اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ کسی ریاست کی پائیدار بقاء طاقت، جبر یا مرکزیت کے بل پر ممکن نہیں بلکہ شفافیت، آئینی مساوات، اور عوامی شراکت پر مبنی جمہوری طرزِ حکمرانی ہی وہ بنیاد ہے جو ایک کثیرالقومی ریاست کو متحد اور مستحکم رکھ سکتی ہے۔ پاکستان کے قیام کی بنیاد بھی قراردادِ لاہور 1940 میں رکھی گئی تھی، جس نے وفاق کو خودمختار اکائیوں کی رضاکارانہ شرکت سے مشروط کیا۔ اس تصور کو 1973 کے آئین اور بعد ازاں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے مزید تقویت دی گئی۔
تاہم، ان آئینی وعدوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے نتیجے میں ریاستی اداروں کی جانب سے ماورائے قانون اقدامات جیسے شہریوں پر طاقت کا استعمال، جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، سیاسی عمل پر قدغنیں اور ووٹ کے حق سے عوام کی محرومی نے نہ صرف وفاقی اعتماد کو مجروح کیا بلکہ ایسے ترقی پسند جمہوری عناصر کو بھی دیوار سے لگایا جو ایک پُرامن سیاسی حل کے حامی رہے ہیں۔
بلوچستان جیسے حساس خطے میں ان پالیسیوں کا نتیجہ سیاسی بیگانگی، علیحدگی پسندی اور داخلی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگر ریاست واقعی وفاق کی بقاء چاہتی ہے تو اسے جبر اور استثنائی پالیسیوں کو ترک کر کے ایک نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دینا ہو گا، جو خودمختار اکائیوں کو مساوی حیثیت، وسائل پر حق، اور سیاسی نمائندگی کی ضمانت فراہم کرے۔
جمہوری مزاحمت: عالمی مثالیں اور کامیاب ماڈل
عالمی سطح پر کئی ایسی تحریکیں رہی ہیں جنہوں نے ابتدا میں مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، مگر بعد میں جمہوری حکمتِ عملی اپنا کر نہ صرف سیاسی کامیابیاں حاصل کیں بلکہ عالمی سطح پر عوامی ہمدردی اور ساکھ بھی حاصل کی۔
جنوبی افریقہ میں افریقی نیشنل کانگریس (ANC) نے نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کے دوران ابتدا میں عسکری مزاحمت کی، مگر نیلسن منڈیلا کی قیادت میں جمہوری سیاست کو اپنانے سے جنوبی افریقہ کو پُرامن انتقالِ اقتدار میسر آیا۔
ترکی میں BDP اور بعد ازاں HDP نے کرد عوام کی نمائندگی کو مسلح جدوجہد سے ہٹا کر پارلیمانی سیاست، مقامی حکومتوں اور آئینی اصلاحات کی طرف منتقل کیا۔ صلاح الدین دیمیرتاش جیسے رہنما اس تبدیلی کے علامتی چہرے بنے۔
بولیویا میں MAS اور ایوو مورالس نے نسلی اور معاشی انصاف کے ایجنڈے کو عوامی طاقت کے ذریعے آئینی شکل دی۔
PKK، جو عشروں تک ترکی میں مسلح تحریک کے طور پر جانی جاتی تھی، اب عبداللہ اوجلان کی نظریاتی رہنمائی میں جمہوری کنفیڈرلزم کا تصور لے کر سامنے آئی ہے جو علاقائی خودمختاری، جمہوری اداروں، اور خواتین کی شرکت پر زور دیتا ہے۔
یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ جب مزاحمتی تحریکیں عوامی مفاد، جمہوریت، اور سیاسی اداروں کو ترجیح دیتی ہیں تو وہ دیرپا، پائیدار کامیابی کی طرف بڑھتی ہیں۔
اسی حوالے سے یووال نوح ہراری اپنی کتاب "Homo Deus” میں یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ "دنیا پر بیانیے حکومت کرتے ہیں، حقائق نہیں۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ قومیں اور تحریکیں اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب وہ اپنی جدوجہد کو ایک جامع، مثبت، اور متاثر کن بیانیے میں ڈھال کر عوام کے دل و دماغ سے جوڑتی ہیں۔ یہی حکمت عملی جمہوری تحریکوں کی اصل طاقت ہے۔
مسلح مزاحمت: نقصان دہ نتائج اور تاریخی ناکامیاں
اس کے برعکس وہ تحریکیں جنہوں نے مسلح تصادم، عدم مفاہمت، اور بندوق کے ذریعے تبدیلی کا راستہ اپنایا، ان کی تاریخ زیادہ تر انتشار، بیرونی مداخلت، اور داخلی انارکی سے بھری ہوئی ہے.
