روایت ہے کہ محمد بن قاسم کی فوج دیبل کی فتح کے بعد تھکی ہاری اندرون سندھ سفر کر رہی تھی ۔ پیاس کے مارے برا حال تھا کہ ایک درخت کے کے نیچے ایک بزرگ اونگھتے نظر آئے۔ محمد بن قاسم نے آگے بڑھ کر ان سے پانی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے اپنے پیچھے مٹکوں کی طرف اشارہ کیا۔

کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر آئی لو یو اسلام آباد کی محفل سجی ہے ۔ لوگ جوق در جوق اسلام آباد کے حسن کی تصاویر بانٹ رہے ہیں۔ یہ شہر اتنا حسین ہے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ یہ ویلنٹائن  کے اثر کی باقیات ہیں یا سی ڈی اے کی جادو گری۔ بہت دیر سوچا تو یاد آیا کہ اسلام میں باد نو بہار کا موسم ہے۔ فیض نے اس نادر موسم کا ذکر  گلوں میں رنگ بھری غزل کے مطلع میں کیا ہے۔  اس شہر میں فروری بہار کے بچپن اور مارچ عنفوان شباب کے مہینے ہیں۔ بہار کا دمکتا بدن اپریل کی بوندا باندی میں بھیگتا ہے تو اس کی بے قرار خوشبو مئی میں باد نو بہار میں بدل جاتی ہے۔ باد نو بہار مئی کی خوشبو بھری گرم ہوا ہے جورنگ بھرے گُلوں کے جلو میں اسلام آباد چلے آنے کی دعوت دیتی ہے۔

مصر میں شام النسیم بھی اسی طرح کا موسم ہے جو اپریل میں بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے۔ قاہرہ کے لوگ سب کام چھوڑ کر اس موسم کے مخصوص وایتی کھانے اور مشروب سے شام النسیم مناتے ہیں۔ یہ  خوشبو کے شکرانے کا تیوہار ہے جو قدیم زمنے سے منایا جاتا ہے۔ اسروز ایسی خوشبووں کی بھی تکریم  کی جاتی ہے جنہیں بدبو دار سمجھا جاتا ہے۔ ان میں فسیخ ایک بدبو دار مچھلی  بھی دستر خوان کی زینت ہوتی ہے۔ خوشبو میں بدبو کی یاد رنگ میں بھنگ لگتی ہے لیکن  یہ روایت شام النسیم کی خاص بات ہے۔

خدشات

اسلام آباد میں باد نو بہارکی خوشبو سے  شہر میں چھائی مدہوشی کو بعض لوگ  بھنگ کا اثر سمجھتے ہیں۔ رنگ میں بھنگ کا یہ خدشہ اس لئے جنم لیتا ہے کہ اس مہینے میں اسلام آباد میں بھنگ  کا حسن بے پروا جوبن پر ہوتا ہے۔ ہر طرف بھنگ ہی بھنگ نظر آتی ہے۔ ہوا میں بھنگ، سانس میں بھنگ۔ جانے انجانے ہر کوئی بھنگ کا نام لے رہا ہوتا ہے۔  کسی کو عدالتوں سے شکایت ہے کہ بھنگ پی کر سوئی ہیں،  کوئی حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ ملک حالت جنگ میں اور سرکارایام بھنگ میں ، پولیس کو ڈرائیوروں  پر غصہ ہے کہ بھنگ پی کر گاڑی چلا رہے ہیں۔ ڈرائیور کو ٹریفک وارڈن پرغصہ  کہ بھنگ کے نشے میں اشارے لمبے کئے جارہے ہین۔ پنجاب کے وزیر قانون کو مخالفین سے شکایت ہے کہ پانامہ تحقیقات کے رنگ میں بھنگ ڈال رہے ہیں۔ سلامتی کے اداروں کو سوشل میڈیا سے شکایت ہے کہ وہ بھنگ پی کر بے حجاب ہو رہے ہیں۔ حالیہ واقعات سےان خدشات کی تائید بھی ہوتی ہے۔

