Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ان کو تحفظ دیے بغیر امن کیسے قائم ہوگا؟
    رواں تبصرے

    ان کو تحفظ دیے بغیر امن کیسے قائم ہوگا؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 20, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقے حیدرخیل میں چار نامعلوم افراد نے چار نوجوانوں کو قتل کردیا۔ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے یہ تعلیم یافتہ نوجوانوں علاقے میں امن کی کوششوں کے لیے جانے جاتے تھے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی علاقے میں ٹاگٹ کلنگ کے دیگر واقعات میں مزید چار لوگوں کی اموات کی خبریں بھی میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہیں۔

    ملک میں امن و امان کے لیے بھاری قیمت چکانے والے قبائلی جب وزیرستان میں آپریشن کے بعد جب لوگ گھروں کو واپس جانے لگے تھے تو انہیں امید تھی کہ اب یہاں امن و امان کے مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ لیکن ان کے لیے اب تک صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوسکی۔  بالخصوص افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ چل رہا ہے، اس کے باوجود بھی وہاں ٹارگٹ کلنگ کا رجحان ایک سوالیہ نشان ہے کہ سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کو کیسے قابو کیا جائے گا۔

    پہلے ہی شدت پسندانہ واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں قبائلی اضلاع کے تعلیم یافتہ اور مڈل کلاس طبقات میں علاقے کو چھوڑنے کا رجحان ہے جس کا فائدہ صرف عسکریت پسندوں کو ہوتا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان جو وہاں رضاکارانہ طور پہ امن وامان کے قیام اور شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت فعال ہیں انہیں تحفظ ملنا ضروری ہے۔ ریاست اس طرح کے نوجوانوں اور سماجی سطح پر فعال صحت مند سوچ کے داعی شہریوں کے بغیر امن قائم نہیں کرسکتی۔ ایسے نوجوان وزیرستان جیسے شدید بدامنی کا شکار علاقے کے لیے اور خود ریاست کے لیے غنیمت ہیں۔

    قبائلی علاقہ جات میں امن و امان کے قیام کے لیے ریاست کسی ایک پالیسی پر عمل پیرا نہیں رہی، جس کا نتیجے میں سکیورٹی کا مسئلہ بے قابو ہے اور لوگوں میں ریاست سے متعلق بدگمانیاں پیدا ہو رہی ہیں جس کا درست فیصلوں اور مؤثر اقدامت کی شکل میں ازالہ کیا جانا چاہیے۔

    ٹارگٹ کلنگ قبائلی علاقہ جات نوجوان وزیرستان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمصنوعی ذہانت کے عہد میں بنی نوع انسان
    Next Article معتبر شاعرہ منصورہ احمد کی متنازعہ شخصیت
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by