پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 13 جون 2025 کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک اختتامی تقریب کے ساتھ اپنی دس ملکی تربیتی ورکشاپس کی سیریز مکمل کی، جس کا عنوان " Building Bridges: Fostering Tolerance and Inclusivity among Youth" تھا ۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں مقامی امن کارکنوں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر مذہب کی بنیاد پر ہونے والے جبر اور تشدد کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنا تھا۔ ورکشاپ میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے شرکاء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا، جن میں مرکزی دھارے اور مذہبی تعلیمی اداروں کے اساتذہ و طلباء، انسانی حقوق کے کارکنان، اور مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین شامل تھے۔مختلف انٹریکٹو سیشنز کے ذریعے اس پروگرام نے اہم موضوعات پر بامقصد مکالمے کو فروغ دیا، جن میں شمولیت، شہریت کے حقوق، آئینی اقدار، ثقافتی تنوع، صنفی مساوات، حساس تعلیمی رویے، سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال، اور ایک پرامن و جامع معاشرے کے قیام کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کی اہمیت شامل تھی۔

تقریب کا آغاز پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے پراجیکٹ مینیجر، مرتضیٰ علی کے ابتدائی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے شرکاء کو شمولیت، تنوع، اور برداشت جیسے بنیادی اقدار کے فہم پر مبنی ایک باہمی گفتگو میں مشغول کیا۔ انہوں نے سماجی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شرکاء کو ترغیب دی کہ وہ ان عوامل کی نشاندہی کریں اور ان پر غور کریں جو معاشرتی انتشار کا سبب بنتے ہیں اور اجتماعی یکجہتی کو متاثر کرتے ہیں۔

اگلا سیشن سینئر صحافی عمران مختار نے منعقد کیا، جنہوں نے "آئین، پارلیمنٹ اور شہریت” کے موضوع پر ایک بصیرت افروز پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے پاکستان میں آئینی ارتقا کی تاریخی پیش رفت کو بیان کیا اور بنیادی حقوق کی اہمیت اور ریاستی اختیارات کے ڈھانچے پر روشنی ڈالی۔عمران مختار نے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے مابین اختیارات کی تقسیم (trichotomy of power) کی وضاحت کی اور آئینی نظام میں پارلیمنٹ، پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں، نیشنل فنانس کمیشن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جیسے کلیدی اداروں کے کردار کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے سیشن کا اختتام 26ویں آئینی ترمیم پر گفتگو سے کیا، جس میں انہوں نے اس کے مضمرات پر تنقیدی نقطہ نظر پیش کیا۔

بعد ازاں سیشن میں، سیاسی کارکن اور ہائی کورٹ کے وکیل دلیپ دوشی نے "پاکستان میں ثقافتی و نسلی تنوع” کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے ثقافت، تہذیب، اور مذہب کے تناظرات میں تنوع کے تصور کو اجاگر کیا اور شرکاء کو ایک انٹرایکٹو مکالمے میں شریک کیا تاکہ کثرت میں وحدت پر مبنی معاشرے میں شمولیت کی اہمیت کو واضح کیا جا سکے۔ انہوں نے پاکستان کی شناخت کو ایک کثیرالثقافتی، کثیراللسانی، اور کثیرالنسلی ریاست کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پائیدار مستقبل صرف جامعیت پر مبنی رویے سے ہی ممکن ہے۔

دلیپ دوشی نے زور دیا کہ کسی فرد یا گروہ کو کسی ثقافت، زبان یا مذہب کے خلاف تشدد کا کوئی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پُرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام کی اقدار کو اپنائیں، اور کہا کہ اختلافات کو اپنانا چاہیے، مگر وہ انسانی جان اور آزادی کی قیمت پر ہرگز نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے شرکاء کو یہ ترغیب دی کہ وہ ملک کے اس ثقافتی تنوع کو تسلیم کریں اور اس کا جشن منائیں، اور ہر طبقے کو اس کی ثقافتی، نسلی، لسانی یا مذہبی شناخت سے قطع نظر جگہ اور عزت دی جائے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا کہ نفرت، تعصب اور اخراج جیسے رویوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے، اور ایک منصفانہ اور جامع پاکستان کے قیام کے لیے معاشرتی سوچ میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔

"مذہبی اقلیتیں اور تعلیم” کے عنوان سے سیشن کی قیادت ماہرِ تعلیم و تجزیہ کار زیبا ہاشمی نے کی۔ سیشن کا آغاز ایک بین السطور مکالمے سے ہوا جس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا مذہبی تعلیم کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے شرکاء کو عقیدے کی آزادی اور تعلیمی نظام میں شمولیت کے مسائل پر غور کرنے کی ترغیب دی۔زیبا ہاشمی نے امتیاز، اخراج اور انتہا پسندی کے نظامی (systemic) پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ کس طرح ریاستی اور سماجی ڈھانچے دانستہ یا نادانستہ طور پر ان مسائل کو برقرار رکھتے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دینے والی آئینی شقوں کا حوالہ دیا، جن میں آرٹیکل 20 (مذہب کی آزادی)، آرٹیکل 21 (مذہبی ٹیکس سے تحفظ)، آرٹیکل 22(1) (مذہبی تعلیم سے آزادی)، آرٹیکل 25 (تمام شہریوں کی برابری)، آرٹیکل 25-اے (مفت و لازمی تعلیم کا حق) اور آرٹیکل 36 (اقلیتوں کا تحفظ) شامل ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن (UNCRC) جیسے بین الاقوامی معاہدات کا بھی حوالہ دیا، جو پاکستان کو غیر امتیازی تعلیم فراہم کرنے کا پابند بناتے ہیں۔ موجودہ چیلنجز پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے سنگل نیشنل کریکیولم (SNC) میں موجود خامیوں اور رسمی تعلیمی مواد میں نفرت انگیز مواد کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کلاس روم میں سوال اٹھانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی پر بھی روشنی ڈالی، جو ان کے مطابق تنقیدی سوچ کو دبانے اور امتیازی رویوں کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہے۔

