مغربی مفکرین اسلام کی ان تشریحات میں دلچسپی رکھتے تھے جو شمالی افریقہ اور خلافت ِ عثمانیہ سے اٹھ رہی تھیں . ‘‘سلفی’’ اور ‘‘سلفیہ’’ کی اصطلاح بنیادی طور پر جدید حنبلی مکتب فکر کی تشریحات سے جوڑی جاتی ہے.
اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی فکری، مذہبی اور تعلیمی تحریکوں نے مسلم معاشروں کی جس طرح تشکیل کی اسی کی جھلک آج کی مسلم دنیا میں نظر آتی ہے ۔ نو آبادیاتی نظام اور مغرب کے عروج نے مسلم معاشروں میں اندرونی تبدیلی کے عمل کو متحرک کیا جس کے سیاسی نظام کی تشکیل ِ نو،محدود مغربیت اور داخلی جانکاری سے لے کرتصوف و سماجی اصلاحات تک بہت سے اظہارات سامنے آئے ۔
مذہب کی تشکیل ِ نو اور جدت پسندی سے کے عمل سے نہ صرف نئے مسلم معاشرے تشکیل پا رہے تھے بلکہ ان کی فکری اظہارات بھی سامنے آرہے تھے ۔مختلف مسلم معاشروں میں فکری عمل تقریبا ًایک ہی طرح کےایسے مخصوص رجحانات پیدا کر رہاتھا جن کی درست تفہیم مغربی سکالرز اور حتیٰ کہ مسلم سکالرز کے لیے بھی مشکل تھی تاہم برصغیر میں فکری تبدیلی کا عمل بڑی حد تک اپنی فطرت میں تعلیمی تھا اور نوآبادیاتی حکمرانوں کے لئے زیادہ پریشان کن نہیں تھا. شہروں،علاقوں اور اداروں کے نام سے منسوب بہت سی تعلیمی تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں جیسا کہ دیوبند،علیگڑھ اور بریلی وغیرہ ۔ مغربی مفکرین اسلام کی ان تشریحات میں دلچسپی رکھتے تھے جو شمالی افریقہ اور خلافت ِ عثمانیہ سے اٹھ رہی تھیں . ‘‘سلفی’’ اور ‘‘سلفیہ’’ کی اصطلاح بنیادی طور پر جدید حنبلی مکتب فکر کی تشریحات سے جوڑی جاتی ہے۔.
مشرقی علوم پر دسترس رکھنے والے فرانسیسی مفکر لوئس مسیگننLouis Massignon جو کہ اصلاح پسند تحریکوں کا مطالعہ کر رہے تھے وہ سلفی یا سلفیہ کی اصطلاح کا تعلق ایک مربوط اصلاحی تحریک سے گردانتے ہیں۔مسگنن کا یہ تصور بڑی تیزی سے مغربی اور مسلمان علماء کے درمیان مقبول ہو گیا۔تاہم سلفیت کی یہ اصطلاح جسے زیادہ پرکھا نہیں گیا تا حال ابہام میں گھری ہوئی ہے۔ ہنری لاؤزیئر Henri Lauzière جو کہ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں نے اپنی بلند پایہ تحقیقی کتاب ‘‘سلفیت کا احیا : بیسویں صدی میں اسلامی اصلاحات ’’ The Making of Salafism: Islamic Reform in the 20th Century میں اس مسئلہ کو حل کر دیا ہے۔
سلفیت کی بنیاد کیسے پڑی؟ اس کی کھوج لگانا اور سمجھنا کوئی آسان کام نہیں تھا،اس مقصد کے لیے لاؤزیئر نے خاص طور پر مراکشی سلفی اور جہاں گرد محمد تقی الدین الہلالی جو کہ تیجانی سلسلہ کے ایک قدیم صوفی تھے کے فکری سفر کی پیروی کی۔لاوزیئر کے مطابق الہلالی نے 1921ء میں سلفیت کا بیڑہ اٹھایاور بعد میں اسے یہ (سلفیت) نام دیا،پھر ساری زندگی تین براعظموں میں پڑھنے،پڑھانے اور اسلام کے بنیادی مآخذ کا دفاع کرنے کےمشن پر لگادی۔
