بھاگم دوڑ ائر پورٹ پہنچے۔ دھڑکا لگا تھا کہ دیر ہو گئی ہے۔ سارے مرحلے پورے کرکے لاؤنج میں پہنچ کر خدا کا شکر ادا کیا کہ وقت پر پہنچ گئے۔ ادھرادھر نظر دوڑائی تودیکھا کہ ایک صاحب بیٹھے خود بخود مسکرا رہے تھے۔ جیسے ہنسی دبائے نہ دب رہی ہو۔ سوچا خوش طبع ہنس مکھ لگتے ہیں۔ ملتے ہیں۔
بات: "آداب۔ بہت خوش نظر آرہے ہیں”
انہوں نے ہمیں نظر اٹھا کر دیکھا۔ پہلے تو زور سے ہنسے اور پھر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ لاحول ولا قوۃ۔ ہمارا اندازہ غلط نکلا۔ ان صاحب سے کیا بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کچھ کہا لیکن فلائٹ کا اعلان ہو رہا تھا، ہم سن نہ سکے۔ واپس مڑے تو ان کی ہنسی کا دورہ ختم ہوچکا تھا۔ لیکن ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ وقفے وقفے سے ہنستے ہو ئے بولے۔
چیت: ” اب آپ ہی بتائیے ۔ ہی۔ ہی۔ ہی۔ یہ کیا بات ہوئی۔ ہی۔ ہی۔ ہی پلین لیٹ ہو گیا ہے، ش۔ ش۔ شی۔ شاید فلائٹ دیر سے روانہ ہوگی۔ بتائیے پلین ہی (he)ہے تو فلائٹ شی(she) کیسے ہو گئی۔ اگر فلائٹ شی ہے تو پلین ہی کیسے ہو گیا۔ ہی۔ ہی۔ ہی۔ شی۔شی۔ شی۔ کیا ہی اور شی مل کر نہیں جا سکتے؟ معاف کیجئے۔ایسی پریشانی میں بندہ ہنسےنہ تو کیا کرے”
بات: "آپ پریشان نہ ہوں، دیر سے سہی ، خیر سے جائیں خیر سے آئیں ۔ یہ تو بتائیں یہ ہی شی کا کیا معاملہ ہے”
چیت: ” جی نہیں، مجھے ہی کہتے ہیں لیکن میں اِٹ(it) ہوں ”
بات: ” صاحب، مذاق تو نہ کریں۔ اٹ کسی کا نام کیسے ہو سکتا ہے”
چیت: ” معاف کیجئے۔ مذاق کی بات نہیں۔ میں واقعی سنجیدگی سے پریشان ہوں۔ در اصل اردو بہت ہی فنی زبان ہے۔ فنی۔ یو نو، لطیفہ ، فنون لطیفہ۔ اردو میں ہی ، شی بہت زیادہ ہے لیکن ِاٹ نہیں ہے۔ اس لئے ش ش شاید آپ کو میری بات سےغلط فہمی ہوئی۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟”
بات:”آپ مسلسل مذاق کئے جارہے ہیں۔ اردو میں اٹ ہے ہی نہیں تو کسی کا نام کیسے ہو سکتا ہے؟” چیت: ” مذاق ہے تو ہنس کیوں نہیں رہے”
بات: ” آپ کی بات سمجھ میں آئے تو ہنسیں۔ بات ہنسنے کی نہ ہو تو کیسے ہنسیں۔ الٹی سیدھی خرافات پہ کون ہنستا ہے؟”
چیت: ” میں لطیفہ سناؤں تو ہنسیں گے ؟”
بات: "آپ لطیفہ سنائیں تو کیوں نہیں ہنسیں گے”۔
چیت: ” تو گویا آپ کو جب تک بتایا نہ جائے کہ یہ لطیفہ ہے آپ ہنستے نہیں”
بات:” ہنسنے ہنسانے والی بات کو ہی لطیفہ کہا جاتا ہے”
چیت: ” جی نہیں لطیفہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربی میں مؤنث بولا جاتا ہے۔ اس کا مطلب نرم و نازک بات ہےہنسنے ہنسانے والی بات نہیں۔ ”
بات: لطیفہ مؤنث نہیں ہے۔ اردو میں لطیفہ مذکر استعمال ہوتا ہے”
چیت: ” کیا مذکر استعمال ہو تو مضحکہ خیز ہو جاتا ہے”
بات: ” ادھر ادھر کی بات نہ کریں۔ مرد عورت بن کر نکلے تو خود سے مذاق کرتا ہے۔ دوسروں کے لئےمضحکہ بن جاتا ہے۔ اسی لئے اسے مخنث کہتے ہیں”۔