واقعات

۱۲ مئی ۲۰۱۷ کو  دہشت گردی کی عدالت نے سکندر کو سولہ سال قید کی سزا دی۔ یاد رہے  کہ چارسال پہلےسکندر اور اس کی بیوی نے اسلام آباد میں جناح ایونیو پر اسلحہ لہراتے ہوے پانچ گھنٹے تک شہر  کی پولیس کو یرغمال بنائے رکھا تھا۔ سوشل میڈیا میں ۱۹ اگست  ۲۰۱۳ کو سکندر کے بارے میں  جو خبر چھپی اس میں اس بات کا ذکر تھا کہ سکندر نے بھنگ پی رکھی تھی۔ اسی لئے اس کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ لیکن اخبارات میں بھنگ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

۲۸ اپریل  ۲۰۱۶ کو میر پور خاص کے ایک معروف قانون دان نے حکومت سے درخواست کی کہ پاکستان میں بھنگ شاپس کھولی جائیں۔ ایکسائز ڈیوٹی سے اتنی آمدنی ہوگی کہ آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ درخواست گذار نے یہ الزام  بھی لگا یا کہ سندھ میں بھنگ شاپس ۱۹۷۷ تک عام تھیں لیکن ضیاءالحق کے زمانے میں ہیروئن کا کاروبار عام کرنے کے لئے یہ شاپس بند کر وائی گئیں۔ انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ سندھ میں بھنگ کی کاشت پر پابندی ہے لیکن اسلام آباد میں عام ہے۔ حتی کہ اس شہر کی ہوا میں سانس لینے سے نشہ ہونے لگتا ہے۔ درخواست گذار نے بہت سے ایسے  دلائل بھی دئے جن کا ان کی درخواست سے یا قانون سے براہ راست تعلق نہیں تھا لیکن ان سے  یہ خدشہ ہے کہ اس قسم کی شکایتوں کے پیچھے را کا ہاتھ ہے۔  بھارت پاکستان کے رنگ میں بھنگ ڈالنے سے باز نہیں آتا۔

درخواست گذار نے  علانیہ کہا کہ بھنگ ہر مرض کا علاج ہے۔ اپنا ذکر کرتے ہوے بیان کیا کہ بھنگ کے استعمال کی وجہ سے وہ عمر بھر کسی بیماری کا شکار نہیں ہوے۔ اس نے تسلیم کیا کہ ہندو دھرم میں بھنگ کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ دیوی دیوتا یہی مشروب پیتے ہیں۔ برہمن شراب نہیں پیتے صرف بھنگ پیتے ہیں۔ درخواست گذار جیسا ماہر قانون بھی بھنگ کی شان میں جس انداز سے رطب اللسان ہے وہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ثقافتی یلغار کا پتا دیتا ہے۔ عدالت نے یہ درخواست بوجوہ تکنیکی بنیادوں پر مسترد کردی۔ عدالت نے ان مابین السطور اسباب اور اندیشوں کا جان بوجھ کر نوٹس نہیں لیا مبادا دشمن چوکنا ہو جائے ۔

سوشل میڈیا کی ویب سائٹ دلیل پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ۲۰۱۴ میں ۴۲ لاکھ پاکستانی نشے کا شکار تھے۔ان میں سے بیس لاکھ ہیروئن اور باقی بھنگ کی قسم کے نشے میں مبتلا پائے گئے۔ بھنگ کا استعمال کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد پختونخوا میں اور دوسرے نمبر پر سندھ میں ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ کسی بھی رپورٹ میں بھارت کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں آتا۔

