Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»بے بسی کی تصویریں
    رواں تبصرے

    بے بسی کی تصویریں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 20, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اطلاعات کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اب تک اب ملک کے 103 اضلاع میں دس لاکھ سے زائد افراد متأثر ہوئے ہیں۔ دیہی علاقوں کی صورتحال زیادہ ابتر ہے۔ وہاں سے آنے والی کئی تصاویر اور ویڈیوز میں انسانی لاشوں اور جانوروں کو ڈوبتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اب تک چھ افراد بارشوں اور سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں۔

    یہ درست ہے کہ رواں سال کا مون سون غیرمعمولی حد تک طویل اور تباہ کن رہا ہے، لیکن یہ سلسلہ تقریبا ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے جس کا دائرہ آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔ اس دوران مون سون کے نئے سلسلوں اور خطرات کی پیش گوئی تو کی جاتی رہی لیکن نقصان کی شرح کم کرنے کے لیے ساتھ ساتھ ضروری اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ ان پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومتی رہنماؤں نے اس مسئلے کو کتنی اہمیت دی۔ اپوزیشن جس نے اپنی جماعت کے ذاتی امور پر ایک تہلکہ مچا رکھا ہے اگر وہ اس مسئلے کے حوالے سے حکومت پر تھوڑا بہت دباؤ بھی ڈال دیتی تو یقینا اس سے فرق پڑتا اور دوردراز کے علاقوں میں امداد کے منتظر بے بس لوگوں کا بھلا ہوجاتا۔ صوبائی حکومتیں کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں بناسکیں اور متعلقہ انتظامی ادارے ناکام ہیں۔ بہت سے ایسے حصے ہیں جہاں امدادی ٹیمیں نہیں پہنچیں اور لوگ بے بسی کی حالت میں ہیں۔

    تحصیل تونسہ کی تاریخ کا بدترین سیلابی ریلا قصبوں اور دیہاتوں میں داخل ہوا ہے اور تباہی پھیلا رہا ہے۔ بلوچستان کے دیہاتی حصوں اور جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع میں اونچے درجےخ کا سیلاب ہے۔ لوگوں کے پاس خوردونوش کی اشیاء دستیاب نہیں ہیں۔ مگر کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاستدان کچھ وقت کے لیے سیاسی محاذآرائی کو موقوف کرسکتے ہیں تاکہ ایمرجنسی بنیادوں پر متأثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کی جاسکے؟

    بارشیں سیلاب مون سون
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسوات: توروالی اور گاؤری کے علاقوں میں جنگلات کے بندوبست اور مالکانہ حقوق پر ابہام
    Next Article سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by