی بیت اللحم میں کرسمس پریڈ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔اُمَوی، عباسی، اور عثمانی خلافت میں مسیحی اقلیتوں کو عام طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلامکی ولادت کا احترام کرنے کی اجازت تھی، بشرطیکہ یہ تقریبات ان کے گرجا گھروں اور محلے تک محدود رہیں اور تبلیغ کا پہلو نہ رکھتی ہوں۔ عثمانی سلطنت کے آخری دور میں، جو خلافت کا آخری مرکز تھی، غیر مسلموں کے لیے وسیع تر آزادیوں کے باعث کرسمس کی عوامی تقریبات بھی منعقد ہوتی تھیں۔
یہ تکثیری پس منظر یہ واضح کرتی ہے کہ کیوں آج بھی مشرق وسطیٰ میں عیسائی اقلیتیں کرسمس کھل کر مناتی ہیں۔ پانچ عرب ممالک بشمول شام، سوڈان، اردن، لبنان اور عراق میں اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ لبنان میں یہ ایک بڑا تہوار ہے جس میں بیروت اور جونئے میں عوامی سجاوٹ، شاندار درخت اور آتش بازی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویسٹ بینک کے بیت اللحم میں ہزاروں افراد چرچ آف دی نیٹیویٹی میں آدھی ریت کی عبادت میں شریک ہوتے ہیں، جس کے ساتھ منجر اسکوائر میں جلوس اور ایک بڑا درخت بھی ہوتا ہے۔ اردن میں عمان، مادابا، اور فوہیس میں سجے درخت، روشنیاں، کنسرٹس اور بازار دیکھے جا سکتے ہیں۔ مصر میں، 7 جنوری کو قبطی کرسمس ایک سرکاری تعطیل ہے، جس میں قاہرہ اور اسکندریہ کے گرجا گھروں میں عظیم الشان عبادات، سجاوٹ اور دعوتیں ہوتی ہیں۔
تاہم، مسلمانوں میں کرسمس کے خلاف بیانئے بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس تہوار کی بڑھتی ہوئی نمایاں اور ثقافتی کشش ہے، جو کہ انیسویں صدی سے نوآبادیاتی دور یا مغربی ثقافت کے نرم اثرات کے ذریعےمسلم معاشروں کو متاثر کر رہی ہے۔ قبل از جدید اسلام میں، مسلمان کرسمس کو برداشت کرتے تھے کیونکہ یہ ان (عیسائیوں) کا مذہبی تہوار تھا۔ جدید دور میں، جب چمکتے درخت اور خوش باش سانتا کلاز فلموں اور عوامی مقامات پر یکساں نظر آنے لگے، تو یہ ہماری دنیا کا ایک حصہ بن گیا، جس نے ایک ردِ عمل پرمبنی اضطراب کو جنم دیا۔ مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے بھی یہی صورتحال ہے، جن میں سے کچھ اپنے ارد گرد کی ثقافت میں خوشی سے گھل مل جاتے ہیں، جبکہ دوسرے اس میں بہت زیادہ مدغم ہو جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔
اسی لیے قدامت پسند اسلامی ویب سائٹس پر کرسمس کے بارے میں ایک سرسری تلاش آپ کو آن لائن فتاویٰ (مذہبی آراء) تک پہنچا دے گی جن میں کہا گیا ہوگا کہ "ایک مسلمان کے لیے نہ تو کرسمس منانا جائز ہے اور نہ ہی عیسائیوں کو مبارکباد دینا جائز ہے۔” یا آپ کو ٹِک ٹاک کی ایسی ویڈیوز مل سکتی ہیں جو کرسمس کو ایک "مشرکانہ” رسم قرار دیتی ہیں جس کی جڑیں "شیطان پرستی” میں ہیں اور جس سے مسلمانوں کو سختی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
خوش قسمتی سے دوسری جانب زیادہ متوازن قدامت پسند علماء نے زیادہ ہمدردانہ فتاویٰ جاری کیے ہیں: کہ اگرچہ مذہبی حدود کا تحفظ ضروری ہے، لیکن "اسلام مسلمانوں کو عیسائیوں کو کرسمس کی مبارکباد دینے سے منع نہیں کرتا۔” ایسا کرنا "ایک ایسی دنیا میں بقائے باہمی اور ہم آہنگی کو فروغ دے گا جسے اس کی سخت ضرورت ہے۔”
لیکن شاید بقائے باہمی اور ہم آہنگی کی طرف ایک اور قدم بڑھانے کی ضرورت ہے: اور وہ ہے کرسمس میں عیسائیت اور اسلام کے درمیان ایک مذہبی قدر مشترک کو دریافت کرنا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کرسمس کا مرکزی موضوع—حضرت مریم علیہ السلام، جو کنواری تھیں، سے حضرت عیسیٰ علیہ السلامکی معجزاتی پیدائش—صرف عیسائی ہی نہیں بلکہ ایک اسلامی عقیدہ بھی ہے۔ یہ درحقیقت قرآن مجید کی دو مختلف سورتوں خاص طور پر سورہ آلِ عمران اور سورہ مریم میں بیان کردہ اہم واقعات میں سے ایک ہے۔
دوسری سورت، جس کا نام کسی اور نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلامکی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے نام پر ہے، ایک ایسی کہانی سناتی ہے جو انجیلِ لوقا سے مشابہت رکھتی ہے: حضرت مریم علیہا السلام ایک پرہیزگار، پاک دامن خاتون ہیں جنہیں کسی مرد نے نہیں چھوا۔ لیکن ایک دن خدا ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو "ایک کامل انسان کی صورت میں” ظاہر ہوتا ہے، اور جس کے پاس ان کے لیے ایک بڑی خبر ہوتی ہے:
