Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ہزارہ کی دادرسی نہ کرنے سے دہشت گردوں کو مزید تقویت ملے گی
    رواں تبصرے

    ہزارہ کی دادرسی نہ کرنے سے دہشت گردوں کو مزید تقویت ملے گی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجنوری 5, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دو دن قبل بلوچستان کے علاقے مچھ میں ایک کوئلے کی کان میں ہزار برادری سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کو بے دردی قتل کردیا گیا تھا۔ مقتولین کے ورثاء میتوں کے ساتھ سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم ان کے پاس آکر ان سے بات کریں اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

    ہزارہ برادری کے دس جنازے ایک بار پھر سڑک پر پڑے ہیں اور وہ سخت تکلیف میں ہیں۔ ہزارہ اپنی جان کے تحفظ کی یقین دہانی اور اس کے لیے عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ ان کی دادرسی میں تاخیر سے نہ صرف یہ کہ متأثرین کی اذیت میں اضافہ ہوگا بلکہ اس عمل سے دہشت گردوں کو بھی پیغام ملتا ہے کہ ہزارہ لاوارث ہیں۔ کیا اس سے دہشت گردوں کو مزید تقویت نہیں ملے گی؟ شاید اس خاموشی سے خود ریاست کا کمزور ہونا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہزارہ کو دینے کے لیے سوائے مذمتی بیانات کے عملاََ اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ مسائل سے صرف نظر یا ضروری اقدامات میں تاخیر سے اقلیتوں کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچتی ہے اور ملک کی شبیہ بھی مزید متأثر ہوتی ہے۔

    ہزارہ برادری دہشت گردوں کا سالوں سے ہدف بنی ہوئی ہے۔  اگر ہزارہ سے تعلق کا مطلب یہ بن گیا ہو کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو یہ انہیں اس طرح بھی متأثر کرتی ہے کہ دوسرے لوگ خوف کی وجہ سے ان سے ربط نہیں رکھیں گے، اپنے ساتھ کام کرنے دینے سے بھی انہیں ڈر محسوس ہوگا۔ اس نوع کے مسلسل واقعات انہیں زیادہ تنہا اور کمزور کر رہے ہیں۔ ایسے میں ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انہیں ہر طرح سے اعتماد دے۔

    اس برادری نے کبھی بھی اپنے لیے ملازمت، صحت یا تعلیم جیسے مسائل کے لیے احتجاج نہیں کیا، وہ اپنی جان کے تحفظ کی یقین دہانی کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ اس دوران بھی وہ ریاست سے التجا و فریاد کر رہے ہوتے ہیں کہ متعلقہ شخصیات ان کے پاس آئیں اور انہیں بتائیں کہ وہ زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    دہشت گردی ہزارہ برادری
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتشدد کی جائز شکلیں: ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟
    Next Article ادیب نما مسخروں کا دور 
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by