Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»دہشت گردی سے متعلق اُمور میں پارلیمان کے کردار کا مطالبہ
    رواں تبصرے

    دہشت گردی سے متعلق اُمور میں پارلیمان کے کردار کا مطالبہ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 12, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹویٹ میں یہ بتایا کہ ان کی جماعت نے اعلی سطحی اجلاس میں دہشت گردی سے جڑے مسائل، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو پارلیمان میں زیربحث لایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام جماعتوں سے اس پر گفتگو کریں گے۔

    پارلیمان قومی مسائل پر بحث ومباحثہ کے لیے سب سے اہم اہم ار مرکزی فورم سمجھا جاتا ہے۔ دہشت گردی کا قضیہ ملک کو درپیش مسائل میں سب سے زیادہ گھمبیر اور اثرات کے اعتبار سے تباہ کن ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پچھلی دو دہائیوں کے دوران اس مسئلہ کے ضمن میں مجموعی طور پہ پارلیمان کا کردار کمزور یا غیرمتعلق رہا ہے۔ حالانکہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود قومی سیاسی فورم کا کردار زیادہ مفید اور فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ ماضی قریب کی کچھ مثالیں اس کی شاہد ہیں جب چند مواقع پر دہشت گردی کا مسئلہ پارلیمنٹ میں زیربحث لایا گیا۔

    پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کا حالیہ بیان ظاہرکرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ٹی ٹی پی کے ساتھ جاری مذاکرات کی پیش رفت سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا اور انہیں اس معاملے پر شدید خدشات ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ سیاسی حلقے کی جانب سے اس مسئلے پر پارلیمان کو اس کا کردار ادا کرنے دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس پر دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی آگے آنا چاہیے، کہ بطور عوامی نمائندوں کے یہ ان کا جمہوری فریضہ ہے۔

    پارلیمان کو نظرانداز کرکے ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ کمزور، غیرووزن دار اور غیرشفاف ہوگا، جس کے نتائج منطقی طور پہ ملکی مفاد بھی نہیں نکلیں گے۔

    پارلیمان ٹی ٹی پی دہشت گردی
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنئے سعودی عرب میں وہابیت اور مذہبی طبقے کے لیے کتنی جگہ باقی رہ گئی ہے؟
    Next Article امن مذاکرات کی قیمت
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by