"(فرشتے نے) کہا: میں تو صرف تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکے کی بشارت دوں۔حضرت مریم علیہ السلامنے کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔اس (فرشتے) نے کہا: یہ ایسا ہی ہے جیسا تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے اور ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی بنا دیں اور یہ ہماری طرف سے رحمت ہو۔” (قرآن19:19-21 )
اسی طرح حضرت مریم علیہ السلام حاملہ ہوئیں، جن کی تعریف قرآن میں بار بار ایک عظیم نبی کے طور پر کی گئی ہے جو بنی اسرائیل کی طرف خدا کی طرف سے بھیجا گیا اور وہ مسیحا تھے جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔
بشارت کے بعد، قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلامکی معجزاتی پیدائش بھی بیان کرتا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام، جیسا کہ ان کے نام والی سورت ہمیں بتاتی ہے، دردِ زہ میں مبتلا ہو کر ایک ویرانے میں چلی جاتی ہیں۔ وہاں ایک فرشتے کی آواز انہیں تسلی دیتی ہے اور ایک کھجور کے درخت کے نیچے پکی ہوئی کھجوروں اور پانی کے ایک معجزاتی چشموں سے ان کی غذا کا بندوبست ہوتا ہے۔ اگرچہ پیدائش کا یہ واقعہ مغربی عیسائیوں کے لیے جانے پہچانے بیت اللحم کے گھر کے احاطے سے مختلف ہے، لیکن اس میں مشرقی عیسائی روایات کے بعض غیر رسمی قصوں سے عجیب مشابہتیں پائی جاتی ہیں—جیسا کہ میں نے اپنی کتاب The Islamic Jesus میں وضاحت کی ہے۔
یہاں ایک قابل غور نکتہ ہے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی کہانی پورے قرآن مجید میں واحد تفصیل اور جاندار انداز میں بیان کردہ پیدائش کا واقعہ ہے۔ (مقابلتاً، اسلام کے اپنے نبی، محمد ﷺ کی پیدائش کا ذکر اسلامی صحیفے میں موجود نہیں ہے۔ چنانچہ یہ ایک مقدس دن، یعنی المولد النبوی، کہلایا اور وہ بھی بہت بعد میں، اور یہ ایک متنازعہ روایت ہی رہی ہے۔ قرآن، آیت 19:33 میں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے بھی نقل کرتا ہے: "اور مجھ پر سلام ہو میرے جنم کے دن، اور میری موت کے دن، اور جس دن میں دوبارہ زندہ اٹھایا جاؤں گا۔”—یہ بھی کسی نبی کی پیدائش کے دن کا قرآن میں ایک نایاب حوالہ ہے۔
یقیناً، اسی قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کو بھی رد کیا ہے—اس بات پر اصرار کرتے ہوئے کہ وہ جتنے بھی مقدس تھے، وہ خدا کے نبی اور بندے تھے، خدا کے مظہر ذات نہیں۔ یہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان ایک اہم، اگرچہ غیر مستقل، خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
پھر بھی اس اختلاف کو ذہن میں رکھتے ہوئے، مسلمان کرسمس میں تاریخ کے ایک منفرد واقعے کی خوشی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس کا احترام صرف انجیل ہی نہیں بلکہ قرآن بھی کرتا ہے۔ معاصر اسلامی علماء میں سے چند علماء جیسے کہ ہندوستان کے مولانا وحید الدین خان اور کینیڈا کے شبير علی نے یہ نکتہ اٹھایا ہے۔ اور ایک امریکی مسلم فنکار، رائف، نے ایک خوبصورت "مسلم کرسمس گانا” بھی تخلیق کیا ہے۔
ایک اور مسلمان کی حیثیت سے، میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ مسلمان اپنے عیسائی ہمسایوں کو بخوشی "میری کرسمس” کہہ سکتے ہیں۔ یہ پہلے تو خوش اخلاقی، ہمدردی اور مشترکہ انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ دوسرے، یہ عیسائیت اور اسلام کے درمیان ایک مشترکہ عقیدے کی بنیاد پر بھی ہے: کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام، یا عربی میں عیسیٰ المسیح، کوئی عام انسان نہیں تھے، اور ان کی پیدائش میں کچھ ایسا منفرد ہے جو ہماری مقدس کتابوں میں گونجتا ہے۔ لہٰذا، اگرچہ ہم ان کی ذات کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں، ہم ان کی یاد کو عزت دینے، ان کی ورثے کا احترام اور ان کی حکمت کی پیروی کرنے پر متفق ہو سکتے ہیں۔
مصطفیٰ اکیول Cato انسٹیٹیوٹ (واشنگٹن ڈی سی) کے Center for Global Liberty & Prosperity میں سینئیر فیلو ہیں ۔ پبلک پالیسی، اسلام اور جدیدیت ان کی تحقیق کا محور ہے۔
اصل انگریزی مضمون کا لنک یہ ہے: https://alhurra.com/en/9207