بات خاص طور پر دلچسپ ہے کہ قاہرہ سے عبدالفتاح القطلان کی زیر ادارت شائع ہونے والے ایک علمی اسلامی مجلہ ‘‘المجلۃالسلفیۃ’’نے لفظ ‘‘سلفیہ’’ کو بیرون ممالک میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔المجلۃ السلفیۃ میں سلفیت کا تصور زیادہ تر دینی تناظر پر محیط ہوتا۔لاوزیئر نے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ اس مجلے کا پہلا شمارہ ریوئی دو موندے موسلمانRevue du Monde Musulman جو کہ فرانس میں اسلام کے سکالر تھے کے دفتر میں پیرس پہنچا مسگنن اس کے اہم لکھاری تھے ۔مسگنن کو سمجھنے میں غلطی ہوئی کہ سلفیت ایک مثبت فکری تحریک ہے۔ بعد ازاں عرب سماجی دانشور اور صحافی اس غلط بیانی کے ابلاغ کا وسیلہ ثابت ہوئے ۔ اگرچہ مسگنن نے سلفیوں کو اسلامی جدت پسندوں کا لیبل دینے میں قائدانہ کردا ادا کیا تاہم اس تعریف نے ان مغربی سکالرز کو مفید سیاق فراہم کیا جو کہ اس تصوراتی خانے کی تلاش میں تھے جس میں جمال الدین افغانی،محمد عبدہ اور ان جیسی شخصیات کو جگہ دے سکیں ،جو کہ سب کی سب اسلام کی مقدس تفہیم کی طرف مائل تھیں لیکن وہ عقلیت پسند اور جدید مغربیت کے حامی ثابت ہوئے ۔
لو زیر کا کردار اہم ہے کیونکہ جیسے پہلے بتایا گیا ہے کہ سلفیت کی اصطلاح میں کنفیوژن تھی جسے مسلم سکالرز نے دو متضاد سمتیں قرار دیا ۔ان میں سے کچھ نے سلفیت کو ایک جدید اور عقلیت کی تحریک قرار دیا جبکہ کچھ اسے عقلیت کے خلاف کہنے لگے۔ سلفیت کے نقطہ نظر کو ایک خالص ا رتقاء کے طور پردیکھا جانا بلاشبہ نوآبادیات سے دستبرداری کا نتیجہ ہے
لوزیر نے یہ نوٹ کیا کہ قرون وسطیٰ سے لے کر بیسوی صدی کے آغازتک مسلم علماء اور فعالیت پسندوں نے اپنی حرکات کو خود تک محدود رکھا اور دوسروں کے لیے سلفی بنے رہے تاکہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر سکیں کہ وہ اپنے حنبلی امام ابن تیمیہ اور اس روایت کے دیگر علمائے کلام کی الہیات کے تابع ہیں۔ بیسوی صدی کی جدید اسلامی اصلاحی تحریکوں کو سلفیت کا نام ان کی اصلاح پسندی کی وجہ سے دیا گیا ۔ لوزیر نے بھی مختلف سلفی روایات کی جڑوں کی تحقیق کی، جس میں جدید حنبلی فکر پر قائم رہتے ہوئے اعتقادی پاکیزگی اور کردار پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔
بعد میں بیسویں صدی کی اصلاح پسند تحریکوں نے کلیسائی نقطہ نظر سلفیہ سے جدید حنبلیوں سمیت دوسرے مسلمانوں کو متحرک کیا اور سلفیت کو نئی ابھرتی ہوئی مسلم قومیت کے تصورات کے ساتھ ہم آہنگ بنا یا۔ دونوں رجحانات نے تز کیہ کی ڈور سے ایک دوسرے کی آبیاری کی۔یہ رجحان مراکش میں پروان چڑھا اور محمد علال الفاسی جیسی شخصیات کی وجہ سے نمایاں ہوا۔
لاوزیئر کی جانب سے سلفیت کی اصطلاح کی تشخیص ایک قابل ستائش کاوش ہے،اس سے نہ صرف اس سے متعلقہ ابہامات دور ہوتے ہیں بلکہ اس سے عصر حاضر میں کئی اسلامی نظریات کی ساخت کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ بیسویں صدی سے قبل روایتی اسلامی علوم کی عمومی لغات میں ‘‘سلفیت’’ شامل نہیں تھی،انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جب نوآبادیات کا دور شروع ہوا تو مقامی اور غیر مقامی لوگوں میں وسیع پیمانے پر ادغام ہوا، لہذا اسلام کے بار ے میں سوچنے کے انداز بھی کچھ دیسی اور کچھ بدیسی ہو گئے،جو اس بات کا پتا دیتا ہے کہ خالص سلفیت کےتصور کی ابتدا مذہبی سمجھوتے کے مکمل استرداد سے نہیں ہوتی ۔
تزکیہ کا عمل 1920 سے 1950 کے عرصہ کے درمیان ہوا،بنیادی طور پر اس کا مقصد سیاسی تلافی اور نوآبادیاتی طاقتوں سے سیاسی آزادی کے حصول کے امکانات میں اضافہ کرنا تھا۔لاوزیئر وضاحت کرتے ہیں کہ اس عمل سے کیسے سلفی اور سلفیت کا معنی علم الہیات کے دائرہ کار سے باہر پھیلا اور اس نے مختلف علاقوں اور ثقافتی پس منظر کے حامل مسلمانوں کے اسلامی تزکئے کے عمومی معیار کو مضبوط بنانے اور متحد کرنے کی امیدپر سلفیت کا پختہ تصور تشکیل دیا۔
