Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»نفرت انگیز تقریر کے سدِباب کا عالمی دن، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    رواں تبصرے

    نفرت انگیز تقریر کے سدِباب کا عالمی دن، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 18, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج 18 جُون منافرت پر مبنی تقاریر (Hate speech ) کے انسداد کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں اس دن کو اسی مناسبت سے منایا جانا شروع کیا گیا ہے تاکہ سماج میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر نفرت کو فروغ دینے کی کوششوں کے حوالے سے آگہی پیدا کی جائے اور اس عمل کو ایک ایسی برائی کے طور پہ سمجھا جاسکے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

    نفرت انگیز تقاریر تشدد کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہیں، تنوع کی اہمیت اور خوبصورتی کو ختم کرتی اور انسانوں کے مابین ہم آہنگی و رواداری کی اقدار کو گہناتی ہیں۔

    نفرت انگیر تقاریر ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جس کا سامنا پوری دنیا کے ممالک اور اقوام کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ انسانوں کے مابین رسائی اور روابط کی ظاہری خلیج کم ہوئی ہے، لیکن اسی رفتار سے ایک دوسرے کے لیے عدم برداشت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی لیے نفرت انگیز تقریر کو جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں نفرت انگیز تقریر ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو وسیع پیمانے پر تشدد اور تنازعات کو جنم دے رہا ہے۔ اس کے باوجود مسئلے کی حساسیت کے مطابق کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ مبہم قوانین اور انتظامی پس و پیش منافرت کو ہوا دنے والے عناصر کو مزید ڈھیل اور بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بطور ریاست و سماج ہمیں کتنی فکر ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

    نفرت انگیز تقریر کی کوئی بین الاقوامی متفقہ تعریف موجود نہیں ہے۔ البتہ تمام ممالک اپنے حالات و مسائل کے اعتبار سے اس پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے اور قوانین وضع کرتے ہیں۔ پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کی کئی جہتیں ہیں جن میں زیادہ سنجیدہ مذہبی ومسلکی منافرت پر مبنی تقاریر ہیں جن کے سدباب کے لیے ریاست کو باقاعدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    ریاست کو چاہیے کہ وہ ایک خصوصی نظام وضع کرے جس کے تحت ہر قسم کی انگیز تقریر کا قوانین، تعلیم اور ذرائع ابلاغ سمیت دیگر وسائل کے توسط سے بخوبی سدباب کیا جاسکے۔

    عالمی دن نفرت انگیز تقریر
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہمارے ادب کا ارتقا اور آج کا تہذیبی بحران
    Next Article مصنوعی ذہانت کے عہد میں بنی نوع انسان
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by