افغانستان میں طویل جنگوں نے نہ صرف لاکھوں جانیں لیں بلکہ سیاسی ادارے تباہ کیے اور سماجی ترقی روک دی۔
ایران میں نسلی تحریکوں کو جب مسلح شکل دی گئی تو انہیں نہ عوامی حمایت ملی، نہ علاقائی خودمختاری۔
مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک، جیسے شام و عراق، جہاں مسلح مزاحمت کو عالمی پراکسی جنگوں کا حصہ بنا دیا گیا، وہاں عوام کی سیاسی آزادی مزید محدود ہوئی۔
یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اگر مزاحمتی تحریکیں جمہوری راستہ ترک کریں تو وہ نہ صرف عوامی بیانیے سے محروم ہو جاتی ہیں بلکہ استحصالی قوتوں کا آلہ بننے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مفاہمتی رجحان
حالیہ برسوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جو مفاہمتی رجحان سامنے آیا ہے، وہ قابلِ توجہ اور تقلید ہے۔ پاک-بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود سفارتی بات چیت کی بحالی، افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ محدود سطح پر رابطے، بنگلہ دیش سے تعلقات کی بحالی کی کوششیں، اور ایران و روس کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون کی جانب پیش رفت یہ سب اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی تنہائی سے نکل کر علاقائی تعاون، سفارت، اور سیاسی شراکت داری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اسی پالیسی کو اب داخلی بحرانوں، بالخصوص بلوچستان جیسے اہم مسئلے پر بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست بین الاقوامی سطح پر سفارتی مکالمے کو ترجیح دیتی ہے، تو بلوچستان میں بھی پہل اسی جذبے کے ساتھ ریاست کو کرنی چاہیے اعتماد بحال کرنا، سیاسی قوتوں کو تسلیم کرنا، اور عوامی شراکت کے دروازے کھولنا ہی مسئلے کے پائیدار حل کی بنیاد ہو سکتی ہے۔
آخری تجزیہ میں نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وفاقی بقاء کا راستہ جمہوری ہے، عسکری نہیں
بلوچستان کا مسئلہ صرف ایک صوبائی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی وجود اور قومی تصور کا امتحان ہے۔ جبر، بندوق، اور بیگانگی کی پالیسی نہ وفاق کو بچا سکتی ہے، نہ قومی وحدت کو۔ اس کے برعکس آئینی مساوات، سیاسی شراکت، معاشی خودمختاری اور باوقار مکالمے پر مبنی جمہوری عمل ہی وہ راستہ ہے جو وفاق کی بقاء، صوبوں کے اعتماد، اور قوموں کے درمیان یکجہتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچ عوام کے ساتھ پہل کرتے ہوئے آئینی، شفاف اور عوامی مکالمہ بحال کرے۔ اسی طرح مسلح مزاحمت کے حامی عناصر کو بھی یہ ادراک کرنا ہوگا اپنے پالیسیوں و حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینے اور نظر ثانی پر غور کرنا چاہیے تاکہ وہ خود کو بیرونی قوتوں کے مفادات کی خاطر استعمال ہونے کے تاثر سے دور رکھ کر جمہوری سیاست کو اپنائے جانے کا محفوظ و باوقار راستہ اختیار کرنے کے لیے مذاکرات کی میز بیٹھنے کے مواقع حاصل کریں ، تاکہ ان کی جدوجہد عوامی و عالمی سطح پر معتبر ہو سکے۔
یہی جمہوریت کا راستہ ہے، یہی وفاق کی بقاء کی ضمانت ہے۔
؎ چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں ہمیں ہے روشنی سے محبت، اندھیروں سے نہیں
Share.

Comments are closed.

Exit mobile version