لاوزیئر نے سلفیت کے پیروکاروں کو درپیش نئے چیلنجز کے بارے میں بھی بات کی ہے۔شدت پسندی کے تاثرات کے علاوہ خالص سلفیوں اور اعتدال پسند سلفیوں کے بارے میں سب سے اہم سوال ان کے سیاسی عمل میں شریک ہونے سے متعلق ہے۔لاوزیئر نے چند سوالوں کی فہرست تیار کی ہے جو ان کے مطابق اس وقت کی سلفی فکر پر چھائے ہوئے ہیں:
کیا انہیں مزید تقسیم کے خطرات کے باوجود سیاسی جماعتیں تشکیل دینی چاہییں؟
کیا انہیں جمہوریت کی حمایت میں الیکشن میں حصہ لینا چاہئے ؟
کیا وہ سماجی اور سیاسی عدم استحکام کی حوصلہ افزائی کے خطرے کے باوجود سڑکوں پر آ جائیں؟
وہ دلیل دیتے ہیں کہ: اکثر اوقات یہ سوالات سلفی منہج کے دائرے کے تحت آتے ہیں۔کیونکہ وہ زیادہ باریکی سے دیکھا جائے تو نہ تو وہ راسخ العقیدہ ہونے سے متعلق ہیں نہ ہی راست العقید ہونے سے متعلق ہے ۔اسی وجہ سے مخصوص حالات کے تحت سلفی مختلف جوابات دیتے ہیں جس کا انحصار ان کےمنھج (طریقہ کار) کی تفہیم پر ہوتا ہے۔
اس کتاب کا ایک اہم باب رشید رضا کے وہابیوں کے ساتھ تعلق اور اس کے نتائج سے بحث کرتا ہے۔شامی نژاد عالم دین رضا نے جدید مغربی دنیا کے دباؤ پر ایک فکری جواب تیار کیا تھا ،جس میں عبدالعزیز بن آل سعود کی غیر مشروط حمایت کی پیشکش کی تھی۔عثمانی سلطنت کے سقوط،فیصل بن حسین بن علی 1920 میں عرب سلطنت کے قیام میں ناکامی،عراق ور گریٹر شام کے بڑی طاقتوں کو نقصان،ترکی میں سیکولر کمال ازم کی فتح اور 1924 میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ نے مسلم سیاسی،مذہبی اور فکری قیادت کے لیے بہت بڑے چیلنجز پیدا کر دیے تھے۔رضا کا ابتدائی ردعمل کسی ایک گروپ یا کسی ایک خاص فرقے کی حمایت نہیں کرتا تھا کہ ان کے خیال میں تعصب اور فرقہ پرستی پہلے سے ہی نازک اسلامی معاشرے کو صرف کمزور ہی کر سکتا تھا۔
بعد کے حالات کی وجہ بالآخر رضا کو سعودیوں کی مکمل حمایت کرنا پڑی جس کے نتیجہ میں مارچ 1924 میں مصطفی کمال کے خلافت کے خاتمے کے محض دو دن بعد شریف حسین نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔اس واقعہ نے رضا کی نظر میں حسین کے تکبر پرمہر ثبت کر دی جس کے لیے یہ جرم ایک خاص اہمیت رکھتا تھا۔رضا کے چیلنجز دوگنا ہو گئے تھے، پہلا یہ کہ اپنے تصور خلافت کے مطابق نئی ریاست کو تشکیل دے،اور دوسرا یہ کہ وہابی فکر کو ذی عمل بنایا جائے۔رضا نے وضاحت کی کہ اگرچہ وہابی عقیدے کے اعتبار سے سلفی ہی تھے، انہوں نے اکثرو بیشتر جدید سائنس کی اہمیت کو نظرانداز کیا اور جدید افکار کی مخالفت کی۔ بہر حال وہ سعودی مذہبی پیشواؤں کو تبدیل کرنے میں ناکام رہےجو کہ مذہبی استدلال،رواداری اور مذہبی غلطیوں پر اس کے نئے افکار کے لیے بہت اہم تھا۔لاوزیئر کی سلفیت پر تحقیق قابل ستائش ہے اور نوجوان مسلم علماء کے لیے ایک مثال ہے کہ کیسے فکری سوالات کی کھوج لگائی جائے۔اسلامی تحریکوں کی حرکیات کی تلاش کے لیے ان کا سفر تاحال جاری ہے۔وہ علما کے عقل کے استعمال تک سلفیت کو ایک مفید زمرے میں شمار کرتے ہیں۔
