بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش نے بحث چھیڑ دی ہے کہ اسے مؤثر طریقے سے کیسے روکا جائے۔
ریاستی سیکیورٹی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسے طاقت کے ذریعے ختم کریں گے، جس سے ان کے پاکستان کو ایک سخت ریاست بنانے کے ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسری طرف، دانشوروں کے ایک طبقے اور سیاسی حلقے کے ایک بڑے حصے کا کہنا ہے کہ ایک سیاسی مسئلہ سیاسی طریقوں سے ہی حل ہونا چاہیے۔ یہ متضاد نقطہ نظر تاریخی اور عصری شواہد کی بنیاد پر اپنی دلیل پیش کرتے ہیں۔ آراء میں یہ تنوع ایک مثبت رویہ ہے، کیونکہ اس سے زیادہ مؤثر اور اتفاق رائے پر مبنی حکمت عملیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، بشر طیکہ ریاستی ادارے اس موقف کو سننے کے لیے تیار ہوں ۔
پاکستان میں عرصہ سے دانشوروں، ماہرین تعلیم ، میڈیا اور مختلف نظریات کے حامل سیاست دانوں کے کچھ حلقوں میں یہ غالب رجحان رہا ہے کہ وہ اہل اقتدار کو خوش کرنے کے لیے حقائق کو سخ یا توڑ مروڑ کر پیش کریں تا کہ ذاتی مفاد حاصل کر سکیں۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح کرنا لیں لئے ضروری ہے کیونکہ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر انسداد بغاوت (COIN) کے لیے عالمی سطح پر مؤثر حکمت عملیوں کا جائزہ لینا بے معنی ہوگا ۔ اکثر اوقات، ریاستی پالیسیوں کے دفاع میں نام نہاد دانشور تحقیقاتی نتائج کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ایک افسوسناک مثال RAND کارپوریشن کی رپورٹ“ Paths کی غلط تشریح ہے، جسے کرسٹوفر ” Detailed Insurgency Case Studies:to Victory پال، بیتھ گرل ، کولن پی کلارک، اور مولی ڈھیگن نے مرتب کیا تھا۔ پاکستان میں داخلی سلامتی سے متعلق مباحث میں اس مطالعے کو اکثر یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ بغاوتوں کو کچل دینا کامیابی کی کنجی ہے۔
اس کے برعکس، یہ مطالعہ اس دلیل کو رد کرتا ہے۔ اس نے دوسری جنگ عظیم سے لے کر 2010 تک حل ہونے والی 71 بغاوتوں کا تجزیہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ہر بغاوت منفرد ہوتی ہے۔ اس نے 24 میں سے 17 ایسی انسداد بغاوت حکمت عملیوں کو جانچا جو طاقت کے بے دریغ استعمال پر مبنی تھیں۔ نتائج نے” کچل دینے” کے نظریے کے خلاف مضبوط شواہد فراہم کیے۔ اس کے برعکس، 286 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں انسداد بغاوت کی ایک جامع تجزیاتی وضاحت دی گئی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مؤثر انسداد بغاوت حکمت عملی کسی ایک طریقے پر انحصار نہیں کرتی بلکہ کئی بہترین طریقوں کے امتزاج سے بنتی ہے۔
کامیاب انسداد بغاوت (COIN) مہمات میں مشترکہ عناصر کو تلاش کرنا مشکل نہیں۔ تین بنیادی عوامل نمایاں ہوتے ہیں :
1. وسائل کی ترسیل کو کم کرنا ہر کامیاب COIN مہم میں حکومتیں شورش پسندوں کی مادی حمایت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔
2. عزم اور حوصلہ کامیاب COIN فورسز بغاوت کو شکست دینے کے لیے حقیقی عزم کا مظاہرہ کرتی ہیں، بجائے اس کے کہ ذاتی دولت کے حصول ، تنازع کو بیرونی امداد کے لیے طول دینے ، یا جنگ سے بچنے کو ترجیح دیں۔
3. لچک اور موافقت کامیاب COIN آپریشنز میں بغاوت پسندوں کی حکمت عملیوں اور حربوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے۔
اگر پاکستان بلوچستان میں بغاوت کا مؤثر طریقے سے سد باب کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی حکمت عملی پر از سر نو نحور کرنا ہو گا اور انسداد بغاوت کی پیچیدگی کو سمجھنا ہوگا۔ محض طاقت کا استعمال تا دیر موثر نہیں رہتا اور یہ تاریخی اسباق اور تجرباتی شواہد کے بھی خلاف ہے۔