بھنگ دنیا میں  کئی ناموں سے جانی جاتی ہے جو اس کے مختلف طریقوں سے تیار کئے گئے ڈرگ کے نام ہیں۔ بھنگ کا پودا کٹیلے پتوں والا پودا ہے جس کے پھولوں، پتوں اور گوند سے مختلف ڈرگ تیار کئے جاتے ہیں، ہرے پتوں کو گھوٹ کر جو مشروب تیار ہوتا ہے اسے بھانگ کہتے ہیں، اس مشروب میں دودھ ملا لیں تو لسی کہلاتی ہے۔ بادام وغیرہ ملائیں تو سردائی۔ پتوں کو پکوڑوں اور بسکٹ اور مٹھائیوں میں بھی ملا دیا جاتا ہے۔ تیار شدہ ڈرگ کینےبس کہلاتا ہے۔  سکھا کر خام حالت  میں اسے گردہ اور تیاری کے بعد چرس کہا جاتا ہے۔ گانجا، شاہدانا اور حشیش بھنگ کے ہی مختلف  مرکبات ہیں۔ انگریزی میں  بھنگ اور اس سے تیار کردہ ڈرگ  کو ماری وانا یا کینے بس کا نام دیا جاتا ہے۔

بھنگ اور اس کے مشروبات اور مرکبات کا ذکر تاریخ میں موجود ہے۔ بھارت میں اس کا ذکر اور استعمال سب سے قدیم ہے۔ ویدوں کے مطابق یہ متبرک پودا ہے جوشیو دیوتا ہمالیہ کی پہاڑیوں سے لائے تھے۔ یہ مختلف بیماروں کے خلاف امرت ہے جو انسان کو لافانی کر دیتا ہے۔

عربی میں  اسے قنب ہندی  اور حشیش کا نام دیا جاتا ہے۔ حشیش پودے کی گوند سے تیار کی جاتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کا استعمال باطنی فرقے کے لوگوں سے منسوب ہے۔ جنہیں حشاشین یعنی حشیش کا استعمال کرنے والے۔ انگریزی کا لفظ ایسے سنز اسی عربی نام سے لیا گیا ہے۔ ان کو فدائیین یا خود کش سپاہی کہا جاتا تھا۔ یہ گروہ حسن بن صباح کا پیرو کار تھا۔ جو انہیں حشیش کے نشے میں مدہوش رکھتا اور اسی حال میں انہیں جنت اور حوروں کے قصے سنا کر قتل و غارت کے لئے تیا ر کرتا۔ انہی فدائیین کے ہاتھوں اس نے کئی نامورلوگوں کو قتل کروایا۔ عبدالحلیم شرر کا ناول فردوس بریں انہی فدا ئیین کے بارے میں ہے۔

حکمت عملی

حالیہ اور تاریخ واقعات کی بنیاد پریہ خدشہ موجود ہے کہ بھنگ کے پیچھے بھارت کی مکروہ  سازش کا چہرہ چھپا ہے۔ لیکن بوجوہ اس خدشے کا علانیہ اظہار نہیں کیا جا رہا۔ ہمارے تجزیے کی رو سے اسلام آباد میں بھنگ کی وافر دستیابی کی خبر کو صیغہ راز میں رکھا جائے۔ اس کے لئے مندرجہ ذیل دس اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں ۔

۱۔ ملکی سلامتی کو خطرے کے پیش نظر بھنگ کے بارے مین خدشات کو  راز میں رکھا جا ئے۔

۲۔ اس خدشے کے اظہار سے پاکستان میں نئی بحثیں چھڑ سکتی ہیں جو بھارت کو شر پھیلانے کا موقع دے سکتی ہیں۔  بھنگ کا نام لینے سے سندھ اور پنجاب میں صوبائی عصبیت کی بحث شروع ہو سکتی ہے۔  حشیش کے نام سے فرقہ واریت کی بحث نیا رخ اختیار کر سکتی ہے جس میں حشاشین کے پیروکارسنی شیعہ اختلافات کو ہوا دے سکتے ہیں۔ حتی الوسع کوشش کی جائے کہ اس خدشے کا اظہار نہ ہو۔

۳۔ لوگ بھنگ کے مسئلے میں الجھ گئے تو بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی اور امن پسندی کی کوششیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔

۴۔ یہ بحثیں سوشل میڈیا  تک محدود رکھی جائیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا مابعد الحقائق یعنی پوسٹ ٹروتھ کی دنیا ہے۔ یہاں اندیشے کا اظہار بھی علامتی اور رمزی زبان اور اسلوب میں کیا جاتا ہے ۔ ہمارے ظاہر پرست دشمن  سوشل میڈیا کو فریب سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ سوشل میڈیا کو عوامی تاثرات کا اندازہ کرنے کے لئے بھی استعمال نہیں کرتے۔

۵۔ رسمی میڈیا میں  یہ  معلومات  شائع نہ کی جائیں۔ پاکستانی حکومت یہ تاثر دیتی رہے کہ  یہ بیرونی قوتیں  ہیں جوعوام کو ان باتوں سے بے خبر رکھنا چاہتی ہیں۔ بیرونی قوتوں کو یہی تاثر دیا جائے کہ رسمی میڈیا  کا نگرانی کا نظام بہت سست اور متذبذب ہے۔ وہ ایسی معلومات پر یقین نہیں کرتا اور شائع کرنے سے روکتا ہے۔ بھارت اسی گمان میں رہے کہ اس کی پاکستان کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی سازشوں سے پاکستان میں حکومت اور عوام دونوں بے خبر ہیں۔ بلکہ سرکاری میڈیا اس غلط فہمی کو بڑھاوا دیتا رہے کہ تجارتی روابط میں اضافے کی خواہش کی وجہ سے پاکستان بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ اسی لئے اسلام آباد میں بھنگ کے مسئلے کو ہوا نہیں دی جا رہی۔

۶۔ رمزیہ شاعری دشمن کو دھوکے میں رکھنے کے لئے کی جاتی ہے۔ فیض کے جس شعر کا ذکر ہوا وہ رمزیہ شاعری کی عمدہ مثال ہے۔ کیمو فالج کے لئے اس شعر کو عام کیا جائے

گُلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

یاد رہے یہ شعر کراچی سے اسلام آباد منتقلی کے سیاق و سباق سے تعلق رکھتا ہے۔ بہت سے بیوروکریٹس کراچی چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ کراچی چھوڑنا ایک تو اس لئے ضروری تھا کہ کاروباری طبقہ بیوروکریٹس پر اثر انداز رہتا تھا۔ دوسرے کراچی میں وہ ڈیپتھ نہیں تھی جو اسلام آباد میں ہے۔ تیسرے کراچی میں بھنگ تقریبا نایاب تھی اور اسلام آباد میں وافر۔ اس شعر میں ان بیورو کریٹس کوگلشن کے کاروبار کا واسطہ دے کرجہاں دشمن کی سازشوں سے خبردار کیا  وہاں رنگ بھرے گلوں، اور باد نو بہار کا لالچ دے کر اسلام آباد آنے کے لئے کہا گیا۔ بیورو کریٹس گلشن کے کاروبار کے اس نئے مفہوم کے بارے میں متذبذب تھے۔ مہدی حسن  صاحب نے اسے انتہا ئی کرب کے انداز میں پڑھا بھی کہ بیوروکریٹس کو ان خدشات کی طرف متوجہ کر سکیں لیکن سامعین اسے ان کی گائیکی کا انداز سمجھتے رہے اور بین السطور اور زبان حال کی طرف دھیان نہ دے سکے۔ پھر یا تو کاروباری طبقہ  بر سر اقتدار آتا رہا یا سرکار کاروبار میں مشغول ہوتی گئی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کے خفیہ اوراق ہیں ان کا  راز راز ہی رہنے دیا جائے۔

