کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے چند ماہ قبل حکومت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کو ختم کرنے کے باضابطہ اعلان کے  بعدسیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے فوری اور قابل اطمینان ردعمل کی فوری ضرورت ہے۔گروپ کے ساتھ نمٹنے کے بارے میں کوئی بھی نیا فیصلہ ایک جامع انداز میں کیا جانا چاہئے اور اسے عوامی گفتگو میں لایا جانا چاہئے اور  پھر اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔یہ محض سیکورٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری وسیع تر سیاسی، اسٹریٹجک اور جیو اکنامک ترجیحات کا ایک اہم عنصر ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ حکومت نے ماضی میں کالعدم گروپ کے ساتھ کسی قسم کی باضابطہ بات چیت کا آغاز نہیں کیا۔تاہم، سیکورٹی اداروں اور سویلین حکومت دونوں نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا حالیہ ناکام مرحلہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ شروع کیا تھا۔افغانستان میں افغان طالبان کی فتح کے بعد ٹی ٹی پی کےساتھ مفاہمت کی توقع کی گئی تھی  اوراس بات کا یقین تھا کہ  اس کے کچھ کارکن ہتھیار ڈال دیں گے۔ تاہم وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ اس طرح کے مذاکرات ’حالت جنگ میں بھی ہوتے ہیں‘۔

طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے پاکستان میں جو کچھ ہوا وہ سب کو معلوم ہے، اس لیے فتح کا جشن منانے کے لیے بہت کچھ باقی نہیں بچا ہے، کیونکہ افغانستان کے حالات نے  ابتداء ہی سے پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ٹی ٹی پی  کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں زیادہ تر پر امید بیانات اب بھی لوگوں کی یادداشت میں تازہ ہیں۔جب ٹی ٹی پی نے مئی میں باضابطہ جنگ بندی کا اعلان کیا تو ریاستی اداروں نے ٹی ٹی پی کے کچھ اعلیٰ سطحی رہنماؤں کو رہا کر دیا، جن میں مسلم خان بھی شامل تھے، جنہیں کبھی ٹی ٹی پی کے مہلک سوات گروپ  کا چہرہ سمجھا جاتا تھا۔جرگوں اور دیگر وفود کی تشکیل اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت کے ساتھ ان کے مذاکرات بھی مشہور ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کا فیصلہ عسکری قیادت نے کیا اور پی ٹی آئی حکومت نے اس کی تائید کی۔موجودہ مخلوط حکومت بھی اس کی حمایت میں تھی۔تاہم، دو عوامل نے اس امید کو کم کر دیا ہے۔اول؛  افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی سیاسی اور فوجی حمایت جاری رکھنا تاکہ یہ گروپ پاکستان کے اندر اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔ اور  دوم ؛سوات اور خیبر پختونخواہ کے دیگر اضلاع کے شہریوں کے ٹی ٹی پی مخالف مظاہرے۔سیکورٹی اداروں کے لیے، ٹی ٹی پی کے بارے میں افغان  طالبان کی حکمت عملی قابل فہم تھی کیونکہ دونوں گروپ افغانستان میں شانہ بشانہ لڑتے تھے اور نظریاتی اور قبائلی روابط رکھتے ہیں۔ایک تاثر یہ بھی تھا کہ افغان اور پاکستانی طالبان کے درمیان تعلقات بتدریج کمزور ہوں گے۔کے پی میں دوبارہ منظم ہونے کی ٹی ٹی پی کی کوششوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج، جو بعد میں بلوچستان تک پھیل گیا، بھی حیران کن تھا۔

ریاستی اداروں نے اس تاثر کو زائل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو واپس جانے کی اجازت دینے میں کسی قسم کی ڈیل شامل تھی۔یہاں تک کہ انہوں نے ان ‘مفروضوں’ کی تردید کی کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد واپس آ رہے ہیں۔پھر بھی، ٹی ٹی پی مخالف مظاہروں نے مذاکرات کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ریاستی اداروں نے شہریوں کے مظاہروں کو زیادہ  سنجیدہ اور محتاط انداز میں لیا  کیونکہ وہ اسے  نسلی قومیت کی گہرائی کی علامت کے طور پردیکھ رہے تھے، جو ان کے خیال میں ریاستی ہم آہنگی کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔

ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہ سیکورٹی فورسز کے خلاف مسلسل دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں۔جنوری سے نومبر کے وسط تک، اس گروپ نے سیکورٹی فورسز کے خلاف 70 حملے کیے  جن میں فوجی، نیم فوجی، اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں سمیت 105 افراد جاں بحق ہوئے۔ان حملوں سے عسکریت پسندوں کے خلاف  عوام میں ایک غصہ بھی پیدا ہوا۔ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فورسز نے جوابی حملے کیے ہیں اور ٹی ٹی پی اور گل بہادر گروپ کے درجنوں اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔

جب ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا، تو اس نے اپنے فیصلے کے لیے ضلع لکی مروت سمیت دیگر علاقوں میں  سکیورٹی فورسز کی متحرک کارروائیوں کو ایک وجہ قرار دیا۔اطلاعات کے مطابق،ضلع لکی مروت میں  فوج نے ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کا محاصرہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا، جنہوں نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا اور وہ انہیں افغانستان منتقل کرنا چاہتے تھے۔اسی ضلع میں، ٹی ٹی پی نے نومبر کے وسط میں چھ پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا۔لکی مروت اور بنوں کے اضلاع کے مضافات، جو وزیرستان کے جڑواں اضلاع سے ملحق ہیں، ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کا نیا مرکز بن چکے ہیں۔ان دو اضلاع میں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی موجودگی نے سوات اور قبائلی اضلاع کے لوگوں کے اس شک کو تقویت بخشی کہ دہشت گرد واپس اپنے شہروں کی طرف جا رہے ہیں۔سوات کے مقامی رہنماؤں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سخت سردی کی آمد کے باعث ٹی ٹی پی نے سوات میں اپنی پوزیشنیں ترک کر دی تھیں۔غالباً، وہ صوبے کے شمال مشرق کی طرف چلے گئے۔

پاکستان میں اپنی دراندازیوں کے علاوہ، ٹی ٹی پی مذہبی پس منظر کے حامل مایوس نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ٹی ٹی پی کی واپسی کی اطلاعات نے پورے ملک میں، خاص طور پر کے پی اور بلوچستان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مگر عام لوگ یہ نہیں چاہتے کہ اپنے علاقوں میں عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی توجہ مرکوز کی جائے کیونکہ اس سے ان کے کاروبار میں خلل پڑتا ہے اور مسلسل خوف اور عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی درہم برہم ہوجاتی ہے۔

نئی عسکری  قیادت جب بھی ٹی ٹی پی کے بارے میں مستقبل کے لائحہ عمل کا کوئی فیصلہ کرتی ہے، مثلاً بات چیت یا فوجی کارروائی، یا دونوں ایک ہی وقت میں، تو اسے عام لوگوں کے خدشات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ سرکاری مؤقف پر دوبارہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو ہی معافی دی جائے گی لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ افغان طالبان نے ابھی تک ٹی ٹی پی کی حمایت ترک نہیں کی ہے۔وہ خفیہ طور پر عسکریت پسند گروپ کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے، کیونکہ دونوں کی نظریاتی سوچ اور مقاصد مشترکہ ہیں۔عام طور پر، سیکورٹی ادارے دہشت گردی سے متعلق اندرونی  خطرات کے بارے میں فیصلے کرتے وقت علاقائی اور تزویراتی منظرناموں کی وسیع تصویر کو ذہن میں رکھتے ہیں۔وہ پاکستانی  طالبان کے بارے میں افغان طالبان کے مؤقف کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور وسیع تر جیوسٹریٹیجک اور جیو اکنامک سیاق و سباق میں اپنی حدود پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور مختلف سماجی سطحوں پر بحث و مباحث  بنیادی مقاصد پر سمجھوتہ کیے بغیر وضاحت لانے اور ترجیحات طے کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاستی اداروں کو شہریوں کی نقل و حرکت اور مظاہروں  کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ دہشت گردی اور اندرونی خطرات کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کی  حمایت بہت ضروری ہے۔امن کے حامی مظاہرین کو ہراساں کرنا اور ان کے خلاف مقدمات درج کرنا نقصان دہ ہے اور لوگوں کو یہ یقین دلانے کا باعث بنتا ہے کہ ریاستی ادارے طالبان کو خوش کرنے کے لیے ان کی سلامتی سے سمجھوتہ کر رہے ہیں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version