Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»دہشت گرد عناصر کی واپسی ایک سوالیہ نشان
    رواں تبصرے

    دہشت گرد عناصر کی واپسی ایک سوالیہ نشان

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 12, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پچھلے چند دنوں سے میڈیا میں سوات، دِیر اور وزیرستان کے علاقوں میں ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے ارکان کی واپسی کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان عناصر کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بھی اس پر بات کی گئی اور کچھ ممبران نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل تحریک انصاف کے رکن اسمبلی پر حملہ اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

    ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات چیت کی پچھلی چند ماہ کی پیش رفت کے بعد دہشت گرد عناصر کا اس طرح سے ایک بار پھر ظہور اور آزادانہ نقل و حرکت زیادہ حیران کن نہیں ہے، کیونکہ ایسے تجربات پہلے بھی کیے جاچکے ہیں جن کے نتائج مختلف نہیں تھے۔ اگرچہ حکومتی ذمہ داران نے ٹی ٹی پی ارکان کو افغانستان سے واپسی کی اجازت دینے کی خبروں کی تردید کی ہے، تو ایسے میں ان کا مسلح انداز میں علاقوں میں نظر آنا اور بھی تشویشناک ہے۔ البتہ ایسی خبروں کے بعد متأثرہ علاقوں میں عام لوگوں کا باہر نکل کر احتجاج بتاتا ہے کہ وہ اس کے لیے بالکل تیار نہیں اور ریاستی پالیسی سے ناخوش ہیں۔

    قبائلی سرحدی علاقوں سے پاکستانی افواج کے آپریشنز کے بعد ان علاقوں میں کافی حد تک امن کا ماحول بن گیا تھا۔ پچھلے سال سے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد بلاشبہ پاکستان کے لیے صورتحال پیچیدہ بن گئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کا نقطہ نظر کمزور ہے۔ بجائے اس کے کہ ہر چند سال بعد اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے بعد دوبارہ ازسرنو سفر وہیں سے سفر شروع کرنے سے صرف ان عناصر کو تقویت ملتی ہے اور پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

    پاکستانی علاقوں میں ٹی ٹی پی عناصر کی موجودگی کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ دیگر دہشت گرد اور جرائم پیشہ تنظیمیں بھی ملک میں دوبارہ منظم اور فعال ہوں گی۔ لہذا ضروری ہے کہ کسی بھی ملک دشمن عنصر کے ساتھ نرمی نہ برتی جائے اور قبائلی علاقوں میں ایک بار پھر پہلے والے حالات پیدا نہ ہونے دیے جائیں۔

    ٹی ٹی پی سوات طالبان قبائلی علاقہ جات وزیرستان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاقلیتیں ایک ایسی اکثریت کے ساتھ رہتی ہیں جو احساسِ برتری کے جذبات رکھتی ہے
    Next Article پاکستان آزادی کے بعد ایک فلاحی ریاست کیوں نہیں بن سکا؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by