چیت: ” آپ کا کہنا ہے کہ لطیفہ مخنث ہے۔ تو سنیے۔ ہوا یوں کہ ملیشیا میں کسی ائر پورٹ پر ایک مخنث لیڈیز واش روم میں چلا گیا۔ لوگوں نے پکڑ لیا ۔ بہت مارا پیٹا کہ نظر نہیں آتا لیڈیز لکھا ہے۔ اس نے کہا میں پہلے جینٹس میں گیا تھا وہاں سے بھگا دیا کہ لیڈیز میں جاؤ۔ وہ پوچھتا ہی رہا کہ میں کہاں جاؤں۔ اب یا تو مخنث کے لئے الگ سے واش روم بنادو یا اسے دونوں میں جانے دو۔ ملیشیا میں مخنث حکومت کے لئے مسئلہ بن گیا ہے۔ اگر تیسری جنس کی اجازت دے دی تو واش روم ہی نہیں۔ شناختی کارڈ، سکول، مسجدیں اور بہت سی جگہوں میں تبدیلیا ں کرنا پڑیں گی۔ بے حد خرچہ ہو گا۔ مفتی صاحب نے فتوی دیا کہ دو ہی جنسوں کی اجازت ہے ۔ مرد کو زنانہ لباس اور عورتوں کومردانہ کپڑے پہننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ فتوی تو ٹھیک تھا۔ لیکن مخنث کا مسئلہ حل نہیں ہوا وہ صرف لطیفوں کا موضوع بن سکا”۔
بات: ” مخنث کا مسئلہ نیا تو نہیں۔ مخنث تو پہلے بھی ہوتے تھے”
چیت۔ ” جی ہاں۔ صحیح فرمایا۔ قدیم زمانے میں بادشاہ حرم کی حفاظت کے لئے جو محافظ رکھتے تھے ان کو مخنث بنا دیتے تھے”۔
بات: "تو مخنث کا لطیفے سے کیا تعلق؟”
چیت: صوفیا کے ہاں لطیفہ نرم و نازک باتوں کو کہتے ہیں ،مولانا روم کی مثنوی میں بہت سی نرم و نازک باتیں لطیفوں میں کہی گئی ہیں۔۔ یہ عقل و حکمت کے اشارے ہیں جو ہنسی مذاق کی کہانی میں چھپے ہوتے ہیں۔
بات: "وہ کیسے؟”
چیت: "مولانا روم مثنوی میں ایک مخنث کی کہانی سناتے ہیں کہ پکڑا گیا تو اس کے پاس سے ایک خنجر نکلا۔ پوچھا یہ خنجر کس لئے؟ کہا میں نے اپنی عصمت کی حفاظت کے لئے رکھا ہے”۔
بات: "اس میں عبرت کی کیا بات ہوئی۔ مخنث کا حفاظت سے کیا لینا دینا”۔
چیت: ” مولانا نے لکھا کہ اس کہانی میں عبرت کی بات یہ ہے کہ بادشاہ جن کو حرم کی حفاظت کے لئے رکھتے تھے وہ دوسروں کی کیا اپنی عصمت کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ خنجر رکھنے کا کیا فائدہ؟”۔
بات: ” اس کہانی میں لطیفہ کیا ہے۔ ہنسنے والی کیا بات ہے؟”
چیت: "سچ کہا۔ پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹ سکتا ہے، مرد ناداں پر نرم ونازک کلام کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ یہ بتا ئیے اگرنرم و نازک بات لطیفہ نہیں تو لطیفے عورتوں ہی کے بارے میں کیوں ہوتے ہیں؟ کیا آپ انہیں لطیف کی بیوی سمجھ کر ہنستے ہیں”۔
بات: ” وہ تو مذاق کی بات ہے۔”
چیت: ” لطیفہ مذاق کی بات نہیں۔ یہ عقل کی بات ہوتی ہےجو لطیفے کی شکل میں سنائی جاتی ہے۔”
بات: ” عقل کی بات ہوتی تو لطیفہ سنانے والے کو مسخرہ نہ کہا جاتا۔”
چیت: ” جناب، مسخرے بادشاہوں کے درباروں میں ہوتے تھے۔ بادشاہت کا دبدبہ رکھنے کے لئے سچ بولنے والوں کی گردن اڑا نی ضروری تھی۔ سچ بولنے کے لئے مسخرے رکھے جاتے تھے کیوں کہ ان کی بات سچی بھی ہو تو اسے مذاق میں ہی لیا جاتا تھا”
بات: "توکیا مسخرے ہنسی مذاق کے لئے نہیں رکھے جاتے تھے”
چیت: "لوگ یہی سمجھتے تھے۔ مسخرے بہروپیے کا روپ بھرتے تھے۔ ان کی بات کودرباری مذاق سمجھتے تھے لیکن بادشاہ کے لئے یہ ڈرامے کا وقفہ ہوتا تھا۔ وقفہ ختم ،ہنسی مذاق ختم”۔
بات: ” آپ کی باتیں واقعی گلاب کے پھولوں کی طرح نرم ہیں لیکن ان کی کاٹ بہت بے رحم ہے۔ آپ کا اسم گرامی لطیفہ تو نہیں۔”
چیت: ” چھوڑیے بھی۔ آپ تو کانٹوں میں گھسیٹنے لگے”۔
فلائٹ کا اعلان ہو رہا تھا۔ ہم ہڑ بڑا کر اٹھے۔ سامان پکڑا اور جہاز کی طرف روانہ ہوگئے۔