And کی رپورٹ کے مطابق غیر مؤثر COIN حکمت عملیوں میں اجتماعی سزائیں، جبر میں اضافہ ، اور کرپٹ، غیر منصفانہ طرزحکمرانی شامل ہیں۔ تنازعات اس وقت تک برقرار رہتے ہیں جب تک حکمران اشرافیہ کو انہیں طول دینے میں فائدہ نظر آئے یا بغاوت پسندوں کو بیرونی عسکری حمایت حاصل ہو۔ بیرونی امداد پر انحصار، حکمت عملی میں موافقت کا فقدان ، حد سے زیادہ جبر ، اور حکومت اور COIN فورسز کے درمیان ہم آہنگی کا نہ ہونا انسداد بغاوت کی کوششوں کو کمزور کرتا ہے۔ مزید برآں، جب بغاوت پسند COIN فورسز کے مقابلے میں زیادہ ہنر مند یا حوصلہ مند ہوں یا جب ریاستی فورسز بقا کے لیے لوٹ مار پر مجبور ہو جائیں، تو نا کامی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ایک اہم سبق یہ ہے کہ COIN فورسز اکثر فیصلہ کن مرحلے میں بغاوت پسندوں کو گوریلا جنگ اپنانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ بغاوت پسند عام طور پر دہشت گردانہ حملے تخریب کاری، اور سیاسی بیانیوں کا استحصال کرتے ہیں لیکن ان کی حکمت عملی ریاستی اقدامات کے ردعمل میں ارتقا پذیر ہوتی رہتی ہے۔
مطالعے میں مختلف بغاوتوں کے دورانیے میں نمایاں فرق کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تجزیہ شدہ 71 کیسز کا درمیانی ( میڈین ) دورانیہ تقریباً 118 ماہ ( 8.9 سال) تھا ۔ سب سے مختصر بغاوت نو ماہ ( بنگلہ دیش، 1971) تک چلی، جبکہ طویل ترین بغاوت 35 سال ( گواتیمالا ، 19961960) تک جاری رہی ۔ اوسطاً، بغاوتیں 128 ماه (10. 6 سال) تک چلیں، تاہم درمیانی مدت کا اعداد و شمار زیادہ متوازن تناظر فراہم کرتا ہے۔
مطالعے میں 1971 میں مشرقی پاکستان کی بغاوت کا بھی جائزہ لیا گیا اور پاکستان کی شکست کے
دوا ہم اسباب بیان کیے گئے :
1. سیاسی مینڈیٹ کو مستر د کرنا۔
2 طاقت کا بے دریغ استعمال ۔
ان اسباق کے باوجود، پاکستان نے 78-1972 کے دوران بلوچستان میں اسی طرز عمل کو اپنایا۔ بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ ( بعد میں بلوچ لبریشن فرنٹ ) کو مقامی سطح پر وسیع حمایت حاصل تھی اور اس نے روایتی گوریلا حربے اپنائے، جن میں بلوچستان اور دیگر صوبوں کے درمیان اہم سپلائی لائنوں اور مواصلاتی راستوں کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ تاہم، COIN فورسز ، جن میں پاکستانی فوج اور خصوصی فورسز شامل تھیں ، زیادہ وسیع اور جدید اسلحے سے لیس ہونے کے باعث بالآخر کامیاب رہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچل دینے کی حکمت عملی کا ایک اور نتیجہ برآمد ہوا۔ فیصلہ کن مرحلے کے بعد ، بغاوت پسندوں نے افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں قائم کر لیں اور سرحد پار سے کم شدت کی جنگ جاری رکھی۔ تاہم، اس سرحد پار موجودگی نے تنازع کو طول تو دیا، مگر بغاوت پسندوں کی حتمی فتح کی راہ ہموار نہ کی۔ اس رپورٹ میں ایک اور اہم پہلو کا ذکر نہیں کیا گیا: اس وقت ایران کی عسکری اور سیاسی حمایت پاکستان کے لیے ایک بڑا سہارا تھی ۔ تاہم ، آج کے بغاوت پسندوں کو ایران میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، اور پاکستان کو ایران کی سابقہ حمایت میسر نہیں۔
ان واقعات سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ اگر پاکستان نے انسداد بغاوت کے بعد ترقی اور حکومتی اصلاحات کو ترجیح دی ہوتی، تو بلوچستان کی طویل مدتی صورتحال مختلف ہو سکتی تھی ۔ 36 کیسز میں COIN فورسز اس لیے ناکام رہیں کیونکہ فوجی کامیابی کے بعد حکومت نے عوامی حمایت حاصل نہیں کی۔ مزید برآں، جمہوریت طویل مدتی استحکام کے لیے فیصلہ کن عنصر ثابت ہوتی وہ COIN فورسز جو جمہوری حکمرانی کو نہ اپنا سکیں ، 30 میں سے 26 کیسز میں شکست کھا گئیں۔ یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ جمہوریت اچھی حکمرانی کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کر کے حکومتی جائز حیثیت کو محکم کرتی ہے، اور اگر یہ اقدامات نہ کیے جائیں تو مہمات طویل مدتی ناکامی سے دوچار ہوسکتی ہیں۔
