Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»عمرشیخ کی رہائی اور پاکستان کے لیے ممکنہ مشکلات
    رواں تبصرے

    عمرشیخ کی رہائی اور پاکستان کے لیے ممکنہ مشکلات

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجنوری 28, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے رہائی کے سابقہ حکم کو کالعدم قرارد دینے کے لیے دائر کردہ اپیل کو مسترد کرتے ہوئے صحافی ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزم عمرشیخ کی فوری رہائی کا فیصلہ سنایا ہے۔ 2002ء میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے صحافی ڈینیل پرل کو اغوا کے بعد قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی، جس پر اپیل کا فیصلہ اپریل 2020ء میں سنایاگیا تھا، اس میں سندھ ہائی کورٹ نے سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے سات سال قید کی سزا میں تبدیل کردیا تھا، جو عمرشیخ پہلے ہی پور کرچکے تھے۔ تاہم سندھ حکومت نے نقص امن کے خطرے کے باعث انہیں رہا نہیں کیا اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی کہ موت کی سزا کو بحال کردیا جائے۔ مگر آج سپریم کورٹ کے بینچ نے یہ فیصلہ سنایا کہ ملزم کو فوری رہا کردیا جائے۔

    پاکستان میں عمرشیخ کا مقدمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور صحافی برادری کی خاص نظر ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کا دباؤ بھی موجود ہے۔ جب بھی ملک میں ڈینیل پرل کیس میں ملزم کی رہائی کے امکان کی بات ہوئی ہے تو پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی صحافی کا قتل ہے تاہم عمرشیخ کی عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ وابستگی اور ماضی کا کردار اسے مزید خطرناک بناتا ہے۔ اس لیے پاکستان پر ہمیشہ یہ دباؤ رہا ہے کہ اسے رہا نہ کیا جائے۔ خود پاکستان بھی اسے رہا کرنے کا متحمل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ہائی کورٹ کے سابقہ رہائی کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں رجوع کیاگیا۔

    عمرشیخ کی رہائی سے دہشت گرد تنظیموں کو حوصلہ ملے گا۔ حزب التحریر اور القاعدہ جیسی جماعتوں کے ساتھ ماضی کی وابستگی اسے عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھی اہمیت کا حامل اور پرکشش بناتی ہے جو پاکستان کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کا دباؤ بھی مزید بڑھے گا اور پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ عمرشیخ کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی یا رہائی تک ریاست کو ہر فورم پر عالمی برادری کے دباؤ کا مسلسل سامنا رہے گا۔

    واضح رہے کہ ملزم کی رہائی کے امکان کے پیش نظر دسمبر میں امریکی اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ امریکا ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث ملزم کو انصاف کا سامنا کرنے سے بچنے نہیں دے گا اور یہ کہ وہ اپنے ملک میں عمرشیخ پر مقدمہ چلانے کے لیے تیار ہے۔

    ڈینیل پرل کیس عمرشیخ
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمولانا وحیدالدین خان، سیکولرزم اور بھارت کے مسلمانوں کی مذہبی قیادت
    Next Article جب ٹائی ٹینک ڈوب رہا تھا
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by