Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ سب اچھا چل رہا ہے؟
    رواں تبصرے

    وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ سب اچھا چل رہا ہے؟

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےستمبر 12, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وزیرِ اعظم صاحب اگر دُرست فرمارہے ہیں اور تمام معاملات بھی دُرست سمت کی جانب گامزن ہیں تو عوام کے چہروں پر پیلاہٹ روز بہ روز کیوں کھنڈتی چلی جارہی ہے؟عوام کے مرجھائے چہرے تو کچھ اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں ؟

    وزیرِ اعظم نواز شریف نے کراچی میںپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ ”دُنیا تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج دس بہترین اسٹاک ایکسچینج میں سے ایک ہے ،صنعتوں کو سوفیصد بجلی و گیس مہیا کی جارہی ہے ،دوہزار اَٹھارہ تک لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا،ملکی ادارے منافع کما رہے ہیں اور اُن کا منافع اَربوں میں ہے ،ملک کے زرِ مبادلہ بلند ترین سطح پر ہیں “وزیرِ اعظم کے خطاب سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ واقعی ملک میں اندھیرے ختم ہو چکے ہیں ،زرِمبادلہ بلند ترین سطح پر ہے ،اسٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین اسٹاک ایکسچینج بن چکی اور بجلی و گیس کی دستیابی سے انڈسٹری مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے اوریوں ترقی کا پہیہ چل پڑا ہے ۔مگر اُن کے خطاب اور زمینی حقائق میں بہت زیادہ بُعد ہے۔لوڈشیڈنگ کا سلسلہ پورے ملک میں جاری ہے ۔چھوٹے شہروں میں تو اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ ہر بیس منٹ بعد بجلی غائب ہوجاتی ہے اور پھر کئی گھٹنے غائب ہی رہتی ہے۔غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ نے کاروبارِ زندگی کو درہم برہم کر رکھا ہے ۔حتیٰ کہ لاہور جیسا شہر بھی بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہے۔اگر لوڈشیڈنگ پر دوہزار اَٹھارہ پر قابوپالیا جائے گا تو اس کے معمولی اثرات تو اس وقت نظر آنے چاہئیں۔حکمرانوں کے مطابق اگر لوڈشیڈنگ بہت کم یا نہیں ہورہی تو عید پر اس طرح کے بیانات کیوں دیے جاتے ہیں کہ عید کے تینوں دن لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی؟حالانکہ اعلان کے باوجود لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔

    وزیرِ اعظم صاحب اگر دُرست فرمارہے ہیں اور تمام معاملات بھی دُرست سمت کی جانب گامزن ہیں تو عوام کے چہروں پر پیلاہٹ روز بہ روز کیوں کھنڈتی چلی جارہی ہے؟عوام کے مرجھائے چہرے تو کچھ اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں ؟اور اُن صنعتوں کا وجود کہاں پر ہے جنہیں سوفیصد گیس و بجلی بلاتعطل مہیا کی جارہی ہے؟اگر یہ حقیقت ہے تو بہت ساری صنعتیں جو بند ہوگئی تھیں ،اب دوبارہ کیوں نہیں چل پارہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو عوام کو بے وقوف بنانا آتا ہے ۔گذشہ دنوں بہ یک وقت تین سیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی ریلیوں اور جلسے و جلوسوں کا اہتمام کیا گیا،جس میں لوگوں کی ایک معقول تعداد نے شرکت کی۔اسی طرح عید کے بعد رائے ونڈ کی اُور مارچ کا اعلان بھی ٹھہر چکا ہے ،صاف ظاہر ہے عوام سڑکوں پر رُلیں گے ،حکمران تبدیلیوں کی باتیں کریں گے مگر مرجھائے چہرے نہیں کھل سکیں گے۔ وزیراعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ سب بہت اچھا چل رہا ہے۔کیا واقعی سب اچھا چل رہا ہے؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکیا قائد اعظم سیکولر تھے؟
    Next Article پاکستانی تجارتی گاڑیوں کی افغانستان سے گذرنے پر پابندی کیوں؟
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by