Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رپورتاژ»پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام "سی پیک کے 10 سال اور پاکستان کی معاشی نمو” کے موضوع پر مباحثے کا اہتمام
    رپورتاژ

    پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام "سی پیک کے 10 سال اور پاکستان کی معاشی نمو” کے موضوع پر مباحثے کا اہتمام

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 16, 2023Updated:جولائی 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read8 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 11 اگست 2023 کو "سی پیک کے 10 سال اور پاکستان کی معاشی نمو” کے موضوع پر گول میز مباحثے کا اہتمام کیا۔ اس مباحثے میں گزشتہ دس سالوں میں سی پیک، سی پیک اقدامات کے ذریعے حاصل ہونے والی اقتصادی اور انفراسٹرکچر کی ترقی، تجارت اور رابطے پر ان کے مضمرات، درپیش چیلنجز اور مزید پیشرفت کے مواقع اور علاقائی اور خطے میں سی پیک کے کردار کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ اس موقع پع سی پیک، معیشت اور پاک چین تعلقات کے ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ڈائریکٹر PIPS محمد عامر رانا نے کہا کہ اس اس ایونٹ کے انعقاد کا مقصد سی پیک پر ہونے والی پیش رفت اور اس سے پاکستان کو پہنچے ہوئے فوائد کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات چیت پاکستان کے لیے سی پیک کو کامیاب بنانے کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے حصول میں نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحمان نے سی پیک کی ابتداء کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا آغاز گوادر پورٹ کی تعمیر سے ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکہ نے "Pivot to Asia” کا آئیڈیا پیش کیا تو شی جن پنگ نے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے اور مسابقت میں شدت کو دیکھتے ہوئے بیلٹ روٹ انیشئیٹیو کا آغاز کیا۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے پیچھے واحد محرک چین ہے اور پاکستان صرف وصول کنندہ کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی سلمان نے اس بات پر زور دیا کہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے قیمت حاصل کرنا پائیدار نہیں ہے۔ سی پیک میں چین کی جانب سے کی گئی ابتدائی سرمایہ کاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 50 بلین ڈالر ہے جو کہ بیلٹ روٹ انیشئیٹیو میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ "محض سی پیک تجارت کو فروغ نہیں دے سکتا۔ چین نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے اور اب سی پیک کو کامیاب بنانے کی باری پاکستان کی ہے۔”

    فریڈرک ایبرٹ سٹفٹنگ کے پروگرام ایڈوائزر ہمایوں خان نے کہا کہ سی پیک صرف صنعتی شعبے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور زرعی شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو اپنے وسائل اور وقت کا زیادہ حصہ صرف قومی سلامتی پر نہیں لگانا چاہیے بلکہ اپنے وسیع جغرافیائی اقتصادی مفادات کو بھی آگے بڑھانا چاہیے۔

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور PFUJ کے سابق صدر شہزادہ ذوالفقار نے اپنے خیالات کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سی پیک کے بارے میں تاثر تبدیل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ چینیوں کو چاہیے کہ وہ سی پیک کو کامیاب بنانے کے لیے بلوچ عوام کی شکایات کا ازالہ کریں۔ "بلوچ علیحدگی پسند چین سے نہیں بلکہ پاکستان سے لڑ رہے ہیں۔”

    سی پیک پر نظر رکھنے والے PIPS کے محققین نے بھی بحث میں حصہ لیا اور اپنی تجزیے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔

    10 Years of CPEC Consultation Pak Institute for Peace Studies PIPS Islamabad
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتحریکِ طالبان پاکستان پولیس کو نشانہ کیوں بناتی ہے؟
    Next Article قانون سازیوں کی یلغار میں۔۔۔
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    پاک انسٹٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) اسلام آباد نے “Pakistan’s Afghan Perspective And Policy Options” کے عنوان سے اپنی رپورٹ کا اجراء کردیا

    جون 21, 2023

    عجائب خانہ ادب: آزربائیجان

    جون 20, 2023

    پاک افغان تعلقات، بدامنی کے معاملات پر ایک مباحثہ

    مئی 8, 2023

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by