Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کتابوں پر تبصرہ»’’میرجان‘‘ ایک ناول نہیں بلکہ تاریخ ہے جسے ہمیشہ زندہ رہنا ہوتا ہے
    کتابوں پر تبصرہ

    ’’میرجان‘‘ ایک ناول نہیں بلکہ تاریخ ہے جسے ہمیشہ زندہ رہنا ہوتا ہے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمئی 16, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ’’میر جان‘‘ ہجرت کے دُکھوں سے بے جان ہوتی ہوئی عورت کی داستان ہے۔ ہمارے ہاں ہجرت سے مراد صرف1947ء کی ہجرت لی جاتی ہے لیکن عامر رانا نے اس ناول میں ایک اور ہجرت کی نشاندہی کی ہے جس سے شائد ہم پنجاب والے بے خبر ہیں۔ یہ ہجرت بلوچستان کے خطے مکران میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یہ ہجرت مشرقی افریقہ سے ہوتی ہوئی عمان مسقط تک پھیلی ہوئی ہے جس میں دونوں اطراف کے فریقین شامل ہیں۔ مکرانی ہجرت کے اثرات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کا اثر جنوبی پنجاب اور پھر دہلی تک محسوس کیا گیا۔

    ناول میں ہجرت کا دکھ پوری قوت کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً عورت اس ہجرت میں کس اذیت کا شکار بنتی رہی، وہ عورت جو گھر بناتی ہے اور پھر اسے اپنے محبوب کی طرح پیار کرتی ہے، اسے جب گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے تو دل ودماغ کی کیا حالت ہوتی ہے۔

    عامر رانا نہایت سلجھے ہوئے ناول نگار ہیں۔ قاری کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں محض تصوراتی کہانی جنم نہیں لیتی، وہ ایسی سچائی تلاش کرتے ہیں جس میں زیب داستاں کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ انسانی حقوق اور عقائد پرستی کے خلاف عامر رانا کی مزاحمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ امن کی تلاش اور انسان پر جبر کی روایت سے انحراف ان کا بنیادی مقصد ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ واقعات کو بیان کرنے کا جادوئی حسن بھی جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پہلا ناول’سائے‘ ہو یا تازہ ناول ’میرجان‘ قاری کو پڑھتے ہوئے اپنا تسلسل برقرار رکھنے میں کسی خارجی ذریعے کی مدد نہیں لینا پڑتی۔ ناول کی فضا اور الفاظ کا دروبست ایک ایسا ماحول تخلیق کردیتا ہے کہ ناول کو ایک نشست میں پڑھنا لازم ہوجاتاہے۔

    ہم نے آج تک انڈو پاک کی تقسیم کی کہانیاں ہی پڑھیں، اسی دکھ کو محسوس کیا اور اسی کو احاطہ تحریر میں لائے۔ لیکن عامر رانا نے ہجرت کو مکرانی پہاڑوں سے دریافت کیا ہے۔ اور سچی بات ہے ناول پڑھتے ہوئے یوں لگتاہے گویا یہ ہجرت اپنے درد کے لحاظ سے پہلی ہجرت سے کہیں زیادہ تکلیف رکھتی ہے۔ ناول کا موضوع ہجرت کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی طرف بھی اشارہ کرتاہے جس کے نتیجے میں عقائد اور مسلک کی پیروی نہ کرنے والوں پر زمین تنگ کردی جاتی ہے۔ انتہا پسند گروہ کیسے پروان چڑھتے ہیں اور پھر انہیں کیسے خون کا پیاسا بنا دیا جاتاہے، اس کا بہترین اظہار ’میرجان‘ کی شکل میں سامنے آتاہے۔ میری نظر میں یہ صرف ایک ناول نہیں بلکہ تاریخ ہے جسے ہمیشہ زندہ رہنا ہوتاہے۔

    میرجان ناول
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleافغان طالبان اپنی قدامت پسندی کے اسیر
    Next Article تربت سے گرفتار کی جانے والی مبینہ خودکش بمبار خاتون کون ہے؟ انتظامیہ اور مظاہرین کا موقف
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 30, 2023

    جمہوریت کی موت، کیسے ؟

    اگست 23, 2023

    تبصرہ کُتب: اِن سرچ آف لاسٹ گلوری

    اگست 1, 2023

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by