۷۔ گلشن کے مفہوم میں جواختلافات پیدا ہوے ان کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ یاد رہے اسلام آباد  کی بلدیہ ان اختلافات کے بارے میں واضح نقطہ نظر رکھتی ہے۔ گلشن کا اشارہ  درختوں کی طرف نہیں، صرف پھولوں، پتوں اور پودوں کی طرف ہے۔  اس لئے گلشن کے کاروبار میں درختوں کو شمار نہ کیا جائے۔ بلدیہ نے ایک جانب گلشن اور جنگل میں فرق  واضح کیا۔ دوسری جانب درخت کی واضح تفریق کرتے ہوے جدید ماحولیات کے خد و خال متعین کئے۔ ماحولیات کا تقاضا ہے کہ شہر کو گلشن ہی رہنے دیا جائے جنگل نہ بننے دیا جائے۔ طبعی عمر تو کیا کسی درخت کو پوری طرح جوان ہونے سے پہلے ہی رد فساد کی حکمت عملی کے تحت  کاٹ دینا ضروری ہے۔ گلشن کو فطرت سے قریب رکھنے کے لئے باغ یا باغیچہ نہ بننے دیا جائے۔ ہر وہ پودا جو انسانی قد کا مقابلہ کرنے لگے درخت کی تعریف میں آتا ہے۔ خود رو پودوں کی حوصلہ افزائی کی جا ئے۔

۸۔ بھنگ کو تلف نہ کیا جائے کیونکہ اس کا پودا درخت کی تعریف پر پورا نہیں اترتا

۹۔ اسلام آباد انتظامیہ نے اپنے عمل سے بھنگ کی خود روی، اس کے پھولوں، پتوں اور پودوں کی نظریاتی اور کاروباری افادیت کو ضروری حد تک اجاگر کر دیا ہے۔  اس کی نظریاتی افادیت ایک طرف جنت اور حوروں کی دنیا سے جوڑتی ہے اور دوسری جانب اربوں اور کھربوں کے کاروبار سے ۔ اس سلسلے میں مزید بحث کو روکا جائے۔

۱۰۔ بھنگ کے بارے میں گونا گوں خدشات کو دور کرنے کے لئے سوشل میڈیا پراس ماہ ایک مقالہ بھی شائع ہوا ہے جس میں بھنگ کی نظریاتی اور روحانی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بھنگ کا استعمال بہت قدیم ہے۔ محمد بن قاسم اور ان کی فوج نے بھی اس مشروب سے استفادہ کیا تھا۔ اس لئے بھنگ کو تنگ نہ کیا جائے۔

روایت ہے کہ محمد بن قاسم کی فوج دیبل کی فتح کے بعد تھکی ہاری اندرون سندھ سفر کر رہی تھی ۔ پیاس کے مارے برا حال تھا کہ ایک درخت کے کے نیچے ایک بزرگ اونگھتے نظر آئے۔ محمد بن قاسم نے آگے بڑھ کر ان سے پانی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے اپنے پیچھے مٹکوں کی طرف اشارہ کیا۔ سپہ سالار اور اس کی فوج نے جی بھر کے یہ ٹھنڈا مشروب پیا اور وہیں لیٹ کر سوگئے۔ محمد بن قاسم جاگا تو بزرگ وہیں اونگھ رہے تھے۔ سالار نے شکریہ ادا کیا اورمشروب کا نام پوچھا۔ بزرگ مسکرا کر خاموش ہو گئے۔ بزرگ سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے نہایت انکساری سے بتایا کہ وہ سید قائم علی شاہ ہیں۔

نوٹ۔ اس حکایت کے بارے میں صحیح یا غلط کی بحث نہیں ہوسکتی کیونکہ  عقیدت مند بزرگوں کے بارے میں ان کے روحانی کمالات میں اسی طرح کی کرامات بیان کرتے ہیں۔ البتہ انہی دنوں سوشل میڈیا پر شاہ صاحب کی ایسی تصویریں بھی شائع کی گئیں جن میں وہ اسمبلی میں سوتے دکھائی دئے۔ لوگ ان کی اس کرامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو شاہ صاحب  ہمیشہ پر انکسار مسکراہٹ کے ساتھ  ان  سے منسوب  ایسی تمام کرامات کی تردید کرتے ہیں۔  رنگ میں بھنگ کی سازشوں سے بچنے کے لئے یہ حکمت عملی تیر بہدف ہے۔

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version