زیبا ہاشمی نے کہا، "پاکستان کا موجودہ تعلیمی ماحول اقلیتوں کے خلاف دباؤ اور امتیاز کی فضا سے بھی عبارت ہے۔” سیشن کے اختتام پر انہوں نے دو اہم سوالات اٹھائے: "کیا ہم مذہبی تعلیم میں انتخاب کے حق کا احترام کر رہے ہیں؟ اور کیا ہمارے تعلیمی ماحول میں امتیاز اور عدم برداشت کے خاتمے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل موجود ہے؟"

"صنفی مساوات: مفروضے، اقدار اور عملی رویے” کے عنوان سے سیشن کی قیادت پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی ریسرچ آفیسر، حنا خالق تاج نے کی۔ انہوں نے سیشن کا آغاز صنفی مساوات (Gender Equality) اور صنفی انصاف (Gender Equity) کے بنیادی تصورات کی وضاحت سے کیا اور ان سماجی مفروضات اور روایتی اقدار پر روشنی ڈالی جو مرد و عورت کے کرداروں سے متعلق دقیانوسی تصورات کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے سماجی تربیت (Social Conditioning) کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ راسخ عقائد کس طرح منظم عدم مساوات کو جنم دیتے ہیں اور ایسے سماجی ڈھانچے قائم کرتے ہیں جو تمام صنفوں کے لیے مساوی خدمات فراہم نہیں کرتے۔ اپنے مؤقف کو تقویت دینے کے لیے انہوں نے صحت، تعلیم، سیاست اور دیگر سماجی اشاریوں میں صنفی لحاظ سے تفریق شدہ اعداد و شمار پیش کیے، جو مواقع اور نمائندگی میں مسلسل موجود خلا کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: "ہماری سماجی تربیت کچھ اس طرح ہوئی ہے کہ اختیار کی ہر پوزیشن اور بیشتر پیشہ ورانہ کرداروں کو ہمیشہ مردوں سے منسلک کیا گیا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ معاشرتی اقدار پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک زیادہ جامع (inclusive) اور مساوی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

ورکشاپ کا اختتام پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے صدر اور سیاسی تجزیہ کار محمد عامر رانا کے بصیرت افروز سیشن سے ہوا، جس کا عنوان تھا“From Buzzwords to Breakthroughs: Navigating the Future with Old and New Jargon”

انہوں نے معاشرتی تبدیلی میں فرد کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی تبدیلی کی شروعات فرد کی ذات سے ہوتی ہے جو بتدریج پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عامر رانا نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کا پیمانہ کسی فرد کی شمولیت پسند (inclusive) سوچ پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا تھا، "غیر شمولیتی رویوں کے حامل افراد کے لیے آج کی عالمی منڈی میں کوئی جگہ نہیں"۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں آجروں (employers) کے لیے یہ دیکھنا زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ آیا کوئی فرد مختلف النوع پیشہ ورانہ ماحول میں دوسروں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے اس نکتے کو اجاگر کیا کہ جدید عالمی تناظر میں کسی ملک کی معاشی کارکردگی سے زیادہ اس کے سماجی اشاریے، بالخصوص شمولیت کی سطح، اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی، "شمولیت کا مطلب ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو سماجی اور سیاسی تبدیلیوں میں مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوں"۔ ان کے مطابق شمولیت کی بنیاد سچ بولنے کی جرأت پر قائم ہے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ عام فہم (common sense) اور تنقیدی سوچ (critical thinking) کو اپنی رہنمائی کے اوزار بنائیں، کیونکہ یہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جن کی مدد سے انسان دنیا کو دیکھنے اور فیصلہ کرنے کا زاویہ یعنی "ورلڈ ویو” تشکیل دیتا ہے۔

جیو نیوز ڈیرہ اسماعیل خان کے بیورو چیف، سعید اللہ مروت نے ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں شرکت کی۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے معاشرے میں زبان کے مفہوم کی بگڑتی ہوئی حالت پر روشنی ڈالی اور ابلاغ میں وضاحت اور سچائی کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے رضامندی (consent) کے تصور کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک مؤثر پیغام دیا"نہیں کا مطلب صرف نہیں ہوتا ہے"۔

ورکشاپ کا اختتام اس تربیتی سلسلے کی کامیاب تکمیل کی علامت کے طور پر اسناد کی تقسیم کی تقریب کے ساتھ ہوا۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version