Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»خواجہ سرا طبقے کے لیے تعلیمی پالیسی
    رواں تبصرے

    خواجہ سرا طبقے کے لیے تعلیمی پالیسی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 22, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سندھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ خواجہ سراؤں کے لیے ’ ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی‘ وضع کررہی ہے، جس کا مقصد صوبے کے اندر اس صنف کو خصوصی تعلیمی سہولیات و وسائل فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ صوبے کے نصاب میں اس صنف سے متعلق مواد شامل کیا جائے گا تاکہ ان کے بارے میں لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے خواجہ سراؤں کے لیے ملتان میں پہلا سکول قائم کیا ہے جہاں ان کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوچکا ہے۔

    خواجہ سرا ملک کا ایسا طبقہ ہے جو اپنی پیدائش سے لے کر موت تک تکلیفوں اور شدید مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ ذریعہ معاش نہ ہونا، صحت کی سہولیات اور عزت واحترام نہ ملنا اور دیگر سماجی محرومیاں زندگی بھر کے لیے ان کا مقدر ہوتی ہیں۔ یہ ملک کے دیگر پسماندہ طبقات سے زیادہ بری حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔

    تعلیم کا مسئلہ براہ راست ان کی شناخت کی مضبوطی اور زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایک سروے  کے مطابق ان کے 72 فیصد سے زیادہ افراد کا خیال ہے کہ تعلیم ان کی زندگی کو تبدیل کرسکتی ہے، لیکن تعلیمی اداروں میں ان کے ساتھ جانبدارانہ اور تحقیرآمیز رویہ اپنایا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں یہ عام تأثر بن گیا ہے کہ وہ سماج کے دیگر افراد کے ساتھ مل جل کر نہیں رہ سکتے۔ اس صنف کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ ابتدائی قدم خوش آئند ہیں۔ اس سے وہ تمام افراد جن کے لیے عام تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا مشکل ہے وہ خصوصی اداروں میں تعلیم حاصل کرسکیں گے۔

    تاہم اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ خواجہ سراؤں کی مجموعی بہبود، انہیں تحفظ فراہم کرنے اور ان کو درپیش تمام مسائل کے حل کے لیے ملکی سطح پر قانون سازی کی جائے اور عوام میں آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔ تعلیم کے علاوہ انہیں ہنر سکھانے کے لیے بھی مخصوص ادارے قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ ان کے ذریعہ معاش کا بندوبست ممکن ہو اور وہ عزت کے ساتھ روٹی کما سکیں۔ خواجہ سراؤں کو خودمختار بنانے کے لیے ریاست اور سماج دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    تعلیم خواجہ سرا
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسانحہ سیالکوٹ کے مجرموں کو سزا، ایک خوش آئند فیصلہ
    Next Article پاکستان میں مذہبی طبقے کا بدلتا سخت گیر تحریکی چہرہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by