پاکستان کا انسداد بغاوت اور علاقائی تعاون کا چیلنج :
پاکستان اقوام متحدہ کا ایک فعال رکن ہے اور عالمی سطح پر تنازعات کے پر امن حل کے لیے مسلسل حمایت کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ ترین قرارداد پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے جس میں روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغیوں کو گوما اور کانگو (DRC) کے دیگر علاقوں سے انخلا کا حکم دیا گیا، جبکہ کانگو اور روانڈا کے درمیان سفارتی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نامزد سفیر عاصم افتخار احمد نے ڈی آرسی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک بحث کے دوران کہا، ”یہ واضح ہے کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔“ یہ سفارتی موقف ایک مثبت رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو عسکری تصادم کے بجائے سیاسی حل پر زور دیتا ہے۔ تاہم، جہاں پاکستان عالمی سطح پر تنازعات کے پر امن حل کی وکالت کرتا ہے، وہیں اس کی داخلی انسداد بغاوت (COIN) پالیسی اکثر طاقت کے بھر پور استعمال پر مبنی رہی ہے، جو اس کی عالمی اور اندرونی حکمت عملیوں میں تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
علاقائی تعاون:پاکستان کے لیے ایک ضروری حکمت عملی :
بین الاقوامی سفارت کاری کے سیاسی اصولوں سے ہٹ کر، پاکستان کو اپنی ہی صورتحال میں ایک واقفیت کا عنصر نظر آسکتا ہے : ہمسایہ ممالک کا کردار داخلی تنازعات کے حل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بیشتر صورتوں میں، بغاوت پسندوں کو پڑوسی ریاستوں سے کسی نہ کسی درجے کی حمایت حاصل ہوتی ہے، جس کے پیچھے مختلف جواز ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہمسائیوں سے اچھے تعلقات تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ اکثر بغاوتیں بین الاقوامی سرحدوں کے قریب ہی ابھرتی اور سرگرم رہتی ہیں۔
سب سے مؤثر انسداد بغاوت حکمت عملی وہی ہوتی ہے جو اس حقیقت کو تسلیم کرے اور علاقائی تعاون کے ذریعے بغاوت پسندوں کو تنہا کرنے اور کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کسی ریاست کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوں اور اس کے پاس انہیں اپنی حمایت پر قائل کرنے کا سفارتی اثر و رسوخ نہ ہو، تو تنازع جاری رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جیسا کہ ڈی آرسی اور روانڈا کے درمیان تنازع کی موجودہ صورتحال میں دیکھا جا سکتا ہے۔
دیگر ممالک کے انسداد بغاوت تجربات اور پاکستان کے لیے اسباق
پاکستان کو اپنے انسداد بغاوت چیلنجز میں منفر د یا غیر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ کولمبیا کی مثال لی جائے تو وہاں وینز ویلا ، ایکواڈور، اور کسی حد تک برازیل نے بائیں بازو کی باغی تنظیموں (FARC اور ELN) کو مختلف سطحوں پر مدد فراہم کی ۔ کولمبیا نے امریکا کی حمایت حاصل کی ، جس نے پلان کولمبیا ” (1999-2016) کے تحت عسکری امداد، انسداد منشیات کا رروائیوں ، اور اقتصادی مددفراہم کی۔ تاہم، کولمبیا کی COIN مہم بھی کامیاب ہوئی جب اسے اپنے ہمسایہ ممالک ، خاص طور پر وینز ویلا ، کا سفارتی تعاون ملا، جس نے بالآخر FARC کے ساتھ امن مذاکرات میں کردار ادا کیا ، حالانکہ یہ ایک مشکل عمل
تھا۔
پاکستان بھی چین کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن صرف عسکری آپریشنز سے پائیدار امن ممکن نہیں ہو گا جب تک کہ علاقائی تعاون کو یقینی نہ بنایا جائے۔
جنوبی ایشیائی ممالک میں انسداد بغاوت کے علاقائی اقدامات :
جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک نے بھی بغاوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کو ترجیح دی:
بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا ، جس کے نتیجے میں ڈھا کہ حکومت نے شمال مشرقی بھارت کے باغی گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔
سری لنکا نے چین، روس، اور پاکستان کی سفارتی حمایت ( یا کم از کم غیر جانبداری ) حاصل کی، جبکہ مغربی ممالک کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کا سامنا کرتے ہوئے تامل ٹائیگرز (LTTE) کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کی ۔
پاکستان نے بھی 1970 کی دہائی میں بلوچ بغاوت کے خلاف اپنی انسداد بغاوت مہم میں علاقائی اور سفارتی اتحادوں سے فائدہ اٹھایا، جس میں اسے ایران کی اہم مدد حاصل تھی۔
پاکستان، افغانستان، اور ایران:سفارتی حکمت عملی کی ضرورت:
اس کے برعکس، پاکستان نے افغانستان میں طالبان بغاوت کی کھل کر حمایت کی ، جس میں مادی امداد، سفارتی معاونت، اور امریکا و نیٹو سے مذاکرات میں سہولت کاری شامل تھی۔ اس کا نتیجہ طالبان کی کامیابی اور امریکا کے انخلا کی صورت میں نکلا۔ کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان اور ایران طالبان کی حمایت نہ کرتے تو ان کی کامیابی کا امکان بہت کم ہوتا ۔
اس تجربے کی روشنی میں، پاکستان اپنی انسداد بغاوت حکمت عملی میں اسی علاقائی تعاون کو کیوں نہیں اپنا رہا ؟ پاکستان کی لمبی سرحدیں ہیں اور بغاوت پسند ان کے پار موجود ہیں، اس لیے علاقائی تعاون پا کو حکمت عملی میں مرکزی حیثیت دینا چاہیے۔
پاکستان نے یہ موقف تو کامیابی سے پیش کیا کہ افغانستان اس کی سرزمین پر دہشت گردی کا بڑا معاون ہے، جبکہ بلوچ باغی ایرانی علاقے کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان نے سفارتی ذرائع سے ان دونوں ممالک کو اپنی COIN حکمت عملی میں شامل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
طالبان اور ایران کے ساتھ مؤثر سفارتی حکمت عملی:
طالبان کے حوالے سے پاکستان کے پاس طالبان پر دباؤ ڈالنے کے کئی ذرائع موجود ہیں لیکن محض دباؤ ڈالنے کے بجائے ، سفارتی، سیاسی، اور اقتصادی ترغیبات کا متوازن استعمال زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے تا کہ طالبان افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کریں۔
ایران کے حوالے سے : موجودہ سرحدی انتظامی نظام کو از سر نو ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ یہ انتظامی نظام بغاوت، غیر قانونی نقل و حرکت ، اسمگلنگ، اور منشیات کے کاروبار پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ اگر چہ ایران کے ساتھ زیادہ گہرے تعلقات واشنگٹن اور ریاض میں تشویش پیدا کر سکتے ہیں لیکن پاکستان کے لیے مذہبی دہشت گردی اور بلوچ بغاوت سے نمٹنے کے لیے ایران کے ساتھ COIN تعاون ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اپنی COIN حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت:
پاکستان کو اپنی وسیع تر اسٹر یسجنگ اور سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے، تا کہ وہ بیرونی اتحادیوں پر انحصار کم کر کے علاقائی تعاون کو ترجیح دے، جو طویل المدتی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔ کامیاب انسداد بغاوت حکمت عملی صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس میں علاقائی تعاون سفارتی روابط ، اور اندرونی سیاسی عزم کا امتزاج ضروری ہوتا ہے۔
چونکہ پاکستان عالمی سطح پر تنازعات کے پر امن حل کا حامی ہے، اس لیے توقع ہے کہ وہ اپنے داخلی مسائل کو بھی اس اصول کے تحت حل کرے۔ اچھے ہمسائیگی تعلقات کی تعمیر کے علاوہ، مقامی برادریوں کی شمولیت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ عسکری کارروائیاں ۔ بلوچستان کی صورتحال پیچیدہ ضرور ہے، لیکن محض جبر پر انحصار اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنا تنازع کو مزید طول دے سکتا ہے۔

